- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

"لوگ کیا کہیں گے” ( افسانہ ) از محمد طیب نوید

"What will people say" (fiction) By Muhammad Tayyab Naveed

0 73

وہ اکثر آدھی آدھی رات تک تاروں کو گنتی رہتی اور سوچوں میں فقط اسی دلربا کے خیالات محوِ گردش رہتے۔

لیکن کبھی ہمت نہ ہوئی کہ کچھ کہہ سکے۔

آج تو شدتِ یاد میں اس قدر جذبات مچل رہے تھے گویا وہ کہیں آس پاس ہی موجود ہو۔

لیکن حقیقت تو یہی تھی کہ وہ پاس ہو کر بھی بہت دور تھا۔

وہ اکثر یہی سوچتی رہتی کہ کب وہ حسن زادہ اس کے روبرو ہو کر اقرارِ محبت کرے گا۔

اس کے خیالات میں فقط تصویرِ یار ہی رچی بسی رہتی۔

کسی اور کا خیال، کسی اور کو سوچنا کجا تھا۔

دن راتیں بس یونہی بسر ہوتی رہیں اور میرب کے اندر عشق کا شولہ مزید بھڑکنے لگا۔

وہ خیال ہی خیال میں محسن کو خود کے پاس محسوس کرتی اور خود کلامی کو ہی اس سے کلام کرنا سمجھتی رہتی۔

"میرے پیارے محسن، میرے شہزادے محسن
تیرے عشق نے مجھے اس قدر نڈھال کر دیا ہے
کہ سوا تیرے اب یہ دنیا میرے لیے بیکار ہے
بس تیرے عشق میں ہی میری زندگی کی بقا ہے
جب تو میرے پاس ہے تو مجھے اس دنیا سے کچھ غرض نہیں

میں تو فقط تیری دھڑکنوں کو اپنے دل میں دھڑکتا محسوس کر کے اپنے شب و روز گزار رہی ہوں
میرے دلکش و دلنشیں محبوب۔۔۔

فقط تیری ہی صورت میری آنکھوں میں سمائی رہتی ہے

تیری روشن پیشانی کی چمک ہی میرے ان دو نینوں کی نورانیت ہے

تیری پلکیں میرے دل پر لمحہ بلمحہ وار کرتی ہیں

تیرے گلابی گال ہر وقت شرابور محسوس ہوتے ہیں

تیرے لب جب ہلتے ہیں تو ان کا جام میں اپنے ذائقے میں محسوس کرتی ہوں۔۔۔۔

اے حسینانِ جہاں۔۔۔۔ بس تو ہی باعثِ تسکین و جاں ہے۔”

میرب ہر وقت محسن کو اپنے پاس محسوس کرتے ہوئے اس سے محوِ کلام رہتی۔

_________

میرب اگرچہ محسن سے بے پناہ محبت کرتی تھی لیکن اس نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کا محسن سے محبت سے کرنا ٹھیک ہے یا نہیں۔

کیونکہ میرب ایک یتیم اور قدرے بھاری جسامت کی لڑکی تھی۔ بچپن میں ہی اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔ اس کی ماں محلے کی خواتین کے کپڑے سلائی کر کے بمشکل اپنا اور میرب کا گزر بسر کرتی تھی۔

جبکہ محسن علاقہ کے ایک امیر کبیر شخص چوہدری فخر دین کا لاڈلہ اور اکلوتا بیٹا تھا۔ خوب رو جوان اور خوبصورت شکل و صورت کا مالک اپنے باپ کی مکمل جاگیر کا اکلوتا وارث تھا۔

میرب اسے اکثر کالج سے آتے جاتے دیکھا کرتی تھی اور اسی تکرار میں اپنا دل محسن کے قدموں میں نچھاور کر بیٹھی تھی۔

میرب کی یہ اضطرابی حالت دیکھ کر اس کی ماں اکثر پریشان رہتی۔ آخر ایک دن اماں نے اس سے پوچھ ہی لیا۔

"نی میری سوہنی دھی! تو کیوں اتنا اداس اداس رہتی ہے؟”

میرب اماں کی بات سن کر چونک گئی۔

"کچھ نہیں اماں۔۔۔۔ میں تو ٹھیک ہوں”۔ اس نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا۔

"دیکھ میں تیری ماں ہوں اور مائیں بچوں کی حالت دیکھ کر ہی سمجھ جاتی ہیں”۔ اماں نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔

"نہیں اماں۔۔۔ وہ بس پڑھائی کی کچھ ٹینشن ہے.” میرب نے تھوڑا حوصلہ کر کے کہا۔

"نہیں میرب۔۔۔ بات کچھ اور ہے۔ میں نے دیکھا ہے تو اکثر پوری پوری جاگتی رہتی ہے اور کہیں خیالات میں کھوئی رہتی ہے۔” اماں نے اصرار کرنا شروع کر دیا۔

میرب پریشان تھی کہ اماں کو کیا جواب دے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ ایک یتیم لڑکی ہے اور یہ سب باتیں اس کی اماں کو پریشان کر دیں گی۔ اماں نے اصرار کے باوجود وہ نا نا کرتے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

اب اسے یہ بات بھی تنگ کرنے لگی تھی کہ وہ اماں کو کیا جواب دے گی۔

یوں ہی دن گزرتے گئے اور یہ محبت کی داستاں یوں ہی طول اختیار کرتی گئی۔ محسن روز میرب کے راستے میں میں کھڑا ہوتا اور میرب روز اسے دیکھ کر گزر جاتی۔

میرب کو معلوم نہیں تھا کہ محسن کے دل میں اس کے لیے کچھ ہے یا نہیں۔

ایک دن جب میرب کالج کے لیے نکلی تو دو گلیاں چھوڑ کر ہی محسن اس کے انتظار میں اپنی پلکیں بچھائے کھڑا تھا۔

آج محسن نے بھی ارادہ کر لیا تھا کہ وہ میرب سے اپنے دل کی بات کہہ ڈالے گا جبکہ میرب کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ محسن بھی اس کے بارے اپنے دل میں احساسات رکھتا ہے۔
"السلام علیکم میرب۔۔۔!!!”

محسن کی پرسوز آواز جب میرب کی سماعتوں سے ٹکرائی تو اس پر سکت طاری ہو گئی۔

آج پہلی مرتبہ کسی دلکش و حسیں آواز نے میرب کو پکارا تھا اور یہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ اس کے اپنے محبوب کی آواز تھی۔ اس میں جواب دینے کی ہمت نہ تھی۔

وہ خاموشی سے چلتی گئی۔

"میرب۔۔۔ میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔”
محسن کی اس بات نے میرب پر کپکپی طاری کر دی۔
"وعلیکم السلام”. اس نے بمشکل سلام کا جواب دیا۔

"وہ میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔” محسن پر بھی عجب کیفیت طاری تھی۔
میرب خاموش کھڑی تھی۔

"وہ میں۔۔۔ میں آپ کو بہت پسند کرتا ہوں اور روز آپ کے انتظار میں یہاں کھڑا آپ کی راہیں تکتا رہتا ہوں۔” محسن نے بڑی ہمت کر کے اپنی بات مکمل کی تھی۔
میرب کی کیفیت تو یہ تھی کہ وہ مکمل پسینے سے شرابور ہو چکی تھی۔

میرب تیز تیز قدموں سے چلتی کالج پہنچی اور سارا دن اس کی سماعتوں میں اس کے حسیں محبوب کی آواز گونجتی رہی۔ بمشکل کالج کا وقت گزرا اور وہ واپس گھر پہنچی۔

گھر آتے ہی اس نے خود کو کمرے میں بند کر لیا اور بس محسن کی زبان سے نکلا ہوا لفظ "میرب” محسوس کر کے وہ عشق کے جھولے میں سوار رہی۔

_________
محسن کے اظہار محبت کو ایک ہفتہ گز چکا تھا لیکن میرب کو ہمت نہ ہو سکی کہ وہ کوئی جواب دیتی۔ وہ من ہی من میں بہت خوش بھی تھی اور حیران بھی کہ کیسے ایک امیرزادے خوبصورت لڑکے کو اس سے محبت ہو گئی۔

آخر اس رات اس نے فیصلہ کیا کہ اگلی صبح وہ محسن سے اپنے دل کی داستاں بھی بیاں کر دے گی۔
صبح جب وہ کالج کے لیے نکلی تو ہمیشہ کی طرح محسن دل و جاں میرب کے لیے فرشِ راہ کیے اس کا منتظر کھڑا تھا۔

محسن نے آج بھی خود پہل کی۔

"السلام علیکم میرب۔۔۔ میں منتظر ہوں تمہارے جواب کا”.

میرب کی پھر وہی کیفیت ہوگئی اور لبوں کو جیسے کسی نے سی دیا ہو۔

محسن کیا جانتا تھا کہ وہ تو اس سے بھی پہلے اس کی محبت میں گرفتار ہو کر اسے اپنا دل و جاں اور خیالات کا مالک بنا چکی تھی، اب تو فقط لفظوں کا جامہ پہنا کر اظہار کرنے کی تاخیر تھی۔

"وعلیکم السلام۔۔۔۔” لرزتی ہوئی آواز کے ساتھ میرب نے ہمت کا پہاڑ باندھ کر جواب دیا۔

"میرب میں جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔ تمہارے احساسات، تمہارے خیالات میں آنے کی اجازت ہے مجھے؟؟؟”

میرب محسن کی اس بات سے سوچ میں پڑ گئی کہ

"اے میرے مہرباں… میں تجھے کیا بتاؤں کہ تو میرے خیالات و احساسات ہی نہیں بلکہ روح و جاں میں رچ بس چکا ہے. تیری جستجو میں ہی میرے روز و شب گزر رہے ہیں۔”

"کہاں کھو گئی میرب۔” محسن نے پھر اسے مخاطب کیا۔

"ہاں محسن۔۔۔ میں بھی آپ کو بہت چاہتی ہوں اور دل و جاں سے محبت کرتی ہوں.”

ناجانے میرب میں کہاں سے اتنی ہمت آگئی کہ اس نے محسن کے سامنے اقرارِ محبت کر دیا اور تیز قدموں سے چل پڑی۔

محسن کی تو گویا کوئی لاٹری لگ گئی۔ وہ خوشی میں جھومتا گھر پہنچا اور بالکل پاگلوں سی حرکتیں کرنا شروع ہو گیا۔

اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی پوری زندگی میرب کے ساتھ گزارے گا اور اسے ہی اپنے دل و جاں کی ماہ رانی بنائے گا۔

اظہار و اقرار محبت کے بعد ایسے ہی مختصر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اور دونوں میں محبت شدید سے شدید تر ہوتی گئی۔

پھر وہ دن بھی آیا کہ محسن نے میرب سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔

میرب بھی تو یہی چاہتی تھی لیکن ایک پل کے لیے اس کے دل میں عجیب سے خیالات امڈنے لگے۔

اس کے اندر وہ یتیمی کے احساسات جاگ اٹھے اور وہ افسردگی کی کیفیت میں چلی گئی۔

وہ جانتی تھی محسن اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا اور اپنی خاندانی جاگیر کا اکلوتا وارث ہے۔

کیا اس کے والدین یہ تسلیم کر لیں گے؟؟؟

کیا وہ ایک یتیم اور بھاری جسامت کی لڑکی کو اپنی بہو بنائیں گے؟؟؟؟

کیا میری ماں ان کی شان و شوکت کے مطابق مجھے جہیز دے سکے گی؟؟؟

کیا وہ اپنے بیٹے کی محبت کو تسلیم کر کے اپنی برادری کے طعنوں کو برداشت کریں گے؟؟؟؟

یہ سوالات اور اس کے متعلق اور بھی سوالات اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے۔

"میرب یہ تم بار بار کہاں کھو جاتی ہو؟؟؟”

محسن نے اضبطراب سے کہا۔

"نہیں کہیں نہیں۔۔۔۔” میرب کے لبوں سے بمشکل یہی تین لفظ نکل سکے۔

"تو بتاؤ تم بنو گی میری دلہن۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے پھر وہی سوال دہرایا تھا۔

"محسن تم جانتے ہو میرا تعلق کس خاندان سے ہے، میں ایک یتیم لڑکی ہوں جس کے سر پر نہ باپ کا سایہ ہے اور نہ ہی بھائی کا۔ میرا سب کچھ تو میری ماں ہے جو دن رات میری فکر میں کھوئی رہتی ہے۔ کیا تمہارے والدین ایک ایسی لڑکی کو قبول کریں گے؟؟؟”

میرب کی اس بات نے تو جیسے محسن کے پیروں تلے سے زمین ہی کھینچ لی۔ وہ اس کی آنکھوں میں موجود محرومیت کو محسوس کر چکا تھا۔

"میرب میں تمہارے لیے ہر حد تک چلا جاؤں گا۔ میں اپنے والدین کے سامنے ڈٹ جاؤں گا اور تمہیں ہر حالت میں حاصل کر کے رہوں گا۔” اس نے میرب کا ہاتھ پکڑ کر اپنی شدتِ محبت کا اظہار کیا تھا۔

"نہیں محسن تم اس سماج کو نہیں جانتے، یہاں یتیموں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے تم نہیں جانتے۔

تم یہ بھی نہیں جانتے کہ لوگ تنہا رہنے والی ماں اور بیٹی کے بارے کیسا سوچتے ہیں۔

ہمیں تو ہمارے خاندان کے افراد نے تسلیم نہ کیا تمہارے والدین کیسے تسلیم کریں گے۔”

اس کے لفظوں میں موجود درد اور بے بسی کو محسن محسوس کر سکتا تھا۔

________

پچھلی ملاقات نے محسن کو خیالات کے کسی دور صحرا میں پھینک دیا تھا جہاں صرف ویرانہ ہی ویرانہ تھا۔ وہ کسی صورت میرب کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔

آخر محبت کی آگ ہی ایسی ہے کہ ہر ہر آنسو اس میں شدت پیدا کرتا جاتا ہے۔

میرب آج بہت دنوں کے بعد ملنے آئی تھی۔

محسن کے ذہن میں ابھی تک میرب کے وہ تمام سوالات گردش کر رہے تھے۔

"میرب میں آج اپنے ابا سے بات کروں گا۔”

محسن نے پہل کرتے ہوئے کہا تھا۔

"کیا کہو گے ابا سے؟؟؟ یہی کہ مجھے ایک غریب اور یتیم لڑکی سے محبت ہوگئی ہے؟؟؟”
"میرب! تم ایسا کیوں سوچتی ہو؟؟؟”

"میں ایسا نہیں سوچتی۔۔۔ بلکہ وہ کہتی ہوں جو اس معاشرے میں دیکھتی ہوں۔” میرب کی آنکھوں میں محرومیت کے آثار واضح تھے۔

"دیکھو۔۔۔ یہ زندگی میں نے گزارنی ہے تمہارے ساتھ۔ پھر ہم ان لوگوں کے بارے کیوں سوچیں۔”

محسن کی بات نے میرب کو چونکا دیا تھا۔

"یہ تم کہہ رہے ہو؟؟؟ جاؤ ذرا اپنے ابا سے تو پوچھو کہ ان کے لیے یہ دنیا کتنی اہمیت رکھتی ہے۔”
"ہاں میں کروں گا ابا سے بات اور ان کو منا کر رہوں گا۔ میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر، شادی کروں گا تو فقط تمہارے ساتھ۔۔۔”

محبت ہے ہی ایسی کہ جب گلے پڑ جائے تو پھر دنیا کے ہر طوق بے معنی ہو جاتے ہیں، پھر سب دولت، شہرت بھول جاتی ہے۔ اگر کوئی چیز معنی رکھتی ہے تو فقط طلبِ محبوب۔۔۔۔۔

محسن نے ٹھان لیا تھا کہ آج وہ اپنے ابا جی سے بات کر کے رہے گا۔ اس کو کچھ خیال نہ تھا کہ اس بات کا ردِ عمل کیسا ہو گا۔

شام کے وقت جب ابا جی ڈیرے سے گھر واپس آئے تو محسن ان کے قدموں میں بیٹھ کر ان کے پاؤں دبانے لگا۔

"ماشائاللہ۔۔۔ میرا پتر! کیا بات ہے؟؟؟ آج اپنے ابا کی بڑی سیوا کر رہے ہو۔”

ابا نے شفقت سے محسن کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

"ابا! آپ سے ایک بات کرنی تھی۔” لڑکھراتی آواز سے محسن نے کہا تھا۔

"ہاں ہاں میرا پتر، ایک چھوڑ کے تو دس باتیں کر۔۔۔”

"ابا آپ نے زندگی میں میری ہر خواہش پوری کی ہے، میں نے جو مانگا، جو نہ مانگا آپ نے سب مجھے دیا۔”

محسن نے تمہیداً بات شروع کی تھی۔

"لے میرے پتر، تو تو میرا اکلوتا، لاڈلا پتر ہے، تیرے لیے ہی تو سب کرتا ہوں۔”

ابا کے یہ الفاظ جیسے محسن کو ہمت دے رہے تھے۔

"تو ابا آج بھی میں آپ سے کچھ مانگنا چاہتا ہوں۔”

نظریں جھکائے محسن اصل بات کی طرف آرہا تھا۔

"کھل کے بول میرا پتر، کیا چاہیے ابا کی جان کو؟؟؟

تیرے لیے تو دل و جان حاضر ہیں۔”

"ابا میں۔۔۔۔ میں”۔ محسن کی زبان جیسے کسی نے پکڑ لی تھی۔

"او بول بھی میرے شہزادے۔۔۔ ایسا کیا ہے جو تو بول ہی نہیں پا رہا”.

"ابا میں کسی لڑکی سے محبت کرتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں”.

محسن نے کہہ ہی ڈالا۔

ابا کا ایک دم سے موڈ بدل گیا، چہرے کے اثرات بدل گئے۔

بہت مشکل سے ابا نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے محسن کو سمجھانا شروع کیا۔

"او لے پتر، بس اتنی سے بات تھی، دیکھ پتر یہ محبت شحبت کچھ نہیں ہوتی۔ بس آنکھوں کا دھوکہ ہے سب۔۔۔”

محسن نے ایک دم ابا کی طرف دیکھا تھا۔

"نہیں، ابا وہ بہت اچھی لڑکی ہے، وہ بدلنے والی لڑکیوں میں سے نہیں ہے۔۔۔”

"پتر یہ سب باتیں ہوتی ہیں۔ تو ابھی ناسمجھ ہے تو نہیں سمجھے گا۔”

ابا نے محسن کی بات کاٹتے ہوئے کہا تھا۔

"ابا آپ ایک بار دیکھ تو لو اسے۔۔۔۔”

محسن نے اصراراً کہا۔

"اچھا۔۔۔ چل پھر بتا کون ہے وہ؟؟؟”

اب محسن نے پھر سے نظریں جھکا لیں۔

"ابا وہ۔۔۔۔ وہ ساتھ والے محلے میں مستری اللہ یار (مرحوم) کی بیٹی میرب ہے۔”

مستری اللہ یار کا نام سنتے ہی ابا جی تیش میں آگئے۔

"کیا؟؟؟ تیرا دماغ تو ٹھیک ہے؟؟؟ تو چوہدری فخر دین کا بیٹا ہو کر اس غریب اور یتیم لڑکی سے شادی کرے گا۔”

وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

ابا کی کیفیت دیکھ کر محسن نے رنگ اڑ گئے تھے۔

"ابا۔۔۔ کیا فرق پڑتا وہ غریب ہے۔ اللہ کا دیا سب کچھ تو ہے ہمارے پاس۔ پھر ہم کیا کریں گے کسی سے کچھ لے کر”

محسن آج پہلی بار اپنے ابا کے سامنے بول رہا تھا۔

"فرق پڑتا ہے، آخر لوگ کیا کہیں گے، تم کیا چاہتے ہو کہ میں برادری میں اپنی ناک کٹوا لوں اور ٹکے ٹکے کے لوگوں کی باتیں سنوں تمہاری اس یتیم اور غریب لڑکی سے شادی کروا کے۔۔۔”

ابا کا جلال بڑھتا جا رہا تھا۔

"دیکھ محسن!میں نے زندگی میں تیرے سب لاڈ اٹھائے ہیں لیکن یہ کام میں ہرگز نہیں کروں گا، تو بھول جا اس لڑکی کو۔”

ابا اتنی بات کہہ کر اٹھ کر چل دیے۔

محسن پر تو جیسے آسمان آگرا تھا۔ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔

محسن نے بہت کوشش کی اپنے ابا کو منانے کی لیکن وہی ہوا جو اس بے درد معاشرے کے ہاتھوں مجبور ہو کر لوگ کرتے آرہے ہیں۔

آج ایک اور محبت سماج کی رسم و رواجوں کی بھینٹ چرنے جا رہی تھی۔

محسن کی لاکھ کوشش کے باوجود سماج کے طعنوں اور اپنی ناک بچانے کی خاطر چوہدری فخر دین نے اپنا اکلوتا بیٹا کھو دیا۔

کیونکہ بات صرف اتنی سی تھی "لوگ کیا کہیں گے”.

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -