- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

سیاسی تصادم میں کچھ ہونے والا ہے! تحریر:شاہد ندیم احمد

Something is going to happen in the political confrontation! Written by Shahid Nadeem Ahmed

0 44

تحریک انصاف حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی اتحاد پاکستا ن ڈیمو کریٹک موومنٹ کے مابین سیاسی تناؤمیں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے،

 

دونوں طرف کے رہنما ؤں کے بیانات میں سختی اورتلخی بڑھتی چلی جا رہی ہے، ملک سیاسی تصادم کی جانب گامزن ہو رہا ہے۔پی ڈی ایم کے لاہور جلسے کو کا میاب بنانے کیلئے مسلم لیگ (ن) والے اپنا پورا زور لگا رہے ہیں،کیونکہ لاہور کو میاں برادران نے بہت نوازا،سنوارااورچمکایاہے، لہٰذا توقع کی جارہی ہے

 

کہ لاہور میدان مار لے گا تو مسلم لیگ (ن)کی عزت رہ جائے گی اور اس کے لئے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب، مریم نواز اور پی پی پی سب مل کر زور لگا رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)بہت پُر امید ہے کہ میاں نواز شریف یہاں بھی اپنی پوری بھڑاس نکالیں گے۔ پی ڈی ایم نے جب سے جلسے شروع کئے ہیں،َ

 

- Advertisement -

میاں نواز شریف نے ”مجھے کیوں نکالا“کے بعد اپنی توپوں کا رخ قومی سلامتی کے اداروں کی طرف کر رکھا ہے، اندیشہ ہے کہ لاہور کے جلسے میں توحدیں ہی پار کر جائیں گے،اس کا ردعمل بھی ضرور ہو گا۔پنجاب کا مزاج دوسرے صوبوں سے ذرا مختلف ہے جس کا اندازہ میاں نواز شریف تو لگا نے کے لئے تیار نہیں،

 

لیکن میاں شہباز شریف اچھی طرح جانتے ہیں،یہ معاملہ نیب کا نہیں،بلکہ سیکورٹی اداروں کا ہے، قو می سلامتی کے ادارے سے کھل کر ٹکر لینے سے مسلم لیگ (ن)کا مستقبل داؤ پر لگنے کا پورا پورا امکان ہے۔

 

پی ڈی ایم کا لاہور میں تیرہ اکتوبر کو ہونے والے جلسہ بنیادی طور پر میاں نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) کا امتحان ہے۔ کراچی، کوئٹہ اور ملتان میں جلسوں کے بعد لاہور میں اچھے کراؤڈ کے حوالے سے(ن) لیگ نے عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ بڑ ے اجتماع کے لیے اجلاس ہو رہے ہیں

 

اور لاہوریوں کو متحرک کرنے کے لیے اعلیٰ قیادت پوری توانائیاں صرف کر رہی ہے۔ میاں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز شریف کے مابین ہونے والی ملاقات میں پی ڈی ایم کے جلسے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا ہے، اس جلسے میں مسلم لیگ(ن) کے اراکین پنجاب اسمبلی استعفے دینے کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔

 

مسلم لیگ(ن) کی پنجاب اسمبلی سے استعفوں کی سوچ بڑی پیشرفت ہے، اگر یہ راستہ پی ایم ایل این اختیار کرتی ہے تو پھر یہ کہنا مشکل نہیں ہو گا کہ آنے والے وقت میں ناصرف حکومت، بلکہ عوام کے لیے بھی مسائل میں مذید اضافہ ہو گا۔

 

حکومت نے پی ڈی ایم جلسے میں کوئی روکاوٹ نہ ڈالنے کا عندیہ دیا ہے،پی ڈی ایم رہنما اپنے جلسوں میں دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں،اپو زیشن اتحامیں شامل گیارہ پارٹیاں سب اپنے اپنے زخموں کا بدلہ لے رہی ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں ذاتی مفادات کیلئے قومی سلامتی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔

 

- Advertisement -

مسلم لیگ (ن) اورپیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر گھیراؤ جلاؤ کی سیاست پر آگئی ہیں،یہ سیاسی جماعتیں جس الیکشن میں کامیاب نہ ہوں،ان کے خیال میں الیکشن چوری ہوا ہے۔ سیاسی جماعتوں کاجلسے جلوس نکالنا حق ہے،لیکن احتجاج کے نام پر سرکاری عمارات جلانا،لوگوں کی گاڑیاں جلانا، غیر قانونی ریلی نکالی اور رکاوٹیں توڑ ڈالنا سراسر غلط ہے۔

 

اسکا مطلب توواضح ہے کہ یہ پارٹیاں ہر صورت اقتدار میں آنا چاہتی ہیں۔اپوزیشن راہنما کتنے ایماندار اور کتنے محب وطن ہیں،یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا،تاہم حکومت کے خیال میں فی الحال تو دونوں بڑی پارٹیاں اپنی کرپشن چھپانے اور خو د کو بچانے کیلئے حکومت کے خلاف محاذ آراء ہیں۔

 

تحریک انصاف حکومت اور پی ڈی ایم کے مابین سیاسی تناؤمیں اضافہ ہو رہا ہے، اس سیاسی لڑائی میں فریقین اور ان کی پشت پناہی کرنیوالوں کی حقیقی طاقت کا اندازہ لگا کر اپنی مرضی کے نتائج اخذ کیے جا رہے ہیں۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ

ایک فریق کمزور اور دوسرا قدرے مضبوط پوزیشن میں ہے تو غلط فہمی کا شکار ہے۔

 

اس وقت پاکستان کے معروضی سیاسی تصادم میں تمام فریقین بہت کمزور ہیں، لہٰذا تصادم سے گریز کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہئے کہ جس پرچل کر ملک کو مزید بحرانوں سے بچایا جا سکتا ہے۔

 

اس حوالے سے حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بے شک این آر او نہ دیں،مگر تصادم کی پا لیسی سے گریز کریں۔عوام حکومتی وزاء اور مشیران کی فاش غلطیوں کے باوجود عمران خان کو نیک دل محب وطن پاکستانی سمجھتے ہیں۔

 

یہ عوامی سوچ ہی عمران خان کا کل اثاثہ ہے اور اس اثاثے کی حفاظت انہوں نے خود ہی کرنی ہے،انہیں اپنا سیاسی میدان نااہل وزراء اور مشیروں کے حوالے کرنے کی بجائے اپنی پچ پر خود کھیلنا ہو گا۔ ملک میں بدلتے سیاسی حالات کی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان پر ہے کہ انہوں نے پی ڈی ایم کے جلسوں اور سیاسی قائدین کے ساتھ کیسا برتاؤکرنا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن یاد رکھے

 

کہ انتشار و بدامنی کی صورت میں نقصان سب کا ہو گا۔سیاسی حکومتیں محاذ آرئی کی بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرتی ہیں۔ ہر وقت سب سے لڑائی مار کٹائی اور ضروری بیان بازی سے وقت تو گذرے گا، لیکن ملک و قوم کو کچھ حاصل نہیں ہو سکے گا۔

 

پی ڈی ایم کے جلسوں کے بیانیہ حملوں میں شدت ہے اور ان سیاسی سرگرمیوں کے نتیجے میں حکومتی صفوں میں ہلچل ہے تو پھر کچھ نہ کچھ ضرورہو رہا ہے یا کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔

 

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -