- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

30 سالہ کیریئر میں کسی وزیر اعظم نے سوالات کے ایسے جواب نہیں دیے جسیے عمران خان نے دیے: ندیم ملک

کوئی سوال کرنے سے منع نہیں کیا، جو پوچھنا چاہتا تھا پوچھا، وزیر اعظم نے سول ملٹری تعلقات اور اپوزیشن کے حوالے سے ہر سوال کا براہ راست جواب دیا: اینکر پرسن

0 4

30 سالہ کیریئر میں کسی وزیر اعظم نے سوالات کے ایسے جواب نہیں دیے جسیے عمران خان نے دیے۔ کوئی سوال کرنے سے منع نہیں کیا، جو پوچھنا چاہتا تھا پوچھا، وزیر اعظم نے سول ملٹری تعلقات اور اپوزیشن کے حوالے سے ہر سوال کا براہ راست جواب دیا۔ تفصیلات کے مطابق سینیئر اینکر پرسن ندیم ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے 30 سالہ صحافتی کیریئر میں کسی وزیر اعظم کو سوالوں کے ایسے جوابات دیتے نہیں دیکھا۔

- Advertisement -

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اینکر پرسن کا کہنا تھا کہ انہوں نے حساس اداروں سمیت سول اور ملٹری کے ساتھ جو حکومت کے حالیہ اور گزشتہ معاملات ہیں ان پر براہ راست سوالات کیے اور وزیر اعظم نے ان سوالات کے ڈائریکٹ جواب دیے۔

وزیر اعظم کے انٹرویو کے بعد انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے کیریئر کا بہترین انٹرویو تھا، انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم یا ان کے کسی اسٹاف ممبر نے بھی انہیں کوئی سوال پوچھنے سے نہیں روکا، میں نے جو پوچھنا چاہا جیسے پوچھنا چاہا پوچھتا گیا اور وزیراعظم عمران خان بغیر کسی حیل و حجت کے جوابات دیتے رہے۔

واضح ہو کہ وزیراعظم عمران خان نے اینکر پرسن ندیم ملک ایک انٹترویو دیا تھا جس میں انہوں نے دوٹوک انداز میں گفتگو کی۔ انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سول اور ملٹری تعلقات ایک مسئلہ رہا ہے،

اس کی تاریخ ہے، 58ء میں مارشل لاء لگا، لیکن کیا ماضی میں فوج سے کوئی غلطی ہوئی تو کیا ہم نے پوری فوج کو برا بھلا کہنا ہے، جسٹس منیر سے غلطی ہوئی تو پوری عدلیہ کو برا کہناہے؟

کچھ لوگ پیسا ملک سے باہر لے کرجاتے ہیں تو سارے سیاستدان کرپٹ ہوتے ہیں، ملٹری کا کام ملک چلانا نہیں، مارشل لاء کے آنے کا مطلب یہ نہیں فوج آجائے بلکہ جمہوریت کو ٹھیک کرنا ہوگا، موجودہ سول ملٹری تعلقات سب سے بہتر ہے، فوج حکومت کے پیچھے کھڑی ہے، پاکستانی فوج بدل چکی ہے، جمہوری حکومت اپنے منشور میں کام کررہی ہے فوج ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سوال پوچھتا ہوں کہ میری پارٹی کی پالیسی تھی کہ افغانستان کے مسئلے کا حل ملٹری حل نہیں، امریکا کی جنگ میں ہمیں نہیں پڑنا چاہیے تھا، آج پاکستانی فوج میری پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے، ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش پر فوج ساتھ تھی۔ کرتار پور کے مسئلے پر ساتھ کھڑی تھی،

اپوزیشن کا مسئلہ ہے، نوازشریف کبھی جمہوری نہیں تھا، جنرل جیلانی نے پالا، منہ میں چوسنی دے کر سیاستدان بنایا، وزیرخزانہ بنایا، لیکن یہ ایک دم سُپر جمہوری بن گیا،صدر اسحاق سے ، جنرل آصف جنجوعہ ، پھر جنرل مشرف اور پھر جنرل راحیل کے ساتھ مشکل آگئی، پھر جنرل باجوہ کے ساتھ ان کو مسئلہ بن گیا، لیکن یہ چوری کرنے آتے ہیں،

آئی ایس آئی اور ایم آئی ورلڈ کلاس ایجنسی ہے، ان کو چوری کا پتا چل جاتا ہے، یہ عدلیہ کو کنٹرول کرلیتے تھے،فوج سے لڑائی یہی ہوتی کہ ان کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے ۔

 

 

اب کہتے جنرل ظہرنے کہا کہ آپ استعفیٰ دیں، میں جمہوری وزیر اعظم ہوں، کس کی جرات ہے مجھے کہے استعفیٰ دو،میں ہوتا تو استعفیٰ مانگنے والوں سے استعفے کا مطالبہ کرتا۔جنرل مشرف جب سری لنکا گیا تو جنرل ضیاء کو بلا کر کہتا میں آپ آرمی چیف ڈکلیئر کرتا ہوں، میرے پوچھے بغیر اگر کوئی جنرل کارگل پر حملہ کرتا تو میں آرمی چیف کو بلا کر ہٹا دیتا۔

ان کے پاس اخلاقی طاقت نہیں ہے۔ جمہوریت میں اخلاقی طاقت ہوتی ہے، پہلے ان کو دوتہائی ملی تو امیرلمومنین بننے کی کوشش کی، سیاسی لیڈر شپ عوام کو جوابدہ ہوتی ہے لیکن جواب نہیں دینا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ فوج ایک حکومت کا ادارہے، حکومت کیلئے جس ادارے کی ضرورت پڑے گی اس کو استعمال کروں گا۔فوج بھی وزارت خارجہ کی طرح سکیورٹی رائے دینے اور میموری ہے، ایک مجرم ملک سے باہر بیٹھ کر سازش کررہا ہے، اس کو واپس لائیں گے۔

نوازشریف بڑا خطرناک کھیل رہا ہے، جو خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے ، میں دعوے سے کہتا ہوں بھارت پوری مدد کررہا ہے۔ یہی گیم الطاف حساب نے کھیلی تھی، اسی طرح حسین حقانی باہر بیٹھ کر فوج کے خلاف گیم کھیل کھیل رہا ہے، لیبیا، عراق، یمن ساری مسلم دنیا میں آگ لگی ہوئی ہے، ہم فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔ میں پہلا ہوں، جو پانچ حلقوں سے الیکشن جیتا ہوں، میں فوج کی چھتری تلے نہیں آیا۔

سپریم کورٹ میں جسٹس کھوسہ نے کہا کہ سارے ادارے تباہ کردیے گئے ہیں ، ایک ادارہ بچا ہوا ہے، ہم نے کورونا، ٹڈی دل کے معاملے میں فوج سے پوری مدد لی ہے۔ میں وہ ڈیموکریٹ ہوں تو فوج کی نرسری میں نہیں پلا، مجھے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ سرمایہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جنرل باجوہ نے مجھ سے اجازت لے کر گلگت بلتستان کی ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد گلگت بلتستان تھا۔

گلگت بلتستان میں ہندوستان متحرک ہے، انتشار پھیلانے کی کوشش کررہا ہے، جنرل باجوہ نے سکیورٹی پوائنٹ آف ویو کے حوالے سے بتایا۔ میں نے خود اس لیے نہیں کی کیونکہ ان کا زیادہ ضروری تھا کہ سکیورٹی ایشو ز کو بتاتے۔ کیونکہ وہ باقاعدہ تاریخوں کے ساتھ بتا سکتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر صوبہ کا درجہ دینا چاہتے ہیں۔ہندوستان وہاں شیعہ سنی فسادات پھیلانے کی کوشش کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ہمیں پورا جواب دیا،جتنا اس پر الزام تھا، لیگل ٹیم نے بھی اس کے جواب کا جائزہ لیا، اگر عاصم باجوہ کے خلاف کوئی اور چیز آئی تو تحقیقات کروائیں گے اور ایف آئی اے کو بھی دے دیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نوازشریف خود باہر بیٹھے ہیں اور کہتے کہ عوام سڑکوں پر نکل آئے ایسے عوام سڑکوں پر نہیں آئے گی، باہر بیٹھ کر فوج کو ٹارگٹ کررہے ہیں، اس لیے کہ ان کو این آر او دے دوں، مشرف نے پریشر میں آکر ان کو این آراو دیا تھا، لیکن میں پاور چھوڑ دوں گا این آر او نہیں دوں گا۔

نوازشریف کو باہر بھیجا ہمیں تھا کہ یہ جہاز کی سیڑھیاں بھی نہیں چڑھ سکے گا۔ میر امسئلہ یہ ہے میں ان کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہوں، کیونکہ پاکستان میں اب ٹرننگ پوائنٹ ہے، ان کو پتا میں این آر او نہیں دوں گا، اس لیے مائنس ون کہتے رہتے ہیں، یہ فوج ، عدلیہ، نیب پرپریشر ڈال رہے ہیں،

اس لیے وہ جواب نہیں دے سکتے، اگر ہم ان چوروں کا پریشر برداشت کرگئے تو ملک تیزی سے اوپر جائے گا۔ اپوزیشن کے پاس احتجاج کا حق ہے، لیکن قانون توڑا تو ایک ایک کرکے جیل میں ڈال دیں گے، اپوزیشن استعفے دے تو فوری منظور کرکے الیکشن کروا دیں گے۔

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -