- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

کورونا دنیا کے آخری کونے تک پہنچ گیا

انٹارٹیکا سمیت دنیا کا کوئی براعظم اس مہلک وائرس سے اب محفوظ نہیں رہا

0 9

اس وقت زمین پر جہاں جہاں انسان بستے ہیں وہاں کورونا وائرس تشریف لا چکا ہوا ہے۔حیرت تو یہ ہے کہ انسانوں کے ساتھ جانوروں میں بھی اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے تاہم سب سے زیادہ مہلک یہ وائرس انسانوں کے لیے ہی ثابت ہوا ہے۔

 

کورونا دنیا کے آخری کونے تک پہنچ گیا
ایک سال تک کورونا نے خوب تباہی مچائی اور اب جب اس کی ویکسین تیار ہو گئی اور ہمیں لگا کہ اس وبا سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا مل جائے گا تو اس وائرس نے اپنی ہیئت تبدیل کرتے ہوئے ایک نئی مہلک شکل اختیار کر لی اور کورونا کی اس نئی قسم نے برطانیہ میں لوگوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

 

اس وقت دنیا میں صرف ایک براعظم انٹارٹیکا تھاجو کہ اس موذی وبا کی پہنچ سے محفوظ تھا مگر اب وہ بھی نہیں رہا۔اس کورونا وائرس کی نئی لہر نے اس محفوظ براعظم کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اب وہاں بھی کورونا کے کیسز سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

 

- Advertisement -

براعظم انٹارکٹیکا اب تک کورونا وائرس سے پاک رہنے والوں میں شمار ہوتا تھا تاہم اب یہ مہلک وائرس دنیا کے تمام براعظموں تک پہنچ گیا ہے۔

 

- Advertisement -

براعظم انٹارکٹیکا کے برنارڈو او ھائینس ریسرچ سینٹر میں تعینات چلی کے فوجی اہلکاروں میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 36 اہلکاروں میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جن میں 26 جوان اور 10 سویلین افراد شامل ہیں۔

 

گزشتہ دنوں بھی چلی سے سامان اور افراد کو لیکر جانے والے جہاز کے عملے کے 3 ارکان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد اب ریسرچ اسٹیشن پر بھی کیسز مثبت نکل آئے ہیں۔

 

رپورٹس کے مطابق چلی نے 36 مریضوں کو واپس بلالیا ہے جہاں ان کی طبیعت کافی بہتر ہے جبکہ ان کی جگہ دوسرے عملے کو تعینات کیا گیا ہے۔

 

انٹارکٹیکا میں بھی کیسز رپورٹ ہونے کے بعد اب دنیا کا کوئی بھی براعظم ایسا نہیں جہاں یہ مہلک وائرس نہ پہنچا ہو۔

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -