- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد اکرم کو قومی ٹیم کا چیف سلیکٹر بنانے پر غور

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرچکے ہیں

5

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کی جانب سے چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد اکرم کو یہ عہدہ سونپے جانے کا امکان ہے۔

 

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ اگلے 2 سالوں میں بین الاقوامی کرکٹ میں ہماری 10 اہم کمٹمنٹ ہیں جس میں سے کچھ دورے ایسے ہیں کہ میرے لیے بطور چیف سلیکٹر کام کرنا اور ڈومیسٹک کرکٹ کو دیکھنا مشکل ہو جائے گا،چیف سلیکٹرکی ذمے داری 30 نومبرتک نبھاؤں گا۔

 

باوثوق ذرائع کے مطابق مصباح نے کہا ہے کہ وہ چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑ کر ہیڈ کوچ کے عہدے پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کی جانب سے چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد اکرم کو یہ ذمہ داری سونپنے پر غور جاری ہے ۔

 

- Advertisement -

46 سالہ محمد اکرم اس وقت پی ایس ایل فرنچائز پشاور زلمی کے ڈائریکٹر کرکٹ اور بائولنگ کوچ کے طور پر ذمہ داری نبھارہے ہیں۔

 

واضح رہے کہ دورہ انگلینڈ میں قومی ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی تھی اور قومی ٹیم صرف ایک فتح حاصل کر سکی تھی۔ تاہم کارکردگی سے قطع نظر مصباح کی جانب سے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر جیسے دو اہم عہدے رکھنے کو بھی انتہائی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا

 

جس کے بعد گزشتہ دنوں قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد چیئرمین پی سی بی نے کہا تھا کہ مصباح کو ایک عہدہ چھوڑنا ہو گا۔

 

- Advertisement -

انہوں نے کہا تھا کہ مصباح الحق سے بات ہو گئی ہے اور انہیں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر میں سے ایک عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔

 

مصباح الحق کی جانب سے چیف سلیکٹر عہدہ چھوڑنے کے بعد سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کو اس عہدے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ شعیب اختر نے خود کیصدیق کی تھی ان کی چیف سلیکٹر کے عہدے کے لیے پی سی بی حخام سے بات چیت جاری ہے لیکن ابھی تک کوئی چیز طے نہیں ہوئی۔

 

خیال رہے کہ پی سی بی نے آئی سی سی ورلڈکپ 2019ء کے بعد سلیکشن کمیٹی اور کوچنگ اسٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

 

چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ورلڈ کپ کے بعد کام جاری رکھنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی جبکہ مکی آرتھر کی زیر سربراہی کوچگ اسٹاف کی بھی چھٹی کردی گئی تھی۔

 

سابق کوچ مکی آرتھر نے خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں آئندہ برس ورلڈ ٹی ٹونٹی 2020ء کے لیے قومی ٹیم کا کوچ برقرار رکھا جائے تاہم انہوں نے پی سی بی کے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

 

پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کا عہدہ ایک شخص کو سونپا گیا تھا اور قرعہ فعال مصباح الحق کے نام نکلا تھا جبکہ وقار یونس کو باؤلنگ کوچ کا عہدہ دیا گیا تھا۔

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.