- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

اے پی سی اور شہباز شریف کی گرفتاری۔تحریر: سجاد وریاہ۔۔۔۔گمان

Arrest of APC and Shahbaz Sharif. Written by Sajjad Wariah

16

پیپلزپارٹی کی میزبانی میں بلائی گئی اے پی سی،جس کو ایک حکومتی وزیر’اینٹی پاکستان کانفرنس‘ کہہ رہا تھا،میں کیے گئے فیصلوں اور نوازشریف کی تقریر کے چرچے ابھی جاری تھے کہ شیخ رشید نے اپوزیشن کی نمائشی گیدڑ بھبھکیوں اور جمہوریت پسندی کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوڑ دی،

 

 

جب انہوں نے میڈیا پر بتانا شروع کر دیا کہ یہ جوسیاسی و جمہوری پوپ بنے ہوئے ہیں،چند دن قبل آئی ایس آئی کے میس میں ڈنر کر کے آئے ہیں۔تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈراپنے وفود کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔وہاں معاملہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے حوالے سے ڈسکس ہوا،

 

 

یہی اس ملاقات کا ایجنڈا بھی تھا،لیکن سول،عسکری ملاقات کا دورانیہ اس قدر طویل تھا کہ ایجنڈے سے ہٹ کر بھی بہت سے موضوعات زیر بحث آئے۔میں سمجھتا ہوں ایسی سول عسکری ملاقاتیں ہوتی رہنی چاہئیں۔اس سے سول اور عسکری قیادت کے درمیان فاصلے کم ہو نگے۔

 

- Advertisement -

اعتماد میں اضافہ ہو گا۔جناب شہباز شریف، بلاول زرداری،مولانا اسد،مولانا سراج الحق سمیت تمام جماعتوں کی نمائندگی تھی۔میں اس ملاقات کو بہت مثبت انداز میں دیکھتا ہوں،اس طرح ایک دوسرے سے بات کرنے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے،لیکن اس بات پر حیران ہوں کہ ان سیاسی رہنماوٗں نے اس ملاقات کو خفیہ ملاقات کیوں بنا دیا؟ ان کو چاہئے تھا کہ کھل عام جاتے اور خود بتاتے کہ ہم نے اس ایجنڈے پر ملاقات کی ہے،

 

 

 

 

اسطرح ایک تو منفی تاثر نہ ملتا،دوسرا شرمندگی و سُبکی سے بچ جاتے۔پہلی بات یہ کہ سیاسی قیادت کو سیاسی و جمہوری بلوغت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا،میزبانوں سے پوچھتے کہ ملاقات آئی ایس آئی کے میس میں کیوں ہو رہی ہے؟ اس ملاقات کا اہتمام عسکری قیادت کیوں کر رہی ہے؟

 

 

سیاسی و جمہوری حکومت اس ملاقات کی میزبان بنے اور سیاسی و عسکری قیادت کو پارلیمان میں ملاقات کی دعوت دے،لیکن یہ ایسے دوڑے کہ جسطرح مقابلہ ہو کہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے،ان کو تو موقع مل گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی شکایتیں لگانا شروع ہو گئے،یہ بھی چھوٹے پن کا مظاہرہ کیا انہوں نے۔

 

 

محترمہ شیری رحمان نے مناسب سوال کیا کہ وزیر اعظم کہاں ہیں؟
جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ اس ملاقات کے ہونے میں کوئی حرج نہیں،لیکن کھل عام،واضح ایجنڈے و موضوع پر،اس میں کوئی مسئلہ نہیں،اپنی فوج سے نہیں ملیں گے تو کس سے ملیں گے؟لیکن خفیہ نہیں اور آئی ایس آئی کے میس میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ بہترین اور بالادست فورم ہے۔

 

 

سیاستدانوں نے خو د پارلیمنٹ کی توقیر کو کھو دیا ہے،سیاستدان اپنی اخلاقی ساکھ برباد کر چکے ہیں۔کرپشن،نااہلی،منی لانڈرنگ ان کے من پسند مشغلے ہیں۔اپنے اثاثے بڑھ گئے اور ملک مقروض ہو گیا ہے۔پچھلے دس سالہ جمہوری دور میں ملکی معیشت اور ادارے بربادی کی پاتال کو چھونے لگے۔سیاسی قیادت نے کسی کردار کا مظاہرہ نہیں کیا۔جب اقتدار میں ہوتے ہیں ایک دوسرے کو چور کہتے

 

ہیں اور سڑکوں پر گھسیٹتے ہیں،جب اقتدار چھن گیا،ایک دوسرے کے ہمدرد بن گئے،وہی چور محبوب بن گئے۔اس سے عوامی سطح پر سیاستدانوں کے اقوال کا کھوکھلاپن واضح ہوجاتا ہے۔

 

 

عوام سمجھتے ہیں اب اپنا دُکھ پیٹ رہے ہیں ان کا قومی ایجنڈا کوئی نہیں،اپنی کرپشن کا دفاع کر رہے ہیں اور ان کے ترجمان الزام تراشی اور بے معنی الفاظ کی جگالی کرنے میں یدِطُولیٰ رکھتے ہیں۔جب فوج سے ملاقات کر لی،پیار محبت کی باتیں کر لیں تو اے پی سی میں بھڑکیں مار کراپنے اخلاقی زوال کا اظہار کرنا ضروری تھا کیا؟

 

 

- Advertisement -

نوازشریف نے جو تقریر کی،اخلاقی دیوالیہ پن کا نقطہ عروج نظر آیا۔اُف کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا کہ چند ہفتے پہلے پلیٹ لیٹس کا بہانہ بنا کر بھاگ نکلے اور اب اخلاقیات،اصول پسندی اور جمہوریت پر بھاشن دے رہے ہیں۔ان کی اس مہم جوئی اور انقلابی تقریر ایسے ہی ہے جیسے کوئی پہلوان میدان سے بھاگ جائے،

 

 

دور جاکر مخالف کو گالیاں دینا شروع کر دے۔میرا خیال ہے انہوں نے دلیری نہیں حماقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ویسے بھی ان کا کو ئی مشن نہیں،کوئی ایجنڈا نہیں۔ان کی بھڑک بازی کے اثرات کا سامنا ان کی جماعت کو کرنا پڑے گا۔ان کی اخلاقی پوزیشن کمزور ہے،ان کے بھاگ جانے سے ان کا بیانیہ اپنی موت آپ مر چکا ہے،

 

 

دوچار دن سوشل میڈیا پر نعرے اور بھڑکیں نظر آئیں گی،اسکے بعد ختم۔اپوزیشن جماعتوں کو ایک بارپھر متحرک کیا گیا ہے لیکن مجھے ایسے لگتا ہے کہ اس اتحاد کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ جائے گی کیونکہ یہ اتحاد کوئی خاص پاور شو نہیں کر پائے گا۔اسکی عملی وجوہات کو دیکھیں تو صرف مولانا فضل الرحمان سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔

 

 

پیپلز پارٹی نے نوازشریف سے تقریر کروا کر تسلی کر لی ہے کہ اب ن لیگ نہیں بھاگے گی لیکن میرا ”گمان“ ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے مسلم لیگ ن کو نقصان ہو گا،وہ اسطرح کہ پارٹی کا مصالحت پسند چہرہ اور نرم آواز بند کر دی گئی ہے۔شہباز شریف سے امید کر سکتے ہیں کہ وہ جیل میں بیٹھ کر طاقتوروں سے کوئی اتفاق کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

 

 

اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ دباوٗ،جلسے جلوسوں یا لانگ مارچوں سے خود کو کرپشن کے الزامات سے صاف کروالیں گے۔ابھی یہ مرحلہ بہت دور ہے،نوازشریف نے اپنی جماعت کی مشکلات بڑھا دی ہیں،جیسا نواز شریف کہہ رہے ہیں ایسا کرنا ان کی جماعت کے لیے ممکن ہے؟اگر ممکن ہے تو خود کیوں بھاگے؟ان کو چاہئے تھا ایسے جلوسوں کی قیادت کرتے،اس طرح ان کی جماعت کے لوگوں کا حوصلہ بلند رہتا،لیکن انہوں نے بزدلی دکھائی،

 

 

پارٹی کے لوگ سمجھ رہے ہیں ایک بھائی لندن بیٹھا ہے ایک خوشی سے جیل گیا ہے،اب یہ رہنما سڑکوں پر مار کھائیں گے۔اگر دکھاوے کے لئے نکل بھی آئے تو کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ خاموش بیٹھے گی۔اگر الطاف حسین جیسا بیانیہ بنایا گیا تو انجام سے واقف ہی ہو نگے۔میں سمجھتا ہوں کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے ن لیگ کو شیخ رشید کے بقول ش لیگ میں بدلنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔جماعت کے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے

 

 

کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ لے کر اس ملک میں سیاست کس طرح کریں گے،ممکن ہے وہ شہباز شریف کی طرف دیکھ رہے ہوں کہ جیل سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں اور مسلم لیگ کو ”ن“ سے ”ش“ میں بدلنے کا اشارہ دے دیں۔اسطرح پارٹی بھی بچ جائے گی اور اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ بھی رہے گا۔نواز شریف اور مریم نواز کی قیادت مشکلات میں اضافہ کرے گی۔محمد زبیر سابق گورنر کی جنرل باجوہ سے ملاقات نے دونوں باپ بیٹی کے بیانیے کو ایکسپوز کر دیا،

 

 

عسکری قیادت نے جس طرح خفیہ ملاقاتوں کا تذکرہ کیا،اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اب پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہیں،سب سے زیادہ سخت موقف مولانا کا ہے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ کوئی خاص مزاحمت نہیں دکھائیں گی،پیپلز پارٹی کی ایک صوبے میں حکومت ہے وہ کبھی نہیں چاہے گی کی حکومت چھوڑ دیں۔اگر دوبارہ حکومت بنانا پڑی تو پھر بھی اسی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنا پڑے گا،اگر ہار گئے حکومت نہ ملی تو کیا انجام ہو گا؟ صوبے کااقتدار بھی جائے گا۔

 

 

میں سمجھ رہا تھا کہ پیپلز پارٹی نے نوازشریف سے انقلابی تقریر کروا کر اپنا حساب برابر کر لیا ہے جب میمو گیٹ اسکینڈل میں نواز شریف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ جا پہنچے تھے اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے خلاف تھے۔لیکن شہبازشریف کی گرفتاری نے اس سارے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے۔

 

 

شہبازشریف خوش ہیں،اے پی سی کے اعلامیے اور تحریک سے بھی بچ گیا ہوں اور پارٹی کو ہدایات دی جائیں گی کہ ہتھ ہولا رکھو اور مذاکرات بھی ہونے کی امید لگ گئی ہے۔

 

 

یہ میرا”گمان“ ہے،معلومات کی بات نہیں کر رہا۔اپوزیشن جماعتیں ابھی تک اعتماد کے فقدان کا شکار ہیں۔شہباز شریف کی گرفتاری کی ٹائمنگ نے اس معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔وہ خود بھی اے پی سی اور تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔میرا خیال ہے انہوں نے دانشمندی کا مظا ہرہ کیا ہے۔

 

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.