- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

ہمارا تعلیمی مستقبل اور جرائم کی بڑھتی شرح تحریر: خلیل احمد تھند

Our educational future and rising crime rates By: Khalil Ahmad Thand

8

معروف ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ، ڈائریکٹر ہیومن رائٹس ونگ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی جناب عبداللہ منصور صاحب کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق 6 سال سے 15 سال کی عمر کے دو کروڑ اٹھائیس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ تین لاکھ مزید بچے وسائل کی کمی کے باعث سکول چھوڑ چکے ہیں۔

 

کورونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے بچوں کی بہت بڑی تعداد گھر کا کچن چلانے کے لئے کام کرنے پر مجبور ہوگئی ہے اندازہ کیا جا رہا ہے کہ مجموعی طور پر تین کروڑ پچاس لاکھ کے ارد گرد بچے سکول سے باہر سڑکوں پر کام کرنے پر ہیں ۔

 

ہمارے ملک کی آفیشل رپورٹ کے مطابق 23 ملین کے قریب بچے سکول نہیں جاتے ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں دوسرا ملک ہے جس کے 15 سال سے کم عمر بچوں کی کثیر تعداد سکول نہیں جاتی ۔

 

- Advertisement -

- Advertisement -

ان رپورٹس میں دئیے گئے اعداد و شمار ہمارے لئے لمحہ فکریہ اور ہمارے ملک ، ہمارے سماج اور مستقبل کے لئے بہت خطرناک نتائج کے حامل ہیں ۔

 

22 کروڑ آبادی کے ملک میں لگ بھگ ساڑھے تین کروڑ بچے تعلیم سے دور رہنے پر مجبور ہیں ہماری شرح خواندگی پہلے ہی قابل رشک نہیں ہے ہماری کل آبادی کا 6 فیصد سے زائد اور کل طالبعلموں کے اندازا” 40 سے 45 فیصد بچے سکول جانے کی بجائے ورکشاپس ، چائے خانوں ، دوکانوں، بسوں، بس اڈوں ، چھوٹے کارخانوں اور منڈیوں میں کام کرنے یا پھر بھیک مانگتے پر مجبور ہیں۔

 

سب سے بری صورتحال بلوچستان اور سندھ کی ہے جن کے اعدادوشمار میسر نہیں ہیں کے پی کے 34 فیصد پنجاب 40 فیصد اور اسلام آباد کے 12 فیصد بچے سکول نہیں جا پاتے اسلام آباد کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ پورے ملک میں خصوصی طور پر دیہی علاقوں میں دیگر سہولیات کی طرح تعلیمی مواقع بھی یکساں میسر نہیں ہیں۔

 

درج بالا اعدادوشمار کے مطابق ہمارے ساڑھے تین کروڑ بچے ان پڑھ رہ جائیں گے اور جس ماحول میں وہ وقت گزاریں گے وہاں سے کیسی اخلاقی اقدار کی تربیت حاصل کریں گے انکی زبان و بیان ، رہن سہن کے طور طریقے کس طرح کے پروان چڑھیں گے ان کے انداز و اطوار معاشرے کا لازمہ ہونے کی وجہ سے کیسا ماحول پیدا کریں گے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے ۔

 

عمومی مشاہدے کے مطابق کم عمر بچے جس ماحول میں کام کرتے ہیں اس میں سے بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہو سکتی ہے جنہیں اپنے سے نسبتا” بڑے بچوں یا جنسی طور پر مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد سے جنسی ہراسگی کا سامنا ہوسکتا ہے اور جب بچوں کو عمری میں ایسے مسائل درپیش ہوجائیں

 

تو ان میں خاص قسم کا نفسیاتی ردعمل آنے کا امکان موجود ہوتا ہے جو عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ سخت ردعمل کی شکل اختیار کر لیتا ہے ایسا امکان موجود ہوسکتا ہے

 

کہ ایک بچہ جسے جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا ہو وہ اسی نفسیاتی اثر کے تحت ردعمل میں بدلے کے طور کئی بچوں کو جنسی ہراسمنٹ کا نشانہ بنا ڈالے اس نفسیاتی مسئلے کے معاشرے پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کیسا کلچر پرورش پاتا ہے وہ اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے ۔

 

ان بچوں میں سے جو سکول اور تعلیم سے دور ہوگئے ایک تعداد ایسی بھی ہوسکتی ہے جو جنسی ہراسگی ، برے ماحول یا گھریلو اور معاشرتی دباو کی وجہ سے مختلف نوعیت کے نفسیاتی امراض کا شکار ہو جائیں ، برے ماحول کے زیر اثر یا سکون کے حصول کے لیے نشے کی عادت میں مبتلا ہوجائیں اس پہلو کا بھی معاشرے پر اثرات کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے ۔

 

غربت اور گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے انہی بچوں میں سے کچھ بچے کسی جرائم پیشہ گروہ کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں جس کی وجہ سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ۔

 

غربت کے ہاتھوں تنگ یا کم عمری میں مشقت والے کام سے گریز کی وجہ سے کچھ بچے کسی بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک کے ساتھ بھی منسلک ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں سیکیورٹی کے مسائل درپیش ہونے کے امکانات رد نہیں کئے جاسکتے ۔

 

سکولوں سے باہر بچوں کی ایک تعداد گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سخت کوشی والے کام سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے بھیک مانگنے کی طرف مائل ہو سکتی ہے گویا معاشرے میں ایک ایسا طبقہ پروان چڑھنے کا امکان بڑھ سکتا ہے جو کوئی پیداواری کام کی بجائے نسل در نسل بھیک کو بطور پیشہ اختیار کئے رکھے ۔

 

کورونا وائریس اور لاک ڈاون کی وجہ سے بقول وزیراعظم عمران خان صاحب 30 لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اس سے قبل پاکستان میں 24 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے جو لاک ڈاون کی وجہ سے بڑھ کر تیس فیصد تک ہوجانے کے امکانات موجود ہیں اس بے روزگاری کی وجہ سے ہماری نئی نسل کے مزید بچے سکول کی تعلیم سے دور ہوجائیں گے جو ہر لحاظ سے ہمارا قومی نقصان ہوگا ۔

 

ہمارا قومی تعلیمی بجٹ دو فیصد سے آگے نہیں برھتا ہماری ہر حکومت اس شرح کو ایسے برقرار رکھتی ہے جیسے یہ آئین پاکستان کا تقاضا ہو مقتدر سیاسی جماعتوں کا کسی اور نقطے پر اتفاق ہویا نا ہو قوم کو جاہل رکھنے کے منصوبے پر سب کا عملی اتفاق نظر آتا ہے۔

 

ہمارے پڑوسی ملک چائینہ میں آج سے چھ سال پہلے تک 3250 سے زائد یونیورسٹیاں کام کررہی تھیں چائنہ کی ہر یونیورسٹی میلوں رقبے ، شاندار عمارات اور انٹرنیشنل اسٹینڈر کی سہولیات سے مزین ہیں چائنہ میں شرح تعلیم 97 سے 98 فیصد ہے وہاں تعلیمی اسٹینڈر کم ازکم میٹرک ہے چائنیز حکومت نے ان دو تین فیصد شہریوں کی تعلیمی استعداد برھانے کے لئے بھی جو میٹرک سے کم تعلیم رکھتے ہیں ملینز ڈالر بجٹ مختص کیا تھا ۔

 

یونیسف کے اعدادوشمار کے مطابق ہم اپنا چھ فیصد سے زائد مستقبل اندھیروں کی نظر کرکے روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

 

ہمارے کئی سرکاری سکولوں میں پینے کا صاف پانی اور واش رومز جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ اسٹاف کے باوجود وہ ماحول موجود نہیں ہے جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں نظر آتا ہے

 

المیہ یہ ہے کہ اسی ماحول کے فرق کی وجہ سے سرکاری ٹیچرز کے اپنے بچے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں سرکاری سکولوں کو نظر انداز کرنے کا حکومتی طرز عمل کم وسائل عام آدمی سے دشمنی کے مترادف ہے۔

 

یونیسیف اور ملکی سرکاری اعدادوشمار سے اندازہ ہوتا ہے مہگائی ، بے روزگاری ، غربت ، سرکاری سکولوں کی ابتر صورتحال اور مہنگے پرائیویٹ اداروں کی اجارہ داری کی وجہ سے صرف عام لوگوں کے بچے تعلیمی میدان سے باہر ہیں یا ہورہے ہیں۔

 

باوسائل اشرافیہ کے بچوں کا تعلیمی کیرئیر پوری طرح محفوظ ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں ملک کی سول و ملٹری سروسز سمیت سماجی و سیاسی میدان میں باوسائل اشرافیہ کی مکمل اجارہ داری قائم ہوجائے گی عام آدمی کے اگے برھنے کے امکانات مسلسل معدوم ہوتے جائیں گے جس کی وجہ سے نئے سماجی مسائل جنم لیں گے ۔

 

اس وقت ہمارا مذہبی ، سیاسی اور دانشور طبقہ اس بحث میں مبتلا ہے کہ جنسی جرائم ، چوری ، ڈکیتی ، فراڈ ، قتل کی وارداتوں میں اضافہ کیوں ہورہا ہے ؟ مزہبی طبقہ اسے مذہب سے دوری ، مخلوط تعلیم اور فحاشی کے کھاتے میں ڈال کر اور سیاسی و دانشور طبقہ پوائنٹ سکورنگ کرکے بری الذمہ ہوجاتا ہے جبکہ معاشرتی خرابیوں کے اصل عوامل تک پہنچنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا#

 

(خلیل احمد تھند )

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.