- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

” چھوڑ کے تجھ کو جانے والے نہیں ” تحریر : قمر ریاض

"I'm not going to leave you" By: Qamar Riaz

13

سر سنگیت ،آرٹ ، ادب ، کلچر میرے وجود کا بیک وقت اس طرح حصہ ہیں کہ کبھی تنہائی بھی ہو تو تنہائی محسوس نہیں ہوتی کچھ لکھتے ،سنتے ، دیکھتے وقت گزر جاتا ہے

"I’m not going to leave you” By: Qamar Riaz

ان شعبوں سے وابستہ لوگ میرے دل سے خود بخود جڑتے چلے جاتے ہیں کبھی کبھی تو کسی کے لکھے ہوئے چند جملے کئی دن بے چین رکھتے ہیں اور کبھی کسی کی سریلی آواز سے گایا ہوا گیت ہونٹوں پر اس طرح چپک جاتا ہے

 

- Advertisement -

کہ بے خودی میں زیر لب وہی بول گنگناتا رہتا ہوں سروں کی لے اور لفظوں کی تپش اپنے اندر ایک ایسی لپک رکھتی ہے کہ جن میں جل کر انسان راکھ بھی ہو جائے تو کم ہے

 

شائد اسی طرح سے انسان اپنے اندر کے وجدان میں چھپے ہوئے انسان کے راز کی حقیقت سے آ شکار ہو سکتا ہے – مگر ان سب سے بڑھ کر کائنات کا رب ہے جو سب سے بڑا تخلیق کار ہے جو تخلیق کاری کی صفت عطا کرنے والا ہے – وہی ہے جو سب کچھ ہے –

 

جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنا اور پھر ان خوابوں کی تعبیروں کو پا لینے
والے لوگ مقدر کے سکندر ہوتے ہیں ہمارے آس پاس قسمت سے شکایت کرنے والے لوگ بہت زیادہ ملیں گے مگر اپنی قسمت پر رشک کرنے والے بہت کم ،

 

کچھ تو سب مل جانے کے بعد بھی کچھ پورا نہ ہونے کی کمی میں ایک ان دیکھی محرومی کو خود پر اس طرح حاوی کر لیتے ہیں کہ پھر ساری زندگی اسی ایک محرومی میں گزار دیتے ہیں –

 

"I’m not going to leave you” By: Qamar Riaz

 

مجھے اپنی قسمت کی کسی محرومی کا گلہ نہیں جو رشتے میری زندگی سے اللہ نے اپنی امانت سمجھ کر اٹھا لئے ہیں میں ان پر بھی راضی بہ رضا ہوں اور جو لوگ میری زندگی میں کسی ساز اور آواز کی طرح شامل کر دئیے گئے ہیں میں ان پر بھی نازاں ہوں –

 

وجیہہ نظامی میرا ایسا ہی ایک دوست ہے جو محبت کے ولی میرے دوست علی یاسر نے اپنی زندگی میں جاتے ،

 

جاتے مجھے سونپ دیا میں سوچتا ہوں میں وجہیہ نظامی سے یا علی یاسر سے نہ ملا ہوتا تو میری بھی کوئی زندگی ہوتی ستار پر تھرکتی وجیہہ نظامی کی انگلیاں امیر خسرو کی پہلیاں چھیڑ دیتی ہیں اتنی اوائل عمری میں میرے دوست کو اللہ نے وہ فن عطا کر دیا ہے

 

کہ اس کا عروج ساری دنیا دیکھے گی مسقط میں وجیہہ نے ستار بجا کر وہ دھنیں چھیڑی کے پورے تھیٹر ہال میں کھڑے ہو کر لوگوں نے تالیاں بجا کر خراج تحسین پیش کیا –

 

وجیہہ مجھ سے محبت کرتا ہے ، اس لئے بھی کہ علی یاسر مجھ سے محبت کرتا تھا اور ہم دونوں ایک دوسرے سے اس لئے بھی محبت کرتے ہیں

 

کہ علی یاسر کو ہم دونوں سے محبت تھی یار علی یاسر تمہیں جانے کی کیا جلدی تھی ؟ دیکھو مجھ سے تو تمہارے بغیر وجیہہ کا تعارف بھی مکمل نہیں ہو سکتا

 

حالانکہ وجیہہ ایک ایسا مکمل نظامی ہے جس کے اندر سر ، لے اور تال تینوں اس کے ستار کی زبان میں بولتے ہیں وجیہہ اسلام آباد میں رنگ میوزک اور آرٹ کے نام سے اکیڈمی بھی چلاتے ہیں اور موسیقی کی تربیت بھی دیتے ہیں یعنی موسیقی کا نظامی استاد ہے –

 

"I’m not going to leave you” By: Qamar Riaz

 

پچھلی برس ہم نے سابقہ سفیر پاکستان اور اس وقت فارن آفس میں اعلی عہدے پر تعینات جناب علی جاوید کی سربراہی میں مسقط میں ادب اور آرٹ کا میلہ سجایا تھا

 

اس بار ہم نے سوچا کیوں نہ کچھ الگ طرح کا پراجیکٹ ہم دونوں مل کر کریں زیاع جن کا اصل نام راضیہ ابرار ہے کی آواز وجیہہ کے رنگ میوزک پیج سے گونجی اور ہم دونوں نے مل کر

 

اس آواز کو دنیا کے سامنے پیش کرنے اور جدید غزل کے موضوع کو نئی نسل کے سامنے اک نئے اسلوب نئی آواز اور نئے ساز کے ساتھ پیش کرنے کی ٹھان لی وجیہہ کو یہ ڈر کہ رنگ میوزک کی پہلی پیشکش ہے نئی آواز ہے سب کیسے ہو پائے گا

 

مگر مجھے خود پر یقین تھا کہ یہ سب ممکن ہے یہ اندر کا یقین ہی سب کرواتا ہے یہ وہی یقین ہے جس پر میں آج اپنے پیروں پر کھڑا ہوں اور پھر ہمارے پاس پیٹرک حبیب چشتی بھی تو تھا ایک ایسا امریکن نیشنل جو ایک سال سے پاکستان میں ہے اور موسیقی اور صوفی ازم سے لگاو نے اسے وجیہہ نظامی کے در پر لا کھڑا کیا ہے

 

ایسا بہترین میوزیشن کے کچھ بھی تیار کرے تو لوگ سر دھننے لگ جائیں بس پھر کام شروع ہوا کمپوزیشن وجیہہ نے خود تیار کی اسکرپٹ میں نے لکھا اور میری ہی غزل کی دھن تیار کی گئی اور بہت ہی ٹیلنٹڈ ٹیم کا انتخاب کیا گیا

 

سب نے ایک سے بڑھ کر ایک کام کیا اسکرپٹ تھا یا کہیں نہ کہیں آجکل کے ہر نوجوان لڑکا لڑکی کی داستان جس میں ایکٹرس کے طور پر خوبصورت مہراب سید اور ایکٹر کے طور پر عثمان ہدایت نے کام کیا جبکہ اس کی ڈائریکٹر اور پرڈیوسر اقرا ء فیاض تھی

 

جنہوں اپنی ذمہ داری بہت اچھی نبھائی اور شاندار کام کیا اس سارے مرحلے میں کمپوزیشن سے لے کر اسکرپٹ اور پھر فائنل ویڈیو آنے تک جہاں جہاں مجھے لگا کہ بہتری کی گنجائش ہے اس پر اپنا ریویو دیتا رہا بہت محنت سے ہم نے اس پراجیکٹ پر کام کیا کہ رنگ میوزک کو دنیا کے سامنے ہم رنگ اسٹوڈیو کی شکل میں پیش کر سکیں تاکہ دنیا کو لگے

 

- Advertisement -

کہ نئے لوگ مل کر بھی اتنا اچھا کام کر سکتے ہیں پرانے سنگرز اور میوزیشنز سب قابل احترام ہیں ان کےفن کا جادو ہمارے دلوں میں جاگتا ہے مگر نئی نسل کو اپنا ایک معیار مقرر کرنے کی اس وقت اشد ضرورت ہے

 

ہم نے ایک ٹرینڈ سیٹ کرنے کی کوشش کی ہے یہ کوشش کس قدر کامیاب ہوئی اس کا ثبوت دنیا بھر سے آنے والے یو ٹیوب پر موجود کمنٹس سے ہو رہا ہے اور بہت تیزی سے اس کی وویور شپ میں اضافہ ہو رہا ہے یہی اصل کامیابی ہے –

 

ہر دلعزیز عطا الحق قاسمی لاہور سے خصوصی طور پر اسلام آباد اس غزل کی ویڈیو لانچنگ تقریب میں شرکت کرنے کے لئے تشریف لائے یہاں لفٹ کا مسئلہ تھا مگر جس وہ گھٹنوں کے درد کے باوجود دو منزلہ سیڑھیاں چڑھ کر اس تقریب میں شریک ہوئے مجھے علم ہے

 

کہ یہ ان کے لئے کتنا مشکل تھا مگر واقعی ایسا ظرف کسی بڑے آدمی کا ہی ہو سکتا ہے آپ نے صدارتی کلمات میں ، ضیاع، وجیہہ نظامی ، پیٹرک حبیب چشتی اور پوری ٹیم کی بے حد تعریف کی –

 

میرے نزدیک اس تقریب کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں عہد حاضر کے نامور ادیب ، کالم نگار ، شاعر ، ڈرامہ نگار اور طنز و مزاح کے عہد حاضر کے سر خیل جناب عطا الحق قاسمی ، صاحب صدر تھے –

 

سابقہ سفیر پاکستان علی جاوید کمال شخصیت کے مالک ہیں تین سال عمان میں سفیر پاکستان رہے اور سفارت خانہ پاکستان اور عمان میں موجود پاکستانیوں کی بہتری کے لئے سفارتی لحاظ سے کئی

 

اعلی کام کئے دونوں ملکوں کے اعلی عسکری سطح پر تعلقات قائم کرنے میں ان کا بڑا کردار ہے آپ ہمیشہ آرٹ ، ادب اور فن کے قدردان رہے ان کو مہمان خصوصی کے طور پر جب میں نے اس ویڈیو کی ریلیزنگ تقریب میں آنے کی دعوت دی تو کہنے لگے

 

میں ضرور آونگا لیکن عام مہمان کے طور پر اور میرا نام یا تصویر کسی بھی طرح کسی بھی خوش آمدیدی پوسٹر میں شامل نہ ہو یہ ان کا بڑا پن ہے میں نے جناب علی جاوید کے ساتھ تین سال مسلسل کام کر کے بہت کچھ سیکھا ہے

 

سب سے زیادہ یہ کہ ہر کام میں پرفیکشن ہونی چاہیئے اور چھوٹے سے چھوٹا کام بھی کرو تو اس میں خوش اسلوبی نظر آئے ان کے آنے سے مجھے بے حد خوشی ہوئی اور پھر جو گفتگو انہوں نے کی اسے ہر آرٹسٹ نے پسند کیا آجکل وہ فارن آفس میں بڑے عہدے پر فائز ہیں –

 

اس تقریب کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں جو بھی شخصیات شریک ہوئیں وہ اپنی اپنی ذات میں بے حد کمال تھیں ڈاکڑ انعام الحق جاوید حکومت پاکستان کے ادارے وفاقی محتسب کی جانب سے آجکل کمشنر اوورسیز شکایات سیل ہیں

 

جبکہ زاہد گوہر ملک انگریزی اخبار آبزرور کے روح رواں ہونے کے علاوہ حکومتی حلقوں میں اپنے انگریزی اخبار کے حوالے سے بہت مصروف اور پسندیدہ شخصیت ہیں آپکا وقت نکال کر آنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے

 

اسی تقریب کے اگلے دن انہوں نے صدر پاکستان جناب عارف علوی کا خصوصی انٹرویو بھی کیا – جناب قاسم بھوگیو سابقہ چیئرمین ادبیات رہے وہ بھی خاص طور پر میری دعوت پر تشریف لائے ،

 

باکمال شاعر اور ہر دلعزیز حسن عباس رضا ، میرے بھائیوں جیسے دوست اور اعلی شاعر ، ادیب ڈاکڑ جنید آذر اور ادب کا روشن استعارہ جناب محبوب ظفر بھی شامل تقریب رہے ، عزیر احمد بھائی بھی خاص طور پر لاہور سے اسلام آباد اس تقریب کے لئے تشریف لائے –

 

پیٹرک حبیب چشتی نے پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موسیقی کا اک جہان آباد ہے اور میں مستقل یہاں رہنا چاہتا ہوں –

 

جب یہ ویڈیو ریلیز کی گئی تو ایک ، ایک شعر ، میوزک کی دھن اور سنگر ‘ زیا ‘ کی خوبصورت آواز اور مہراب سید اور عثمان ہدائیت کی بہترین اداکاری پر تالیوں کی گونج ہمارا حوصلہ بڑھاتی رہی میری آنکھیں بھی نم ہوئی کہ اس وقت ہر آنکھ میں ہمارے لئے محبت اور ستائش تھی

 

جس سے لگا کہ ساری محنت وصول ہو گئی سنگر ‘ زیا ‘ اور پروڈیوسر اقرا ء فیاض نے اس ویڈیو بنانے کے دوران اپنے خوبصورت تجربات بھی شیئر کئے کہ کیسے اس ویڈیو کو مکمل کیا گیا –

 

اس ویڈیو ریلیز کی مختصر تقریب نے جہاں کئی ان مٹ نقوش وہاں موجود لوگوں کے ذہنوں پر چھوڑے وہیں ہمارا یہ ویڈیو پراجیکٹ آواز اور شاعری لوگوں کو پسند آ رہی ہے اور ان شا ء اللہ مزید آئے گی –

 

علی یاسر کے بیٹے عمار یاسر بھی اس ویڈیو کا حصہ رہے اور تقریب کے دن بہت محبت سے پیش آئے مجھے عمار میں اپنے دوست علی یاسر کی جھلک دکھائی دیتی ہے – وجیہہ کے چھوٹے بھائی فیضان اور بہنیں بھی تقریب میں شریک ہوئیں-

 

"I’m not going to leave you” By: Qamar Riaz

 

اپنی پوری ٹیم کو میں اس کامیاب اور خوبصورت ویڈیو لانچنگ پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ان شاء اللہ اگر لوگوں نے پسند کیا تو ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے

 

اور ہماری کوشش ہو گی کہ کوک اسٹوڈیو کی طرز پر ایک نئے ” رنگ اسٹوڈیو ” کو بھرپور طریقے سے مستقبل قریب میں متعارف کروا سکیں –

 

غزل کا پہلا مصرع تو یہی ہے کہ ” چھوڑ کے تجھ کو جانے والے نہیں ” مگر سچ تو یہ بھی ہے کہ چھوڑ کے جانے والے چھوڑ کر چلے ہی جاتے ہیں اور جانے والوں کو بھلا کون روک سکتا ہے –

 

https://youtu.be/APj9R3EvQr0 چھوڑ کے تجھ کو جانے والے نہیں

 

نوٹ : ویڈیو کا لنک تحریر میں شامل ہے سن کر رائے دیں –

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.