- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

برفیلے پہاڑوں میں گزرے دو دِن (قاسم علی شاہ)

Two days in the snowy mountains (Qasim Ali Shah)

0 94

میرے ہاتھ گاڑی کے اسٹیرنگ پر تھے اور سامنے لمبی سیاہ سڑ ک تھی۔یہ 631کلومیٹر کا فاصلہ تھا جو مجھے خود ڈرائیور کرنا تھا. میں لاہور سے روانہ ہوا اور چشم تصور میں مالم جبہ کی برف پوش پہاڑ، اونچے اونچے درخت اور ٹھٹھرتی سردی میں گرم چائے سے لطف اندوز ہونے لگا۔

 

میٹھے چشموں، شفاف پانی کے بہتے دریاؤں، تروتازہ پھلوں اور صحت بخش آب وہوا کا حامل یہ علاقہ ’’وادی سوات ‘‘کہلاتا ہے جس کو پاکستان کا سویزر لینڈ کہا جا تا ہے. یہ بات بالکل ٹھیک ہے ،

 

کیونکہ یہاں بکھرے قدرتی جلوے قدم قدم پر انسان کو سورۃ رحمان کی یہ آیت دلاتے ہیں کہ ’’پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟‘‘اور صرف قدرنی مناظر ہی نہیں بلکہ یہاں پائے جانے والے پھل اور میوہ جات کا ذائقہ بھی اپنی مثال آپ ہیں ۔

 

- Advertisement -

اس خطے میں آپ کو اعلیٰ معیار کے سیب ،ناشپاتی ، آڑو ، املوک ، مالٹے اورزیتون کے باغات کثرت کے ساتھ ملیں گے۔یہاں گرمی کے موسم میں دنیا بھر کے سیاحوں کی آمد سے تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی اور جب موسم انگڑائی لیتا ہے ،

 

دسمبر کا مہینہ شروع ہوتا ہے اور یہاں کے پہاڑ برف کا لباس اوڑھ کر جلوہ افروز ہوجاتے ہیں تواس ٹھنڈے حسن کو دیکھنے کے لیے بھی قدردان لوگ یہاںکا رُخ کرتے ہیں۔

 

قدرتی مناظر سے معمور یہ خطہ اس لحاظ سے بدقسمت رہا کہ اس نے اپنے وقت کی بدترین دہشگردی کا سامنا کیا لیکن بڑی بہادری کے ساتھ دفاع بھی کیا ۔اگرچہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوکر یہاں سے ہجرت کرگئے لیکن پھر اللہ نے کرم کیا ،

 

اس کی تابانیاں لوٹ آئیں اور اس خطے نے ایک بار پھر اپنے چاہنے والوں کے لیے اپنے دل کے دروازے کھول دیے۔

 

کچھ عرصہ قبل سوات تک جانے والا راستہ کافی طویل تھا لیکن اب ٹنلز اور سوات موٹروے کی بدولت سفر مختصر اور آرام دہ ہوچکا ہے. کرنل شیرخان انٹرچینج سے ہوکر ہم سوات موٹروے پر آئے ، راستے میں ’’قیام و طعام‘‘ کا بندوبست بھی ہے ،جہاں آپ کھاپی سکتے ہیں اور لحظہ بھر کے لیے آرام کرسکتے ہیں۔

 

سفر رواں دواں تھا ، کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد اچانک اندھیرا چھاگیا اور تب محسوس ہوا کہ ہم سوات ٹنل میں داخل ہوچکے ہیں ۔ٹنل کیا تھا ، ایک لمبی سرنگ ، جس میں موجود زرد لائٹیں وہاں کے اندھیرے کومٹانے کی بھرپورکی کوشش کررہی تھیں۔ٹنل میں میں سفر کا اپنا ہی لطف آیا۔

 

 

سڑک آہستہ آہستہ دشوار ہوتی جارہی تھی،بعض مقامات پر تنگ پڑجاتی ۔ سائیڈوں پر لگے بلاک کے نیچے گہری کھائیاں تھیں ، جنہیں دیکھ کرانسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ۔کھائیوں کے سامنے پہاڑ تھے جو سرو کے درختوں سے بھرے ہوئے تھے اور بہت ہی دلفریب نظارہ پیش کررہے تھے۔

 

راستے میں بھیڑ بکریاں بھی چرتی ہوئی ملیں جو اس سارے ماحول کو حقیقی طورپر نیچرل بنارہی تھیں۔ نظاروں میں سے ایک بہترین نظارہ ’’دریائے سوات ‘‘ کا بھی تھا ۔

 

بلند وبالا پہاڑوں اور چشموں سے نکلنے والا یہ دریا ایک پورے خطے کو سیراب کررہا ہے۔بلندی سے دیکھیں تو سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا یہ چھوٹا لگتا ہے لیکن قریب آنے پراس کے پانی کی ٹھنڈک اور تیز رفتاری کو اچھی طرح محسوس کیا جاسکتا ہے۔

 

سفر میں میرے ساتھ پاکستان کے معروف فارماسوٹیکل کمپنی کے مارکیٹنگ ہیڈ عرفان علی صاحب بھی تھے۔ہماری منزل مالم جبہ تھی۔ مالم جبہ میں قیام کے حوالے سے بہترین جگہ PCہوٹل ہے،یہ غالباً یہاں کا واحد فائیو اسٹار ہوٹل ہے۔

 

ہلکے براؤن کلر میں بنی ایک وسیع عمارت ، دیکھنے میں بڑی جاذب نظر لگ رہی تھی۔PCہوٹل ہاشو گروپ او سمسن گروپ کا مشترکہ ہے ۔اس ہوٹل کا ماحول اور دیگر چیزیں بہترین اور نفاست سے بھرپور ہیں ۔کھانے لذیذ اور اسٹاف کا رویہ انتہائی ملنسار ہے۔

 

ہما را قیام بھی یہیں تھا۔مالم جبہ میں یہ ہوٹل کسی نعمت سے کم نہیں۔ایک شام وہاں کا شیف(باورچی)مجھ سے ملنے آیا او ر کہنے لگا کہ ’’سر ! میں عرب فوڈز بھی بنالیتا ہوں ۔‘‘میں نے Couscous(ایک عرب ڈش)کی فرمائش کی اورشیف کی مہربانی سے رات کے کھانے میں وہ ڈش میرے ٹیبل پر موجود تھی ۔

 

- Advertisement -

جیسے ہی ہم PC ہوٹل پہنچے تو ہوٹل کے مینجرعقیل عباسی نے اپنے اسٹاف کے ساتھ ہمارا بھرپور استقبال کیا۔میرے لیے ڈیولیکس روم مختص کیا گیا تھا لیکن سمسن گروپ کے CEOوسیم الرحمان صاحب نے کمال کی محبت دکھاتے ہوئے اپنی ٹیم سے کہا کہ شاہ صاحب کے لیے ’’گورنر روم‘‘ بک کروائیں۔کمرے میں پہنچ کر میں نے سامنے دیکھا تو بالکنی سے باہر پوری وادی برف سے ڈھکی ہوئی تھی ۔

 

ہوٹل کے ساتھ ایک چیئر لفٹ بھی تھی جو بائیں جانب پہاڑی کی چوٹی تک جاتی تھی ۔اس چیئر لفٹ کے ذریعے پہاڑ پر پہنچ کر گرم چائے اور پکوڑوں کے ساتھ موسم کو انجوائے کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہے،چنانچہ ہم نے بھی وہاں جانے کاارادہ کیا۔

 

چیئرلفٹ میں بیٹھے۔چیئر لفٹ چلتی چلتی اچانک بادلوں میں چھپ جاتی او ر کچھ لمحوں بعد ہم کھلے ماحول میں ہوتے۔بلندی، آس پا س میں برف باری اور بھرے بادلوں میں سفر، بڑا ہی شاندار تجربہ رہا۔

 

بالآخرپکنک پوائنٹ پہنچے ۔میں نے چترالی پکو ل اور ماسک پہنا ہوا تھا اس مصلحت کے ساتھ کہ پہچانا نہ جاوں اور خواہ مخواہ کی بھیڑ نہ لگ جائے لیکن ۔۔۔۔۔میں پکڑا گیا۔اچانک وہاں موجودلوگوں نے اونچی آواز سے چلا نا شروع کیا:

 

’’یہ تو قاسم علی شاہ ہیں۔‘‘’’یہ توقاسم علی شاہ ہیں۔‘‘

یونیورسٹی اور کالجز کے بے شمار بچے مجھ سے ملنے لگے ، سیلفیاں لینے لگے ۔ان سے فارغ ہوکر جب میں نے بلندی سے اپنے اردگرد دیکھا تو قدرت کے حسین نظاروں اور دلکش نعمتوں کو دیکھ کر بے اختیار دِل سے نکلا: سبحان اللہ۔عرفان علی صاحب میرے ساتھ تھے ،

 

ان کے ساتھ میری کافی پرانی دوستی ہے اس وجہ سے ہمارے پاس گفتگو کے لیے بے شمار موضوعات تھے ، جن پر ہم باتیں کرتے رہے ۔جب چیئر لفٹ کے ذریعے برف پوش پہاڑ کی چوٹی سے نیچے آئے تو سردی سے ٹھٹھررہے تھے ،لہٰذافورا ً کمروں کا رُ کیا ۔

 

صبح اٹھ کر دیکھا تو برف نے ہر چیز پر اپنی چادر تان دی تھی ۔ہم باہر نکلے ،ہلکی ہلکی برف باری جاری تھی ۔شفاف برف پر چلتے ہوئے پائوں دھنس رہے تھے اور قدموں کے نشان بن رہے تھے ، اس کابھی اپنا ہی مزہ تھا ۔کچھ نوجوان برفباری میں اٹھکیلیاں کرتے ہوئے ایک دوسرے کو برف کے گولے ماررہے تھے ۔

 

قریب ہی کہیں رباب بجانے ( گٹار) کی آواز بھی آرہی تھی ۔پختون قوم رَباب کی موسیقی کوبہت پسند کرتی ہے اور خاص طورپر پہاڑی علاقوں میں آپ کو جابجا راستے کے کنارے بیٹھے لوگ ملیں گے جوگود میں رَباب رکھے آپ کی فرمائش پر بجاناشروع کردیں گے۔

 

مالم جبہ کا موسم کبھی دھوپ کبھی بادل والا تھا ۔دھندلے بادل آجاتے جو دِن میں رات کا سماں باندھ دیتے اور کچھ دیر بعد سورج اپنی کرنیں بکھیرنا شروع کردیتا جو اس برفیلے ماحول کے حسن کو چار چاند لگادیتا.

 

سوات کا خطہ پرانے زمانے میں بدھسٹ کا گہوارہ رہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہاں بہت سارے ٹیمپلز موجود ہیں۔یہ سارا علاقہ ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھتا ہے ۔اگر آپ کے پاس فرصت زیادہ ہو تو آپ ان تاریخی مقامات کی سیر کرسکتے ہیں ۔ہماری فوج نے بے شمار قربانیاں دے کر اس سارے خطے کو دہشتگردی سے پاک کیا ہے ۔آپ فیملی کے ساتھ بھی اگر یہاں سفر کریں

 

تو اپنے آپ کو محفو ظ تصورکرتے ہیں۔یہاں کے نظاروں سے اگر ایک طرف آپ کا دِل باغ باغ ہوجاتا ہے تو دوسری طرف یہاں کے لوگوں کی میزبانی اور خندہ پیشانی بھی آپ کے سفر کا مزہ دوبالا کردیتی ہے۔

 

سارے پختون بہت مہمان نواز ہیں لیکن سوات اور مالم جبہ کے لوگوں کی مہمان نوازی کی مثال نہیں ملتی ۔آپ کہیں اپنی گاڑی میں بھی سفر کررہے ہوں تو مقامی لوگ آپ کا استقبال کرتے ہیں اور جو حاضرتوفیق ہو ا س سے آپ کی خدمت کرتے ہیں ۔

 

ہم سب پاکستان سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ہم میں سے اکثر نے پاکستان کو نہیں دیکھااور نہ ہی یہاں کے حسین وادیوں کے حسن سے لطف اندوز ہوئے ہیں۔آپ وقت نکالیے ، اپنی آنکھوں سے سوات اور مالم جبہ کو دیکھ لیجیے تو یہ خوبصورت مناظر آپ کی یادوں میں اس طرح رچ بس جائیں گے کہ یہاں کی ٹھنڈ اور یادوں مٹھاس کو آپ آسانی سے بھلانہیں پائیں گے۔

 

واپسی صبح کے وقت تھی ، چنانچہ ناشتے کرکے نکلنے لگے ۔PCوالوںنے بے شمار تحائف میری گاڑی میں رکھوائے ،میں نے ان کی محبت ، مہمان نوازی اور آرام دہ قیام پر ان کا شکریہ کیااوردِل میں اس سفر کی حسین یادیں لیے ،بغیر رُکے لاہورکی طرف محوسفر ہوگیا۔

 

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -