- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

خان صاحب!اسلامی حکومت کا چارٹر تیار کریں! تحریر: مبشر نور کامیانہ

Khan Sahib! Prepare the charter of Islamic government! Written by Mubashir Noor Kamiana

0 19

دنیا میں ہمیشہ وہی ملک دوسروں پر سبقت حاصل کرتا جس کا سسٹم مضبوط ہو۔جس کے ادارے مضبوط ہوں۔ جس ملک میں انصاف اور مساوات پر عمل ہوتا ہو۔

 

جس ملک کے سرکاری ملازمین محب وطن،ایماندار،مخلص، وطن کی بقا کی خاطر دن رات محنت کریں۔ تو تب ایسا ملک ترقی کے خزینے طے کرتا۔

 

اور جب حکام اور سرکاری ملازمین سبھی چور اکٹھے ہو جائیں تو سسٹم تباہ و کر ملک کو بیکار و فناہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ آپ ماضی کے مسلمان حکمرانوں کی زندگیوں سے سیکھ لیں کہ انہوں نے کیسے اپنی ریاستوں کا نظم و نسق مضبوط کیا۔

 

- Advertisement -

اور وہ کیسے دنیا میں شان و شوکت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو کر ہمارے لیے ایک اعلی نمونہ اور عمدہ مثال بنے۔میں آپکو ایک مسلمان بادشاہ کی ریاست کے بنائے قانون سے متعارف کراتا ہوں۔

اُموی بادشاہ ہشام ابنِ عبدرحمٰن ؒ نے سپین پر 8سال حکومت کی۔جو کہ خدا ترسی،خیر سگالی اورنہایت عدل و انصاف کے ساتھ کی۔اُنکا یہ دور نہایت سنہری دورِ حکومت قرار دیا گیا۔

 

ایک وقت آیا کہ باد شاہ سخت علیل ہو گئے اور صحتیاب ہونے کی کوئی امید نہ رہی تو باد شاہ نے اپنے بیٹے ’الحکم‘ کو اپنا جانشین مقرر کیا اور نصیحت فرمائی۔حکمرانی کا تاج پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں بھرا بستر ہے۔حضور پاکﷺ کا ارشاد مبارک ہے

 

کہ جس حکمران یا ذمہ دار نے جان بوجھ کر کسی ایسے شخص کو سربراہ یا عالم ٹھہرایا جو با لکل نا اہل ہو اور اُس سے زیادہ با صلاحیت لوگ ملک میں فارغ پھرتے ہوں تو اُس حکمران نے اللہ اور رسولﷺ سے دھوکہ کیا۔

 

روز قیامت اس سے سخت پوچھ گچھ ہو گی۔ لہذا! آج سے تم ان قوانین پر عمل کرنا اور کروانا۔

1۔رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے ہر وقت مستعد اور چاک و چوبند رہنا اور ہر موقع پر لمحہ بہ لمحہ مدد کرنا۔

 

2۔رعایا کے دلوں میں محبت کے پھول اور بیج بونا، نفرت کے بیج مت بونا۔

 

3۔امیر اور غریب کو ایک نظر سے دیکھنا،کسی کے ساتھ بھی بے انصافی مت کرنا۔

 

4۔کسی اپنے یا بیگانے پر ظلم و زیادتی مت کرنا،سب کو عدل وانصاف کے ترازو پر تولنا۔

 

5۔اقلیتوں کے حقوق کا خاص خیال رکھنا۔ہر برادری،ہر ذات،پات کے ساتھ انصاف برتنا۔

 

6۔غریبوں،محتاجوں،ضرورت مندوں اور معذوروں کے لیے علیٰحدہ سہولیات اور حقوق قائم کرنا۔

 

7۔ہر گاوئں، قصبہ اور شہر تک تمام سہولیات برابر، برابر پہنچانا،کہیں بھی ذرا جتنی بھی بے ایمانی اور غفلت نا برتنا۔

 

8۔باالخصوص محنت کشوں،کسانوں،مزدوروں اور تاجروں کی ضروریات کو مقدم رکھنا۔کیونکہ یہی لوگ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔

 

9۔گلی،کوچوں،بازاروں اور سیوریج کے نظام کو صاف ستھرا رکھنا،معاشرے کو آلودگی سے محفوظ رکھنا۔

 

10۔اشیائے خورد ونوش میں ملاوٹ کرنے والے اور مال ذخیرہ کر کے مہنگے داموں بیچنے والے ظالموں کو سخت سزا دینا۔چاہے وہ تیرے جتنے بھی قریب ہوں۔

 

11۔تمہارے جو سپاہی یا حکام رعایا سے ظلم و زیادتی کریں، انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے عبرت ناک سزا دینا۔

 

12۔منصفوں،ججوں،سپاہیوں کو اِس بات پر مامور کرنا کہ وہ عوام کی جان و مال کے سِوا کسی غیر ضروری کام میں مشغول نا ہوں۔

 

- Advertisement -

13۔قوانین،دولت اور طاقت کا غلط اِستعمال مت کرنا،اِسلامی شریعت کے مطابق ملک کا نظام چلانا۔

 

14۔سرکاری خزانہ اور مال و متاع دراصل قوم کی امانت ہوتی ہے۔اِس کو اپنی ملکیت نا بنانا۔

 

15۔تمام سرکاری اداروں فوج،پولیس،عدالتوں،پٹوار خانوں اور کچہریوں وغیرہ میں سیاست نا پھیلا نا،بلکہ منصفانہ نظام رکھنا۔

 

16۔عوام کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کرنا،نہ کہ آپکے وزیر،مشیر یہ سارا پیسہ ہڑپ کر جائیں۔

 

17۔بیرونی سازشوں اور دباؤ میں آ کر ملک کی معیشت کا جنازہ نہ نکال دینا۔

 

18۔اپنے تاریخی ورثہ کی حفاظت کرنا کیونکہ کسی بھی ملک کی یہی شناخت ہوتی ہے۔

 

19۔آپکے جو لوگ بیرونِ ممالک مقیم ہوں اُدھر اُنکی حفاظت کو یقینی بنانا۔

 

20۔بیرونِ ممالک سے آنے والے سرمایاکاروں اور سیاحوں کو مکمل سہولیات اور تحفظ بخشنا۔تاکہ جب آپکے لوگ اُدھر جائیں تو اُنہیں بھی مکمل تحفظ ملے۔

 

21۔سرکاری اور نجی اداروں کی خبریں شائع کرنے والے چھاپہ خانوں اور خبروں کو باہم ایک جگہ

سے دوسری جگہ پہنچانے والے اداروں اور ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانا۔

 

22۔ملک میں کسی بھی سطح پر انتشار پھیلانے والے لوگ یا گروہ پیدا مت ہونے دینا۔

 

23۔ملک و قوم کی خدمت کرنے والے افراد کی سہولیات اور تحفظ کا خاص خیال رکھنا۔

 

24۔علوم و فنون کو ترقی دینا اور درس و تدریس کا سلیبس مضبوط کرنا۔اگر قوم کو غلط اور ناقص تعلیمی نظام دیا تو روزِقیامت سخت پکڑ ہو گی۔

 

25۔جو جج،سپاہی،حکام،وزیر،مشیر وغیرہ اِنتشار اور بدنامی کا باعث بنیں تو اُنہیں سخت سزا دے کر نوکری سے نکال دینا اور دیانتدار قیادت بھرتی کرنا۔

 

26۔ملک میں چوری،ڈاکہ راہزنی،قتل و غارت اور دہشت گردی جیسے واقعات کا نام و نشان تک بھی نا ہو۔ملک میں ہر طرف امن ہی امن ہو اور دنیا آپکے عظیم کارناموں کی مثالیں دینے پر مجبور ہو جائے۔

 

27۔حکومت کا مقصد ہوتا ہے رعایا کو امن و سکون فراہم کرنا،اگر عوام کو سہولیات اور تحفظ نہیں تو حکومت کا ہونا نا ہونا برابر ہے۔

 

28۔اُقربا پروری اور خویش نوازی سے پرہیز کرنا۔کیونکہ یہی چیزیں رعایا کے درمیان حسد پیدا کرتی ہیں اور حسد کی آگ سب کچھ جلا کر خاکستر کر کے رکھ ریتی ہے۔

 

یہ ہے دراصل(اسلامی حکومت کا چارٹر)۔بادشاہ ہشام نے جیسے ہی اپنی باتیں مکمل کر لیں تو قدرت نے اُنہیں ابدی نیند سُلا دیا۔اب وہ تو قیامت کے دن ہی بیدار ہونگے،لیکن دنیا سے رخصت ہوتے وقت مسلمانوں کو ایک عظیم چارٹر دے گئے۔

 

تاکہ اسلامی ریاستیں اس پر عمل کریں۔آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام کیا ہے؟؟؟افسوس!اِس پاک دھرتی پر بسنے والی غیور مگر مجبور عوام پر سالوں سے جنگل کا قانون اور ڈیرہ سسٹم رائج ہے۔

 

لہٰذا! محترم! عمران خان صاحب! اسلامی حکومت کا چارٹر تیار کریں او ر قانون کو مضبوط کریں تاکہ ا سلامی جمہوریہ پاکستان کا نظم و نسق کر پائیدار بنا کر رعایا کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا جا سکے۔

 

اِس دنیا کو ہے اُس مہدی بر حق کی ضرورت
ہو جس کی نگاہ میں زلزلہ عالمِ افکار

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -