- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

ملتان میں مردہ قرار دی گئی خاتون نے اگلے روز چلنا شروع کر دیا

خاتون کو زخمی حالت میں نشتر اسپتال لایا گیا،ڈاکٹر نے مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بھی جاری کر دیا تھا

0 12

نشتر اسپتال میں مردہ قرار دی گئی خاتون اگلے روز زندہ ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق ملتان کے نشتر اسپتال میں ایک انتہائی عجیب و غریب واقعہ پیش آیا ہے جہاں مردہ قرار دی گئی خاتون نے اگلے روز چلنا شروع کر دیا۔بتایا گیا ہے کہ اسپتال میں ایک خاتون کو زخمی حالت میں لایا گیا جو فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئی تھی، لیکن اگلے روز اسی خاتون نے چلنا شروع کر دیا جس کو ایک روز قبل مردہ قرار دیا گیا تھا،ڈاکٹر نے خاتون کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیا تھا۔
لوگوں نے اسے ایک معجزہ قرار دیا ہے۔کیونکہ ڈاکٹر نے خاتون کو مردہ قرار دیا تھا اور وہی ساری رات مردہ خانے میں ہی رہی لیکن اگلے روز ہی جاگ اٹھیں۔بتایا گیا ہے کہ خاتون کا اب اسپتال میں علاج جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق خاتون پیر کی رات گولی کا نشانہ بن گئی تھی اور اس کے بعد ایمرجنسی روم لایا گیا تھا۔ابتدائی علاج کے بعد خاتون کو وارڈ نمبر 6 منتقل کر دیا گیا تھا۔

- Advertisement -

نشتر اسپتال کے ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر امجد چانڈیو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایمرجنسی روم میں خاتون کو مردہ نہیں قرار دیا گیا تھا۔ پھر بھی انہوں نے اعتراف کیا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اجراء کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔اس سے قبل برازیل میں ایک واقعہ پیش آیا تھا۔65سالہ شخص ایک دن گھر سے نکلا تو واپس نہ آیا۔جس پر اس کی بیوی پریشان ہو گئی اور اس کی تلاش میں گھومنے لگی۔
کچھ دن بعد اسے پتا چلا کہ اس کا شوہر مقامی اسپتال میں داخل ہے لہٰذا وہ اپنے شوہر سے ملنے اسپتال جا پہنچی جہاں اس کے شوہر کے شناختی کاغذات اسے مل گئے اور اسپتال عملے نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ شخص کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر گیاہے۔ لہٰذا ڈیڈ باڈی اس کے حوالے کرنے سے پہلے اسے باڈی کی شناخت کرائی گئی اور اس نے اپنے شوہر کی میت کو شناخت کر کے روانہ کروایا۔لہٰذا خاتون نے ایک کفن دفن والی کمپنی کو بلایااور بڑے ٹھاٹھ کے ساتھ ساری رات جاگ کر اپنے شوہر کو دفن کیا۔ اسپتال سے 30کلومیٹر دور اُن کے آبائی گاﺅں کے قبرستان میں میت لائی گئی اورساری رسومات بھی اد اکی گئیں۔ خاتون ابھی اپنے شوہر کی موت کے غم میں تھی کہ چوتھے روز اس کا شوہر زندہ سلامت گھر واپس آ گیا۔

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -