نقطہ نظر کیا ہے؟ تحریر : عبدالحفیظ ظفر

akhtarsardar.com

انسان کی اپنے بارے میں رائے آئینے میں عکس کی طرح ہوتی ہے

ہر شخص کا کسی مسئلے پر ذاتی نقطہ نظر ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ کے اس ذاتی نقطہ نظر سے تمام لوگ اتفاق کریں۔کچھ آپ کے ذاتی نقطہ نظر سے اتفاق کریں گے جبکہ کچھ ایسے بھی ہوں گے جنہیں آپ کے نقطہ سے اختلاف ہوگا۔ یہ نقطہ نظر ایسے ہی قائم نہیں ہو جاتا۔ اس کے لئے پہلے آپ کی بصارت کام کرتی ہے۔

چیزوں کو پرکھنے کے لئے آپ کی دماغی قوت بھی آپ کا ساتھ دیتی ہے پھر کہیں جا کر آپ کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ جب آپ خوب غور و غوض کے بعد کوئی نتیجہ اخذ کرتے ہیں تو آپ کے لئے اس سے پیچھے ہٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں کہنا چاہئے کہ وہ ایک ایسا نتیجہ ہوتا ہے جس سے آپ فرار حاصل نہیں کر سکتے۔ اسے انگریزی میں Inescapable Conclusion کہتے ہیں۔

نقطہ نظر بنانے کے لئے سب سے پہلے آپ کو یہ چیک کرنا چاہئے کہ آپ کا موڈ کیا ہے؟ کیا آپ اپنے موڈ کو درست طریقے سے سمجھ سکتے ہیں؟ آپ کے احساسات کیا ہیں؟ آپ اپنی ذہانت کو صحیح طریقے سے بیان کر سکتے ہیں یا نہیں؟کیا آ پ کا دماغ مستعد ہے؟ آپ جو کام کرنا چاہتے ہیں اس کی صلاحیت انسانوں میں موجود ہے۔ جانوروں میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی۔ ہم اسے خود آگاہی کہتے ہیں یہ وہ صلاحیت ہے جس کی بنا پرآپ کے سوچنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔

یہ وہ چیز ہے جس کی وجہ سے انسان کو دنیا کی ہر چیز پر فوقیت حاصل ہے اور یہی وہ سبب ہے جس کے بارے میں مشہور مفکر ہنری ڈیوڈ کہتا ہے ”میں اس حوصلہ افزا حقیقت سے زیادہ نہیں جانتا کہ انسانی قابلیت اور صلاحیت ہر شک و شبے سے بالاتر ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جس کی بدولت ہم دوسروں کے تجربوں سے سیکھتے ہیں۔

 

حتیٰ کہ اپنے تجربوں سے بھی سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور یہی صلاحیت ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ آپ کوئی عادت اپنا بھی سکتے ہیں اور پھر اسے ترک بھی کر سکتے ہیں اور یہی وہ قابلیت ہے جو آپ کی زندگی کو شعوری کوشش سے بہت اوپر لے جا سکتی ہے‘‘۔

اگر ہمارے نقطہ نظر کی تشکیل سماجی آئینے(Social Mirror) کی مر ہون منت ہے تویہ نقطہ نظر کئی حوالوں سے ناقص ہو سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے نقطہ نظر کی تشکیل میں لوگوں کی رائے اور نظریات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں یعنی آپ کی اپنے بارے میں رائے یا خیال آئینے میں عکس کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے مطابق آپ کے ذہن میں جو سوالات اُبھر سکتے ہیں وہ کچھ اس طرح کے ہوں گے۔

1۔آپ کبھی وقت پر اپنا کام نہیں کرتے۔

2۔آپ کبھی کبھی اپنی چیزوں کوترتیب سے نہیں رکھتے۔

3۔آپ کے لئے ایک فنکار ہونا بہت ضروری ہے۔

4۔آپ گھوڑوں کی طرح کھاتے ہیں۔

5۔میں یہ یقین نہیں کر سکتا کہ آپ جیت گئے۔

6۔یہ بہت سادہ سی بات ہے آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتی؟

یہ نقطہ نظر کسی تناسب کے بغیر ہیں اور منقطع ہیں۔ اس بات کو فراموش مت کیجئے کہ آپ کے رویے اور مزاج میں جینیاتی جبریت (Genetic Determinism) اہم کر دار ادا کرتی ہے۔

زیادہ تر لغات میں آپ کو لٹریچر کا مطلب نہیں ملے گا۔ دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی حیثیت سے ہم اپنی زندگی کے ذمہ دار خود ہیں۔ نہایت اہم بات یہ ہے کہ ہمارا رویہ ہمارے فیصلوں کا تعین کرتا ہے یعنی ہمارے فیصلوں کے پیچھے ہمارے رویوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ہم اپنے احساسات کو اقدار کے تحت ماتحت کر سکتے ہیں۔اب ایک اورلفظ پر یقین کیجئے۔یہ ہے ذمہ داری۔ذمہ داری کا دراصل مطلب یہ ہے کہ آپ جواب یا ردعمل کا انتخاب کیسے کرتے ہیں۔بہت زیادہ لوگ ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا یہ موقف ہوتا ہے کہ جو لوگ کسی چیز کی ذمہ داری لیتے ہیں وہ حالات کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے اور نہ ہی وہ اپنے رویے کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس بات کا بھی ذمہ دار نہیں ٹھہراتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو کام کرنے کے ماحول کے مطابق ڈھال نہیں سکے۔

کچھ لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ فوری طور پر ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کو انگریزی میں Reactiveکہتے ہیں۔ ردعمل کا اظہار ایک حد تک ٹھیک ہے لیکن اگر آپ ضرورت سے زیادہ ردعمل کا اظہار کریں گے تو یہ عمل آپ کے نقطہ نظر کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ان کا رویہ ان کے شعوری انتخاب کی وجہ سے سامنے آتا ہے۔ ردعمل رکھنے والے لوگوں پر سماجی ماحول کا بھی اثر پڑتا ہے۔ جب لوگ ان سے اچھا برتاؤ کرتے ہیں تو انہیں بہت اچھا محسوس ہوتا ہے اور جب ایسے لوگوں سے اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تو پھر وہ دفاعی رویہ اختیار کرتے ہیں یا پھر اپنی حفاطت کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

یہ بات بھی نوٹ کر لیں کہ فعال لوگ (Pro-Active People)کسی چیز سے متاثر نہیں ہوتے۔نہیں جناب ایسا نہیں ہے ان لوگوں پر بیرونی محرکات بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔چاہے محرکات طبعی ہوں، سماجی ہوں یا نفسیاتی۔ لیکن بیرونی محرکات کو یہ لوگ جو جواب دیتے ہیں ان کی بنیاد اقدار پر ہوتی ہے۔

سابق امریکی صدر روز ویلٹ نے کہا تھا ”آپ کو آپ کی مرضی کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا‘‘۔مذکورہ بالا تمام اوصاف آپ کو اپنے نقطہ نظر کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں یعنی یہ خوبیاں اپنا کر آپ اپنے اصولوں کی عمارت تعمیر کر سکتے ہیں جس کی بنیاد آپ کے نقطہ نظر کی اینٹوں پر رکھی ہو۔ اگر آپ ان اصولوں کو نہیں اپناتے تو یقین رکھیں کسی بھی معاملے پر آپ کا نقطہ نظر خامیوں سے پاک نہیں ہوگا۔

(مصنف سٹیفن آر کووے کی بیسٹ سیلر بک ”دی سیون ہیبٹس آف ہائلی افیکٹیو پیپل‘‘ سے اقتباس)

 

اپنی رائے کا اظہار کریں