- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

”سعودی عرب میں ترک کمپنیوں سے کوئی کاروبار نہ کیا جائے، ہر تُرکی شے کا بائیکاٹ کریں“

سعودی چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ تُرکی سے سرمایہ کاری، درآمد اور سیاحت کا سلسلہ بند کر دیا جائے

6

سعودی عرب اور تُرکی کے دوران گزشتہ دو سال سے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ خصوصاً جمال خشوگی اور ملائشیا میں ہونے والی اسلامی ممالک کی کانفرنس کے بعد ان تعلقات میں زیادہ تلخی دیکھنے کا آ رہی ہے۔

 

جس کا ایک اور اظہار سعودی چیمبر آف کامرس کے سربراہ کا حالیہ بیان ہے۔ سعودی عرب کے چیمبر آف کامرس کے سربراہ عجلان العجلان نے مملکت کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ترک کمپنیوں سے کوئی کاروبار نہ کیا جائے۔

 

انھوں نے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ سعودی عرب میں ترکی کی ہرچیز کا بائیکاٹ کیا جائے۔العربیہ کے مطابق انہوں نے بدھ کے روز ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ:”میں یہ بات بڑے یقین اور واضح انداز میں کہنا چاہتا ہوں(ترکی سے) کوئی سرمایہ کاری نہیں، کوئی درآمد نہیں، کوئی سیاحت نہیں“۔

 

- Advertisement -

وہ مزید لکھتے ہیں:” ہمیں شہری اور کاروباری کی حیثیت سے ترکی کی ہرچیز کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔

 

مملکت میں جو ترک کمپنیاں کاروبار کررہی ہیں،ان کے ساتھ بھی کوئی لین دین نہیں کرنا چاہیے۔“العجلان کا کہنا تھا کہ ”یہ کم سے کم ردعمل ہے،

 

- Advertisement -

جو سعودی ترکی کے ہماری قیادت اور ہمارے ملک کے خلاف توہین آمیز رویے اور معاندانہ روش کے ردعمل میں کرسکتے ہیں۔

 

 

“انھوں نے گذشتہ ہفتے بھی سعودی عرب میں ترکی کی ہرشے کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ”ہر سعودی شہری کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ترکی کی مملکت میں درآمدات ،سرمایہ کاری اور سیاحت کا بائیکاٹ کرے۔

 

“انھوں نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بیان کے ردعمل میں بائیکاٹ کی یہ اپیل کی تھی۔صدر ایردوآن نے یکم اکتوبر کو کہا تھا کہ ”خط? خلیج کے بعض ممالک ترکی کو ہدف بنا رہے ہیں

 

اور ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں جن سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہورہا ہے۔“انھوں نے ترکی کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ” یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے؛

 

 

جن ممالک کی بات کی جارہی ہے، وہ کل اپنا وجود نہیں رکھتے تھے اور اغلب یہ ہے کہ وہ مستقبل میں بھی موجود نہیں ہوں گے۔تاہم ہم اللہ کی منشا سے اس خطے پر ہمیشہ اپنا پرچم لہراتے رہیں گے۔“

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.