- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

احساس کا وصال تحریر :بابرالیاس

‏خدا کو نہیں چاہیے تیرے ماتھے پہ محراب اے انسان بس اسکی _ مخلوق کا خیال کر

0 94

زندگی بہت مختصر ہے اتنی کہ اگلے لمحے بات کرنا بھی نصیب نہ ہو لہذا جس حد تک اور جیسے بھی ممکن ہو اللہ کے راستے پر چلتے رہیں، چل نہ سکیں تو خود کو گھسیٹتے رہیں بھلے ہانپتے ہانپتے وہیں جم جائیں مگر اپنے گمان کو اللہ سے نا امید نہ ہونے دیں کیونکہ ایمان سے بڑی کوئی شے نہیں۔

 

اللہ سے تعلق آپ کے "احساس تنہائی” کو ختم کر دیتا ہے.
سب سے بڑی جنگ تنہا بیٹھے شخص کا اپنے خیالات سے لڑنا ہے ۔‏

 

"قرآن پاک” وہ واحد کتاب ہے،جو انسان کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے لیکن انسان مقام انسانیت سے دور رہ کر احساس انسانیت کی بلندی چھونا چاہتا ہے جو ناممکن ہے,

 

- Advertisement -

قران کریم میں ارشاد باری ہے
تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔اے آدم کی اولاد ہم نے تم پر پوشاک اتاری جو تمہاری شرم گاہیں ڈھانکتی ہے اور آرائش کے کپڑے بھی اتارے، اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بہتر ہے، یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔(سورہ الاعراف آیات 25-26)

 

اے آدم کی اولاد تمہیں کیا ہو گیاتم کیوں نہیں سوچتے اور سمجھتے ہو کہ تم سب ایک باپ آدم کی اولاد ہو تم سب ایک باپ کے بیٹے ہو تو تمہیں ایک دوسرے کے غم، بھوک اور تکلیف کا احساس کیوں نہیں ہوتا ۔ کیوں اپنی ذات کی ہی فکر کرتے ہو۔ کیا اللہ نے تمہارے ساتھ تمہارے بھاٸ کا حق نہیں رکھا

 

کیا تم بھاٸیوں کے ساتھ تمہاری بہنوں کا حق نہیں؟
تم اس بات سے کیوں نہیں سمجھتے کہ خود اللہ نے اپنے حق کے ساتھ مخلوق کا حق رکھ دیا اور فرمایا

 

اپنا حق تو معاف کر دوں گا۔ لکین مخلوق کا نہیں

 

*️ہر رشتہ معصوم پرندے کی طرح ہوتا ہے اگر سختی سے پکڑیں گے تو مر جائے گا اور نرمی سے پکڑیں گے تو اُڑ جائے گا لیکن محبت سے پکڑیں گے تو ساری عمر ساتھ

نبھائے گا_

*غربت انسان کو اپنے ہی شہر میں ایسے اجنبی بنا دیتی ہے کہ لوگ پہچاننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں_

 

*️لوگوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اگر لوگ سمجھ میں آنے لگیں تو دل اور نظر سے جانے لگتے ہیں_

 

*ہم عبادت کے لئے بنائے گئے ہیں شرارت کے لئے نہیں_

 

*ہر معاہدہ ایک بیج کی طرح ہے، ان کا انتخاب عقلمندی سے کیجئے کیونکہ ان سے کانٹے اُگیں گے یا پُھول کھلیں گے_

 

مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے سب سے بڑا نمونہ آنحضرت ﷺ کی ذات مبارکہ ہے اگر ہم سیرت طیبہ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں اس زمانے میں چندہ مانگنے والی کوئی تنظیم نظر نہیں آتی ۔مالی تعاون کے لیے اعلان ضرور ہوتاتھا لیکن جب جہاد کا موقع ہوتا ،

 

کیونکہ اس میں وافر مقدار میں وسائل کی ضرورت ہوتی تھی۔اس زمانے میں ہمیں مسجد میں اپنی ذات کے لیے چند ے کا اعلان کرنے والا بھی کوئی نہیں ملتا۔وجہ یہ تھی کہ وہ معاشرہ احساس سے بھرپور معاشرہ تھا ۔

 

جس میں عشاء کی نماز کے بعد ہر شخص دیر تک مسجد میں بیٹھا رہتا اور اس کی نظریں کسی مسافر کوتلاش کررہی ہوتیں تاکہ اسے گھر لے جائے اورمہمان نوازی کا شرف حاصل کرلے۔

 

اسی احساس ہی کا نتیجہ تھا جب گھر میں مہمان آئے تو میزبان نے چراغ بجھادیا تا کہ مہمانوں کو یہ علم نہ ہو کہ میزبان دسترخوان پر بیٹھے تو ہیں مگر ان کے ہاتھ کھانے سے رُکے ہوئے ہیں ،کیونکہ کھانا کم تھا۔

 

لیکن یہ تصویر اشرف انسانیت کے لیے سوالوں کا سمندر چھوڑ گئ ہے,

 

اسماعیل محمد ہادی ایک غریب انسان جو بے گھر تھا, وہ روزانہ گلی میں پھرنے والے بھوکے آوارہ کتوں کو کھانا کھلاتا تھا,

 

کل رات جب وہ گلی کے کنارے پہ لگے اپنے بستر پہ سویا تو اگلی صبح کا سورج دیکھنا خالق کائنات نے قسمت میں نہیں لکھا تھا

 

وہ فانی زندگی سے ابدی زندگی کا مسافر ہو گیا, جبکہ کتے اپنے محسن کے اچانک بچھڑنے پہ اسکی لاش پہ حسرت و یاس کی تصویر بنے لپٹے نظر آۓ…..

 

احساس محبّت مِیں ‏ ہم__، اتنا ہی کہتے ہیں.

 

‏تیرے بغیر بھی ہم‏_، تیرے ہی رہتے ہیں..!

 

اسی احساس کی ایک عظیم مثال ہمیں جنگ یرموک میں زخمی ہونے والے ایک صحابی کی ملتی ہے جس کا چچا زاد بھائی حذیفہ رضی اللہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کے پاس آیا اور پانی کا چھاگل اس کے منہ سے لگایا مگر قریب ہی کسی زخمی کی آوازآئی ۔

 

پہلے زخمی نے اپنے حصے کا پانی اس کی طرف بھیج دیا ۔ دوسرے زخمی نے جیسے ہی چھاگل کو منہ لگایا تو ایک اور زخمی نے پانی کے لیے آواز لگائی ، اس نے پانی والے سے کہا :اس زخمی کو پانی پلاؤ ،ہوسکتا ہے وہ مجھ سے زیادہ زخمی اور پیاسا ہو۔

 

حذیفہ رضی اللہ اس کے پاس پہنچا تو وہ شہید ہوچکا تھا ۔ وہ دوسرے زخمی کے پاس آیا تو وہ بھی شہید ہوچکا تھا ۔وہ جلد ی سے اپنے چچا زاد بھائی کے پاس آیا لیکن اس کی روح بھی پرواز کرچکی تھی۔

 

یہ احساس صرف ایک عام فرد میں ہی نہیں تھا بلکہ خلیفہ وقت کا جذبہ سب سے بڑھ کر ہوتا تھا اور اسی جذبے کا مظہر تھا کہ وہ اپنے کندھوں پر راشن لادکر بیوہ کے گھر چھوڑ آتے ہیں۔

 

آج ہمارے پاس وسائل اس زمانے سے بے حد زیادہ ہیں ۔سہولیات کی فراوانی ہے لیکن اس کے باوجو د بھی اس معاشرے میں فقر زیادہ ہے

 

،محتاج بے شمار ہیں اور ہر تیسرا شخص غربت کا مارا ہے ،جبکہ کئی سارے سفید پوش ایسے ہیں جن کی خودداری نے ان کی زبان بند کی ہے وگرنہ وہ بڑی کسمپرسی میں زندگی گزاررہے ہیں۔

 

درحقیقت یہاں ہر شخص اپنی ذمہ داریوں سے فرارچاہتاہے ۔اسلام کی اصل روح جو ہمیں ملی ہے ، اس کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے مطابق نیکی کرنے کو ہم نے دین کا نام دیا ہے۔

 

کمیونٹی سروسز یا خدمتِ خلق ایک اہم اور مقدس فریضہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس قدر بھرپورامدادکے باوجود بھی غریب طبقہ واقعتا مستفید ہورہا ہے اور دینی حکم کے مطابق ہم اپنے لوگوں کا خیال رکھ رہے ہیں؟

 

- Advertisement -

دین اسلام نے تو معاشرے کے ہر شخص کا لحاظ رکھا ہے حتی کہ پڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کی گئی کہ صحابہ کرام نے سمجھا شاید وراثت میں بھی اس کو حصے دار بنایا جائے گا۔حکم دیا گیا کہ دوسرے مسلمان کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو۔اپنے بچوں کے لیے پھل لاؤ تو اگر ہوسکتا ہے

 

پڑوسی کو بھی دے دو، نہیں دے سکتے تو ا س کے چھلکے دور جاکر پھینکو تاکہ کسی دوسرے کے دِل میں حسرت پیدا نہ ہو۔والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکی کا حکم دیا گیا کہ خیرخواہی کے مستحق سب سے زیادہ یہی لوگ ہیں۔حضور ﷺ نے ایک لڑکے کو فرمایا:’’تم اور تمہارا مال تمارے باپ کا ہے۔‘‘

 

(سنن ابن ماجہ:2291)کیونکہ والد نے اپنی جوانی کے شب و روز اور اپنی طاقت خرچ کرکے بیٹے کی تربیت کی ہوتی ہے اور معاشرے کا ایک بہترین انسان بنایا ہوتا ہے ۔

 

اس لیے بیٹے کے دِل میں کہیں یہ خیال نہ آجائے کہ مجھے یہ سب کچھ صرف میرے ہی دَم پر ملا ہے۔

 

صلہ رحمی کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ تمہارے اپنے محتاجی کا شکار نہ ہوں اور وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔زکوٰۃ اس لیے واجب کی گئی تاکہ معاشرے میں موجود غریب لوگ باعزت زندگی گزار یں ۔پھر سوال یہ ہے کہ جب دین نے اتنی تاکید سے معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ بھلائی اور اچھائی کا حکم دیا ہے

 

اور ہم اس دین کے ماننے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں تو پھر یہاں ہاتھی کے دانت دِکھانے کے اور کھانے کے اور ، والامعاملہ کیوں چل رہا ہے ؟کہیں ہم ’’دورنگی‘‘ کے شکار تو نہیں ہوئے کہ دنیا کے دوسرے کونے میں موجود لوگوں کے لیے تومحلات تعمیر کررہے ہیں

 

 

اور دِل ہی دِل میں خود کو سخاوت کا عظیم پیکر سمجھتے ہوئے نیکی کے اعلیٰ درجات پر فائر سمجھتے ہیں لیکن اپنے ہی بھائی کے مکان کی چھت ٹپک رہی ہوتی ہے، اس سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں؟!!

 

دوسرے مسلمان کو راحت پہنچانے کو بہترین عمل قرار دیاگیا ہے جبکہ ہم دوسروں کے نقصان پر خوش ہوتے ہیں۔آپ ﷺ نے یقیم کے بارے میں فرمایا:

 

’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والاجنت میں ا س طرح ہوں گے۔(دو انگلیوں کو ملاتے ہوئے )(صحیح المسلمـ:2983)

 

پھر سوال یہ ہے کہ معاشرے میں یتیم خانے کیوں بڑھ گئے؟ہم یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے کے بجائے اس کو گھر سے نکالنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟

 

 

سوال یہ بھی ہے کہ بے تحاشا صدقہ خیرات دینے والے معاشرے میں ہر دو قدم پر چندہ بکس کیوں نظر آرہے ہیں؟ہمارے ایمان پر ایک بڑا سوالیہ نشان یہ بھی ہے کہ ہمارے اپنے بھائی بہن ، رشتے دار اور ملازمین ہماری نیکیوں اورخیرخواہی سے محروم کیوں ہیں؟

 

 

امیروں کا سب سے آسان گناہ غریب کو غربت کا احساس دلانا ہے… اور بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسے امیروں کی بھرمار ہے اور افسوس اسلیئے زیادہ کہ ہم تو وہ تھے جن کی تاریخ اور تعلیم ہی انسانیت کے گرد گھومتی ہے….

 

وہ یورپ کے گندے بدبودار نجس گورے آج کسی دوست کو کسی محلے کے بچے کو کینسر ہو جائے اسکے بال گر جائیں تو اپنا بھی سر منڈوا لیتے ہیں کہ کہیں اسے احساس کمتری نہ ہو جائے کہ اسکے بال نہیں ہیں اور دوسروں کے ہیں…

 

ہائے افسوس معاشرے کے صاف ستھرے پاکیزہ مسلمانو… کلمے کی خوشبو بھی تمہیں معطر نہیں کر سکی، لمحہ فکریہ بہت پیچھے گزر گیا، ہو نہ ہو یہ لمحہ کفریہ چل رہا ہے…

 

اللہ ہم سب کو مٹی اور زمین کے ساتھ لگا رہنے کی توفیق دے کہ اسی مٹی میں سب نے جانا ہے.

 

یہ فقط سوال نہیں بلکہ وہ تازیانے ہیں جو مسلسل ہمارے ضمیروں پر پڑرہے ہیں مگر معلوم نہیں ہم کب اس حقیقت کو سمجھ پائیں گے؟

 

اسماعیل کی ‏موت اختتام نہیں ہے, بلکہ یہ ایک ایسی شروعات ہے جو اہل احساس کے لیے حقیقت کا دروازہ کھولتی ہے.خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو دنیا کو عارضی قیام گاہ سمجھ کر مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اصل منزل کی طرف رواں رہتے ہیں. وہی ہیں جو اصلاح پاگئے.

 

‏جب ہم آہستہ آہستہ زندگی کو سمجھنا شروع کرتے ہیں تو سوچ کے پنچھی ہمارے چہروں پہ عیاں ہونے لگتے ہیں ,

 

ہم کب ہنسی مذاق سے سنجیدگی کی جانب بڑھ جاتے ہیں پتا ہی نہیں چلتا,تب تک ہم وقت کے دھکے کھا کر بہت مضبوط ہو چکے ہوتے ہیں ‏‎اور سوچوں کی لکیریں چہرے پہ عیاں ہونے لگتی ہیں ,

 

 

دنیا کی رنگینیوں میں وہ سکون وہ اطمینان کہاں جو کسی چھوٹے سے گوشے میں سجدہ ریز ہونےمیں اور اللّٰـہ کریـم کی مخلوق کے بھوک ,پیاس کی حالت میں انکا وسیلہ بننے میں ہے,

 

‏‎بہترین فیصلہ چاہتے ہو تو سب کُچھ "اللّٰہﷻ” پر چھوڑ دو

 

 

زندگی ناقابل بیان حد تک غیر متوقع شے ہے جن باتوں پر ہم غیض و غضب سے چیختے ہیں ایک وقت آتا ہے کہ انہیں آنسو پیتے ہوئے خاموشی سے سہہ جاتے ہیں اور جس چیز پر کبھی تکلیف سے دل پھٹتا ہے اسے بے نیازی سے نظر انداز کر دیتے ہیں، بس رہے نام اللہ کا۔

 

 

‏بہترین اور مضبوط تعلق وہ ہوتا ہے جہاں بات کہنے سے پہلے نتیجے کے بارے سو بار سوچنا، بات کرتے ہوئے مخالف کے تیور دیکھنا، بات کے دوران ہچکچانا اور بات کرنے کے بعد پچھتانا نہ پڑے بلکہ آپ کامل اعتماد اور بھروسے کے ساتھ ہر عمدہ و نامعقول اور اہم و غیر اہم بات بلا تردد ارشاد فرما دیں۔

 

زندگی کتنی ہی تنگ، راستے کتنے ہی تاریک اور وسائل کتنے ہی محدود کیوں نہ ہو جائیں اپنے ربّ پر بھروسہ رکھیں وہی نکلنے کے اسباب پیدا کرنے والا ہے__

 

 

‏آپ کے ساتھ وہ ہو رہا ہے جو کسی اور کے ساتھ نہیں ہو رہا لیکن آپ کو وہ دیا گیا جو کسی اور کو نہیں دیا گیا، ماتم کرنے سے پہلے اپنی اوقات اور اللہ کے انعامات ضرور دیکھ لیا کریں۔

 

‏‎ناشکری کا دوسرا نام کفر ہے

 

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ

 

اور ناشکری کی سب سے کمتر نحوست یہ ہے کہ انسان ساری زندگی نامراد رہتا ہے

 

اللھم انی آعوذبک من الکفر!

 

‏ڈبویا مجھ کو ہونے نے

 

نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

 

Disappearance of feeling Writing: Babaralias
Disappearance of feeling Writing: Babaralias

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -