- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

بھارتی سازش، سقوط ڈھاکہ تحریر: علی رضا رانا(حیدرآباد، سندھ)

Indian conspiracy, fall of Dhaka Written by Ali Raza Rana (Hyderabad, Sindh)

0 74

قوم نے گزشتہ روز 16 دسمبرکو وطن عزیز کے دولخت ہونے کا سوگ منایا،49سال قبل آج ہی کے دن پاکستانیوں نے اپنے وطن کو دو حصوں میں تقسیم ہوتے دیکھا تھا۔ یوم سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن اور رستا ہوا زخم ہے جو شاہد کبھی نہ بھرپائے گا۔

 

بلا شبہ اس دن کا سورج ہمیں شر مندگی اور پچھتاوے کا احساس دلاتے ہوئے نمودار ہوتا ہوتا ہے اور تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتا نظر آتا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو سچے دل سے تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ اس موقع کی تلاش میں رہا کہ کسی طرح پاکستان تقسیم کردے۔

 

سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا یہ بیان کہ” آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر پاکستان کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے”۔ ان کے دل میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف چھپی نفرت کی عکاسی کرتا ہے اندرھا گاندھی نجی محفلوں میں اکثر یہ بات کیا کرتی تھی

 

- Advertisement -

کہ میری زندگی کا حسین ترین لمحہ وہ تھا پاکستان کو دولخت کرکے بنگلہ دیشن بنایا۔ اندر گاندھی کے حوالے سے امریکہ کے سابق سیکرٹری خارجہ سینڈی کینجر نے بھی اپنی کتاب میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اندرا گاندھی سقوط ڈھاکہ کے فوراً بھی مغربی پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

 

مگر عالمی طاقتوں کی ناراضگی اور ناساز حالات کے باعث وہ ایسا کرنے سے باز رہی۔ یہ حقیت بھی عیا ں ہے کے بھارت کے مداخلت کے بغیر پاکستان دولخت نہیں ہو سکتا تھالیکن بھارت کے مداخلت کے لیے ساز گار حالات ہمارے حکمرانوں نے خود پیدا کیے۔ ہم بھارت پر یہ الزام کیوں عائر کریں کہ اس نے یہ مزموم کھیل کھیلا، دشمن کا کام ہی دشمنی ہوتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے

 

 

کہ ہمارے حکمران دشمنوں کی دشمنی کے آگے بند باندھنے کے بجائے دشمن کوایندھن فراہم کرتے رہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اقلیت ملک توڑنے کا سبب ہے اور علیحدہ وطن کے لیے کو شا رہتی ہے کیوں کے وہ اکثریت سے متنفر ہوتی ہے لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدیگی کا عجب و غریب پہلو یہ ہے کہ اکثریت نے اقلیت سے الگ ہونے کی جدو جہد کی۔

 

مشرقی پاکستان کی آبادی جو ملک کی مجموعی آبادی کا 54فیصد تھی،میں اس احساس محرومی نے جنم لیا کے وسائل کی تقسیم میں ان سے نا انصافی اور معاشی استعمال کیا جارہا ہے جو کس حد تک درست بھی ہے کیونکہ مشرقی پاکستان میں سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والوں میں سے اکثریت کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا جو بنگالی زبان سے بھی ناآشناتھے۔

 

- Advertisement -

وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو ماضی کے تخلق حقا ئق کو مدد نظر رکھتے ہوئے اپنے مستقبل کو تابناک بناتی ہے مگر ہم کے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے اسی ڈگر پر چلے جا رہے ہیں ہمیں یہاں 49سال قبل 16دسمبر 1971کے دن پاکستانیوں نے اپنے وطن کو دو حصوں میں تقسیم ہوتے دیکھا تھا۔ یوم سقوط ڈھا کہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن اور رستا ہوا زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر پائے گا۔

 

بلا شبہ اس دن کا سورج ہمیں شرمندگی اور بچھتاوے کا احساس دلاتے ہوئے نمودار ہوتا ہے اور تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتا نظر آتا ہے۔ اس حقیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کے بھارت نے کبھی نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو صدق دل سے تسلیم نہیں کیا

 

اور اس کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو صفائے ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد ہندوستان نے مشرقی پاکستان میں اپنی ریشہ دیونیوں کا آغاز اور ہندو استازہ نے بنگالی بچوں میں مغربی پاکستان کے متعلق زہر اگلنا شروع کیا اور جب وہ بچے جوان ہوئے

 

تو انہوں نے ان محرومیوں کا اظہار کرنا شروع کیا تو مغربی پاکستان میں بیٹھے حکمرانوں نے ان کی طرف توجہ نہ دی اور اُلٹا حقوق کے حصول کو وطن دشمنی قرار دیا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک نظریاتی مملکت اپنے قیام کے چند ہی سالوں بعد دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور اشرافیہ اسی ڈھٹائی سے اسی طرز عمل پر گامزن ہے۔

 

سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیراعظم اندر گاندھی کا یہ بیان کہ،،آج ہم نے مسلمانون سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر پاکستان کو تقسیم کر دیا ہے جو کہ بڑی بات ہے۔ آج بھی ماضی کی طرح نریندامودی بھی مسلمانوں کے مخالف ہے اور وہ مسلمانوں کی نسل کشی کرر ہا ہے،

 

مثلاََ مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ ایک حقیقت ہے جس کو تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ ملک پاکستان میں بھی دہشت گردی پھیلا کر ملک پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

 

اس وقت بھی ملک پاکستان دشمن کے نشانے پر ہے، مسلم ایک ہو ایک پاکستان کے لیے سوچے، ایک آزاد سوچ اور آزاد مستقبل کے خاطر سوچے تو ہمیں کوئی ہرانہیں سکتا، بہتر یہ کہ ہم ایک پاکستانی اور ایک آزاد خیال شہری بنے۔ اللہ ملک پاکستان کو بُری نظر سے بچا اور ہمیں ایک مسلم آزاد خیال شہری بنا۔ (آمین)

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -