- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

نوازشریف کا بیانیہ تحریر۔عابدمحمودعابد

Nawaz Sharif's statement written by Abid Mahmood Abid

0 16

حال ہی میں تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر ایک آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا،اس کانفرنس سے چند دن پہلے ایک بریکینگ نیوز سامنے آئی کہ اس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے،

 

 

یہ خبر اس لحاظ سے تہلکہ انگیز تھی کہ جب سے نواز شریف ملک سے باہر گئے تھے تب سے ان کی طرف سے مکمل خاموشی تھی لیکن اب ایسا کیا ہوا کہ نواز شریف کو اپنی خاموشی توڑنا پڑی؟ خیر اس خبر سے حکومتی حلقوں اور میڈیا میں بھی چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں اور سب اس کانفرنس کا انتظار کرنے لگے

 

 

 اور پھر جب کانفرنس کا انعقاد ہوا تو بلی تھیلے سے باہر آگئی،نواز شریف نے ایک گھنٹے کی تقریر کی اور کھل کر حکومت پر تنقید کی اور خاص طور پر اسٹیبلشمنٹ کو نشانے پر رکھا اور کہا کہ اصل مسائل کے ذمہ دار عمران خان کو لانے والے ہیں،

 

 

- Advertisement -

نواز شریف کے اس بیانیے کو حکومتی حلقوں کی جانب سے کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ناقدین نے نواز شریف کو یہ یاد کروایا کہ وہ بھی در اصل اسٹبلشمنٹ کی ہی پیداوار ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اقتدار میں آنے کے لیے اسٹبلشمنٹ کا کندھا استعمال کیا،

 

 

اس کے ساتھ ساتھ مؤرخ یہ بھی کہتے ہیں اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف کی کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ سے مثالی ہم آہنگی پیدا نہ ہو سکی جس کا نتیجہ پرویزمشرف کے مارشل لاء کی شکل میں بھی ظاہر ہوا،نواز شریف کے موجودہ بیانیے سے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اب ان کو یقین ہو گیا ہے

 

 

 کہ اسٹبلشمنٹ کسی طور پر بھی ان کو سہارہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے،اس لیے انہوں نے اے پی سی والی اس تقریر میں کھل کر اپنی بھڑاس نکالنے کی کوشش کی،،،

 

 

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے خلاف نواز شریف کے موجودہ بیانیے کو دوسرے سیاستدان بھی اس وقت دہراتے رہتے ہیں جب وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں لیکن جب کوئی فوجی ڈکٹیٹر اقتدار میں آتا ہے

 

 

- Advertisement -

 تو یہی سیاستدان اقتدار کی خاطر ڈکٹیٹر کو اپنا کندھا دیتے ہیں اور پوری سپورٹ مہیا کرتے ہیں،اس بات کی جانب اشارہ پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے کہ کس طرح انہوں نے ق لیگ بنا کر اس میں دوسری پارٹیوں کے لوگوں کو شامل کیا اور یہ بھی ہے کہ جب پھر بھی ق لیگ اکثریت حاصل نہ کر سکی

 

 

 تو پیپلزپارٹی کے اندر پیٹریاٹ کی شکل میں ایک گروپ بنا کر ڈکٹیٹر نے اپنے اقتدار کو دوام بخشا،یعنی ایک طرح سے یہی سیاستدان جو اسٹیبلشمنٹ سے نالاں بھی ہوتے ہیں،اقتدار کے لالچ میں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھلونا بھی بن جاتے ہیں،

 

 

جہاں ایک جانب چوہدری برادران اور شیخ رشید جیسے سیاستدان بھی رہے ہیں کہ جو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے بنا کے رکھتے ہیں تو دوسری جانب نواب زادہ نصر اللہ خاں جیسے سیاستدان بھی تاریخ کا حصہ ہیں کہ جنہوں نے کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا اور ہمیشہ ہر ڈکٹیٹر کے خلاف علم بغاوت بلند کیا،

 

 

یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ جب پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو شروع میں عمران خان نے ان کو ویلکم کہا تھا لیکن الیکشن کے بعد جب عمران خان پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو انہوں نے ق لیگ کی حکومت میں شامل ہونے سے نکار کر دیا،

 

 

نواز شریف کی حالیہ اے پی سی والی تقریر کے بعد کچھ میڈیا چینلز پر عمران خان کے پرانے انٹریوز بھی چلائے گئے کہ جن میں انہوں نے اسٹبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا

 

 

کہ پاکستان میں کبھی بھی کوئی ایسی پارٹی اقتدار میں نہیں آسکتی کہ کہ جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہو کر الیکشن لڑ رہی ہواور اس کے لیے انہوں نے ۲۰۰۲ کے الیکشن کی مثال دی تھی کہ جو پرویز مشرف کی نگرانی میں ہوئے اور اس میں ن لیگ کو صرف تیرہ سیٹیں ملی تھیں۔

 

 

نوازشریف کے حالیہ بیانیے کے بعد ایک اور خبر بریکنگ نیوز بن کر سامنے آئی کہ شہبازشریف اور بلاول بھٹو سمیت کچھ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے آرمی چیف سے ملاقات کی تھی،اس خبر کے بعد ایک نیا پینڈورا بکس کھل گیا اور شیخ رشید نے اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر نئے سے نئے انکشافات کرنے شروع کردیے 

 

 

جن کا سلسلہ ہنوز جاری ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر کا ایک بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے بتایا کہ ن لیگی رہنما محمد زبیر نے آرمی چیف سے دو دفعہ ملاقات کی تھی،نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیے اور مذکورہ بالا خبروں کے بعد حکومتی وزراء اور مشیران کی اپوزیشن کے ترجمانوں کے ساتھ توتکار کا سلسلہ جاری ہے،کسی کو بھی عوام کی فکر نہیں ہے کے جو مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے جس میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے،،،

 

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -