- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

قاسم علی شاہ صاحب کی کتاب ترغیب کے نام تحریر: ظفر اقبال ظفر

In the name of Qasim Ali Shah's book Targhib Written by Zafar Iqbal Zafar

0 139

قاسم علی شاہ صاحب پاکستان میں ایک فقیری فیض کا نام ہیں جو لفظوں کی مہک سے دنیا بھر کے انسانوں کی زندگیاں مہکانے کا فرض نبھا رہے ہیں

 

یوٹیوب فیس بک پر ہزاروں ویڈیو زپیش کر چکے ہیں روحانی دنیا سے قبولیت کا شرف پانے والی اس شخصیت نے انسانیت کی سوچوں پر کام کرنے والی تبلیغ وتربیت کے لیے قاسم علی شاہ فاونڈیشن کے نام سے ادارہ قائم کیا جہاں سے دنیا بھر کے انسانوں کو خدمت اور نیکی کی دعوت دی جاتی ہے۔اگر میں ان کی شخصیت پر لکھتا جاؤں تو شاید کئی کتابیں تحریر ہو جائیں

 

 

 

 

مگر میں ان کی کتاب ترغیب پر لکھنا چاہتا ہوں جو انہوں نے مجھے اپنے دست مبارک سے عنایت فرمائی تھی گذشتہ روز فخر پاکستان قاسم علی شاہ صاحب کی عزتوں محبتوں بھری دعوت ملی جو میری زاتی خواہش کی تکمیل تھی مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ اس شخصیت نے دیسی گھی کی سوغات یوں عنایت کی جیسے ایک باپ اپنے بچے کو مفید غذاکھلانے میں خوشی محسوس کرتا ہے اپنی صحبت اور نیک مقصد سے مستفید ہونے والی سخاوت میرے دامن میں ڈالتے ہوئے

- Advertisement -

مجھے اپنی پسند کا پرفیوم میرے بچے علی ظفرکے لیے چاکلیٹ اور سب سے قیمتی تحفہ اپنی کتاب ترغیب عنایت فرماتے ہوئے کہا کہ ہم دینے والے پیر ہیں لینے والے نہیں۔اس ملاقات میں ناجانے میں کتنی سوغاتیں میں اپنے دامن میں سمیٹ کر رخصت تو ہو گیا مگرکتاب ترغیب کے مطالعے نے میری روح کووہ معطر کیا جو میں لکھنے پر مجبور ہو گیا

 

تاکہ پاکستان اور بھارتی پنجاب کے لوگ میرے اس اظہار خیال سے اپنی دعاؤں کا رخ قاسم علی شاہ صاحب کی طرف موڑ کر سکیں۔(بڑی منزلوں کے مسافر)ترغیب کتاب کے ایک ایک جملے کو پڑھتے ہوئے میں تصوارتی دنیا کے روشن خیالوں میں کھو جاتا اور پھر ایک دم خیالات کو زہن سے جھٹک کر اگلے جملے کو پڑھنا شروع کرتا اس طرح مجھے ایک ایک صفے کے ساتھ گھنٹہ گھنٹہ رہنا پڑاکتاب کے صفوں پر ایک ایک جملہ کسی درویش کے دسترخوان پر روح کو طاقت بخشنے والی غذاؤں کی صورت محسوس ہوتا رہا

 

جیسے پڑھتے پڑھتے کئی بار بے اختیار میری گنہگار آنکھوں نے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کیاکئی آنسو باہر اور کئی اندر ٹپک کر دل کو دھوتے رہے گویا یہ آنسو بھی میرے اندر باہرکی پاکی کے غسل کا عمل بن کر مطالعے کا حصہ رہے۔ترغیب کتاب کے دوسرے موضوع (زندگی ہیرو بن کر گزاریں)کی پہلی تین لائنیں میری موجودہ زندگی کا حال بیان کر رہی تھیں

 

- Advertisement -

اور اگلی لائنیوں میں خود کی پہچان کروانے کے بعد مخلص مشورے والا راستہ ملا جو ترغیب کے لفظوں کی روشنی سے بھٹکے مسافر کے اندر کے اندھیرے مٹا کر منزل کا پتا بتا رہی تھیں۔وہ جملہ جوبیان کر رہا تھاکہ دنیا کو فتح کرنے کاآغاز خود کو فتح کرنے سے کرتے ہیں

 

مگر مجھے یہ جملہ اپنے اندر قاسم علی شاہ کی مختصر ملاقات کے اثر کے پیش نظر ایک اور مطلب سے بھی آشنا کر وارہا تھاکہ دنیا کو فتح کرنے کے لیے خود کو دوسروں کے لیے ہرا دو۔میری طرح ہر کیفیت میں مبتلا بندے سے انسانیت کی خدمت کے لیے پیغام دیتا یہ موضوع ہیرو کی راہ پر گامزن کروانے کی راہنمائی کا نقشہ ہے قاسم علی شاہ صاحب اپنے سیکھنے والوں سے ان کی عمر سے بڑا کام لے رہے ہیں

 

اور خود کو اپنی ہمت اور طاقت سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں جو خدا کے عاشقوں کی صفات میں سے ہے۔کتاب ترغیب کا اگلا موضوع (نئے سال میں جینا کیسے ہے)یہ موضوع خود احتسابی کے ساتھ اپنی اصلاع آپ کرنے کی ترتیب کا آسان حل ہے حیران کن بدلاؤجس کے لیے آپ کو کسی کی نہیں بلکہ اپنے لیے آپ کی ضرورت ہے جو وضاحت کرتا ہے

 

کہ ہم اچھے وقت کا انتظار کرنے کی بجائے اچھا وقت پید اکرنے کی محنت کریں توکل اچھی بات ہے مگر اپنے کرنے والے کام اللہ پر چھوڑ کر خود بری الذمہ ہو جانا بھی نا صرف اپنی بربادی ہے بلکہ رب کی ناراضگی کا بھی سبب ہے رب آپ سے جو کام آپ کے لیے لینا چاہتا ہے وہ کیوں نہیں کرتے انسان کے کرنے والے کام انسان نے ہی کرنے ہیں خود کو قابل بنایئے کیونکہ رب جاہلوں کی طرفداری نہیں کرتا۔

 

میں موضوع کی نشاندہی کی قید سے آزاد ہو کر ترغیب کے اظہار خیال کو آگے بڑھاتا ہوں کیونکہ یہ کتاب اپنے اندر اتنی وسیع تفسیر رکھتی ہے کہ کئی کتابوں کا مسودہ تیار ہو جائے مگر مجھ نالائق طالب علم کی اتنی مجال کہاں کہ ایک عظیم استاد کی عظیم بات پر اپنی بات کو ترجع دینے کی گستاخی کرکے فیض سے محروم ہو جاؤں میں تو بس کتاب ترغیب کو ایک فقیر کا دیا مانتے ہوئے روشنی سے مستفید ہونے میں آپ کو شریک کرنا چاہتا ہوں

 

میری جنتی باتیں اپنے اندر تاثیر دیکھا رہی ہیں وہ سب قاسم علی شاہ صاحب کی چند منٹ کی صحبت کا روپ ہیں اس لیے یہی کہوں گا کہ میرا اس میں کچھ نہیں جو کچھ ہے سب تیرا۔تیرا تجھ کو سونپ دوں کیوں لگے اس میں کچھ میرا۔قاسم علی شاہ صاحب کی تمام کتابیں لوح وقلم کو پیدا کرنے والے کے پیاروں کی طرف سے انسانیت کو ایک تحفہ ہیں قلم مجھ جیسے نکمے کے بھی ہاتھ میں آ سکتا ہے

 

مگر لفظوں کی عطا اور ترتیب کی ترغیب ہر کسی کا مقدر نہیں ہوتی روحانیت کے نوازے ہوئے لوگوں کو امت محمد کے لیے رب کی طرف سے ایک انمول تحفہ سمجھتے ہوئے ان کی تصانیف سے فیض حاصل کیجئے یہی آپ کا ان کو خراج تحسین ہے۔

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -