- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

احتساب کے بغیر ناکام جمہوریت! تحریر:شاہد ندیم احمد

Democracy without accountability! Written by Shahid Nadeem Ahmed

0 65

ملک میں احتساب ہو رہا ہے یا انتقام لیا جار ہا ہے، اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا،اس کے بارے میں ابھی سے کوئی رائے نہیں دی جا سکتی، لیکن ایک بات بڑی واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان میں احتساب ہو یا احتساب کے نام پر انتقام، اس کے بارے میں پاکستان کی اشرافیہ متفق ہے

Democracy without accountability! Written by Shahid Nadeem Ahmed
Democracy without accountability!
Written by Shahid Nadeem Ahmed

کہ اشرافیہ کی حد تک احتساب نہیں ہونا چاہیے، اس اشرافیہ میں سارے لوگ شامل ہیں کہ جن کے ہاتھ میں ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے کی طاقت ہے۔وہ اپنے اس اختیار کا بیدردی اور بے حیائی کے ساتھ اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں،

 

- Advertisement -

کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے اختیارات کے آگے کوئی بند باندھنے والا ہے اور نہ ہی کوئی اس بارے میں پوچھ گچھ کر سکتا ہے،اگر کوئی باز پرس کر نے کی جرأت کرتا ہے تو نام نہاد اشرافیہ اپنے ساتھ ملا لیتی ہے،

 

اشرافیہ نہیں چاہتی کہ کوئی اُنکا احتساب کرے،اسی لیے گاہے بگاہے قومی احتساب بیورو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تاہم جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سر براہی میں ادارہ نیب بڑے کرپٹ لوگوں پر اس طرح ہاتھ ڈال رہا ہے

 

کہ ان کی چیخیں نکل گئی ہیں۔حکومتی ایوانوں کے ساتھ اپوزیشن کو بھی سخت پریشانی لاحق ہو چکی ہے کہ نہ جانے کب کون گرفت میں آجائے، اس خطرے کے پیش نظر ادارہ نیب اور اس کے قوانین اشرافیہ کی نظر میں کھٹکنے لگے ہیں۔

 

اس میں شک نہیں کہ نیب کی کارکردگی پر عموماً سوالات اٹھائے جاتے ہیں،کیو نکہ اس کے کچھ ذمہ داران کی طرف سے ماورائے قانون اقدامات سامنے آتے رہتے ہیں،لیکن ملک میں اندھیر نگری نہیں، ایسی صورت میں عدلیہ کی طرف سے نوٹس لیا جاتا ہے۔ نیب کی کارکردگی کو کئی حلقے سراہتے ہیں اور تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔

 

عدلیہ کی طرف سے بھی نیب کی کارکردگی پر ملے جلے ریمارکس آتے رہے ہیں۔نیب پر سب سے زیادہ تنقید ان لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہے جو اسکی طرف سے قائم کئے گئے مقدمات کی زد میں آتے ہیں۔ ماضی قریب میں بھی میگا سیکنڈل کیسز کی بازگشت سنائی دی تواشرافیہ بپھر گئی تھی، نیب کے ناخن کاٹنے کی دھمکیاں دی جانے لگیں تھیں،

 

آج بھی دنیا بھر میں بلیک لسٹ کروانے کیلئے ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا جیسے لوگ خاصے متحرک ہیں،نیب پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ نیب کو اندرون اور بیرون ملک ہر فورم پر بے نقاب کیا جائیگا، نیب کا آج تک احتساب نہیں ہوا، سینٹ نیب کا احتساب کریگا،نیب اب تک اشرافیہ کی عزت اچھالتا رہا ہے، اب ہم انکی عزت اچھالیں گے۔

 

در حقیقت نیب کی زد میں آنیوالوں کو نیب ادارہ زہر لگتا ہے، جن پر کیسز بنتے ہیں، وہی اسکے خاتمے کی باتیں کرنے لگتے ہیں،ڈپٹی چیئرمین سینٹ کیخلاف نیب کے الزامات سامنے آئے تو انہوں نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا، چیئرمین نیب نے انکے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی،دونوں میں ملاقات بھی ہوئی،

 

 

- Advertisement -

اس پر میڈیا کے کچھ حصوں نے مک مکا نام بھی دیا،لیکن نیب کی طرف سے جب دوبارہ الزامات لگائے گئے تو سلیم مانڈوی والا نے جذباتی ہو کر ایسے الفاظ استعمال کئے جو انکے شایان شان نہیں ہیں۔ وہ اپنے اوپر کیس بننے پر سینٹ کو کس طرح نیب کے مقابل لا سکتے ہیں۔

 

بیرون ملک نیب کو بے نقاب کرنے سے ملک کی کتنی نیک نامی ہوگی، وہ اپنے خلاف مقد مات پر نیب کی عزت اچھالنے کی بات کررہے ہیں، انکے کچھ تحفظات درست بھی ہو سکتے ہیں، لیکن نیب کوئی آخری فورم نہیں، عدلیہ آزاد ہے، اس سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔

 

یہ امر واضح ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ سطح پر بڑی بڑی مالیت کی کرپشن ہو تی رہی ہیں، جو سخت ترین احتساب کی متقاضی ہیں، تاہم اس امر کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا کہ کسی کی پگڑی نہ اچھلے، کسی سے زیادتی نہ ہو،کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو، مگر کرپشن میں ملوث لوگ کسی رورعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

 

کرپٹ اشرافیہ جتنا مرضی واویلا کرے، کان دھرنے کی ضرورت نہیں، مجرم اور معصوم میں فرق رکھنا اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ کرپٹ اشرافیہ اپنے مفادات پر ٹھوکر لگتے ہی اکٹھی ہو رہی ہے،خود کو بچانے کیلئے حکومت گرانے کی کوشش کی جارہی ہیں، اس ساری صورتحال سے کوئی محظوظ ہو رہاہے

 

تو اس ملک کے عوام ہیں، جو کہ بلا تفریق احتساب چاہتے ہیں، کیونکہ وہ تاریخی طور پر دیکھتے آئے ہیں کہ اس ملک میں صرف کمزور ہی احتساب کے شکنجے میں جکڑا گیا، جب کہ امیروں کو اس عمل سے دور ہی رکھا گیاہے۔

 

سیاسی احتساب کی بات اور ہے جس میں سیاسی مخالفین کو سیاسی حکومتوں نے ہی اپنے اقتدار کے دوران احتسابی عمل سے گزارا،لیکن اس عمل سے بھی کچھ نہ نکل سکا، بس عوام دیکھتے ہی رہ گئے اور اشرافیہ مزے لوٹتی رہی ہے۔

 

اس ملک کے عوام کو ہمیشہ دکھایا کچھ اور عمل کچھ اور کیا گیا ہے، اگرعوام کو حقیقت دیکھا ئی جائے توبحیثیت قوم اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ احتساب کا عمل اشرافیہ سے شروع ہو کرا نہیں پر ختم ہو نا چاہئے، کیو نکہ عوام اچھی طرح جا نتے ہیں کہ ملک میں لوٹ مار اشرافی طبقے کی جانب سے کی گئی،

 

لیکن ہمیشہ احتساب سے بچتے رہے ہیں۔اس وقت بھی نیب قوانین میں سقم کے نام پر بچنے کی ایک اور کوشش کی جارہی ہے،نیب قوانین میں بہتری کیلئے ترامیم کی جاسکتی ہیں، اس عزم کا سیاسی پارٹیاں اظہار بھی کرتی ہے، مگر موقع آنے پر اتفاق رائے کرنے سے کتراتی ہیں،

 

در اصل سیاسی پارٹیوں میں موجود کرپٹ اشرافیہ نیب کا سرے سے خاتمہ چاہتے ہیں، نیب قوانین میں اصلاح ضرور ہونی چاہیے،

 

تاکہ ایک ایسا احتسابی ادارہ بن جائے کہ کرپٹ عناصر بچ نہ پائیں اوربے قصور اسکی تپش سے محفوظ رہیں۔عوام کا ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے کہ معاشرے میں سب کا بے لاگ، بلا امتیاز احتساب ضرور ہونا چاہئے، کیونکہ اگرجمہوریت میں احتساب نہ ہو تو ایسی جمہوریت ناکام جمہوریت کہلاتی ہے۔

 

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -