کینسر: پاکستان میں اس قدر سستا کیوں ؟ تحریر : تحریم نیازی

akhtarsardar.com

کچھ عرصہ پہلے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتے کینسر ، بالخصوص منہ کے کینسر بارے ایک رپورٹ میں جو حقائق پیش کر رہا تھا وہ اس قدر ہولناک اور ہوش ربا تھے جنہیں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس نے کراچی شہر میں جہاں گٹکا ، چھالیہ ، اور مین پوری وغیرہ کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے .

ایک سروے کے دوران جب ایک شہری سے سوال کیا کہ ”آپ یہ جانتے ہوئے کہ یہ گٹکا اور مین پوری وغیرہ نہ صرف مضر صحت ہیں بلکہ کینسر جیسے موذی مرض کا موجب بھی ہیں تو آپ یہ کاروبار ختم کیوں نہیں کر دیتے؟۔

اس شہری کا جواب تھا ”یہ کاروبار بند کرنے کا صاف مطلب اپنے بچوں کو گویا بھوک سے مارنا ہے‘‘۔
اس پر متعلقہ نمائندے کا جواب تھا ”آپ کے پاس تو کاروبار کی تبدیلی کی صورت میں آپشن ہے لیکن گٹکا استعمال کرنے والوں کے پاس موت ہی واحد آپشن ہے‘‘۔
کچھ عرصہ پہلے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے ایک بیان میں کہا تھا ”گٹکا اور مین پوری وغیرہ کینسر اور منہ کی دیگر بیماریوں کی بنیادی وجہ ہیں۔

 

طویل عرصے تک گٹکا،اور مین پوری کھانے سے مسوڑھوں، حلق، پھیپھڑوں ، معدے اور پروسٹیٹ کینسر کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں‘‘۔ اس سے پہلے کہ ہم گٹکے وغیرہ کے مزید نقصانات اور خدشات پر نظر ڈالیں، یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر گٹکا ، مین پوری،ماوا وغیرہ کیا ہیں اور ان کی تیاری کس طرح ہوتی ہے۔
گٹکا کیا ہے اور کیسے بنتا ہے؟

گٹکا، چھالیہ، ماوا اور مین پوری وغیرہ دراصل ”گٹکے‘‘ ہی کی مختلف اشکال ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں یہ ایک قسم کا مصالحہ ہے جو جوتری، لونگ ، الائچی ، پستہ، چونا ، تیزاب، پسا ہوا شیشہ، افیون اور مختلف قسم کے کیمیائی اور نشہ آور مادوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی تیاری میں جو چھالیہ استعمال ہوتی ہیں عمومی طور پر اسے پھپھوندی (فنگس)لگ چکی ہوتی ہے جس کے استعمال سے جگر اور پھیپھڑوں کے کینسر میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

گزشتہ سال منہ کے کینسر سے زندگی کی بازی ہارنے والی کراچی کی 24 سالہ صنوبر نے اپنی موت سے پہلے اپنے وکیل کے ذریعے کراچی کی عدالت میں گٹکے کی تیاری اور فروخت کی جو قانونی جنگ شروع کی تھی اخبارات میں اس کی تفاصیل شائع ہوتی رہی ہیں۔ وہ ہم سب بالخصوص ہمارے اداروں کے لئے لمحہء فکریہ ہیں۔ متاثرہ خاتون صنوبر کا موقف تھا ”میں جس فیکٹری میں کام کرتی تھی

 

ایک دن وہیں مجھے میری ایک دوست نے گٹکا دیا۔ جسے کھاتے ہی میرا ذہن سن ہو گیا اور مجھے سرور سا آنے لگا اور پھر میں اس کی عادی ہوتی چلی گئی۔ چنانچہ چار سال متواتر استعمال کے نتیجے میں، میں منہ کے کینسر میں مبتلاہو گئی۔ صنوبر نے عدالت سے اس پر پابندی کی یہ کہہ کر استدعا کی کہ گٹکا کی تیاری میں ، جانوروں کا خشک خون، مضر صحت کیمیائی اجزاء ، مردہ چھپکلی کا خشک پاؤڈر، چونا، غیر معیاری چھالیہ اور ناقص کتھا وغیرہ بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔

 

سندھ ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے دوران محکمہ صحت کے ایک ذمہ دار افسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں گزشتہ سال منہ کے کینسر کے 4780 مریض لائے گئے تھے۔

کینسرجیسے مہلک مرض سے چشم پوشی کیوں ؟

پاکستان کے بیشتر شہروں بالخصوص،کراچی میں سڑکوں فٹ پاتھوں پر چند سکوں کے عوض بکتی یہ ”موت کی پڑیاں‘‘ حکومت کو آخر کیا پیغام دے رہی ہیں؟۔موت بانٹتی یہ پڑیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ کب حاصل کر پائیں گی؟

فوڈ اتھارٹی،صحت اور خوراک کے متعلقہ محکموں کی اس بارے میں چشم پوشی آخر کب تک ؟ یہ اور اس جیسے بے شمار سوال ہمیں چیخ چیخ کر پکارتے ہیں کہ کوئی ہے جو وطن عزیز کو ان جیسے ناسوروں سے بچائے؟

یہ بات تو اپنی جگہ درست ہے کہ اس بارے قانون موجود ہے کہ نہ تو یہ مضر صحت نشہ آور چیزیں بننی چاہئیں اور نہ ہی فروخت ہونی چاہئیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے اس صحت دشمن مافیا کو آخر لگام کون ڈالے گا ؟ کیا یہ مافیا واقعی اس قدر طاقتور ہے کہ حکومتی مشینری ان کے سامنے بے بس ہے؟ لیکن میری رائے میں درحقیقت ایسا حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے ورنہ اگر حکومت چاہے تو اس ناسور کا قلع قمع دنوں نہیں بلکہ گھنٹوں میں ممکن ہے۔

اس کی مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ بسنت جو ایک زمانے میں لاہور کا سب سے مقبول تہوار ہواکرتاتھا۔ روایتی ڈور جب ” دھاتی ڈور ‘‘میں تبدیل ہوئی تو انسانی جانوں کی ہلاکت کا باعث بنتی چلی گئی۔حکومت پنجاب نے انسانی جانوں کا ضیاع روکنے کیلئے جو قانون منظور کرایا اس کے تحت نہ صرف پتنگ بازی پر پابندی لگا دی گئی بلکہ پتنگ اور ڈور کی فروخت کو بھی خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔

جس کے تحت پتنگ بازی یا اس کے سامان کی فروخت کی صورت میں علاقے کے ایس ایچ او پولیس کو ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔چنانچہ حکومت کے اس قدم کے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ابھی دو روز پہلے ہی سندھ ہائی کورٹ نے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں گٹکے کی غیر قانونی فروخت پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ایسا، پولیس کی آشیر باد کے بغیر ممکن ہی نہیں لہٰذا عدالت عالیہ نے حکم نامہ جاری کیا کہ متعلقہ علاقوں کے پولیس افسروں کے اثاثوں کی چھان بین کرائی جائے۔

منہ کے کینسر کے مریضوں کیلئے غذائیں

ایک امریکی تحقیق کے مطابق تیس فیصد کینسر خوراک سے ہوتے ہیں۔ لیکن منہ کے کینسر کی عمومی وجہ گٹکا اور دیگر متعلقہ نشہ آور اشیاء ہیں۔

٭…اگر منہ میں چھالے ہوں یا کینسر کے باعث منہ کی سرجری ہوئی ہو تو پھیکے کھانوں کو ترجیح دی جانی چاہئے۔دوسرا ان کو پسی ہوئی اور نرم شکل میں ہونا چایئے

تاکہ چبائے بغیر نگلا جا سکے۔

٭…دلیہ، سوپ، پڈنگ ، کسٹرڈ اور کھیر وغیرہ ترجیحی غذاؤں میں شامل ہونا چاہئے۔

٭…زیادہ نمک والے اور تیزابیت پیدا کرنے والی غذاؤں سے اجتناب برتنا چاہئے۔

٭…اگر چھالوں کی وجہ سے دانتوں میں برش کرنا ممکن نہ ہو تو انگلی پر بیکنگ سوڈا لگا کر دانتوں کو صاف کیا جا سکتا ہے۔

٭…کیمو تھراپی کی صورت میں اگر پیٹ خراب ہو جائے تو چربی والی غذائیں ،پھل ، گندم سے بنی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہئے۔

تحریم نیازی معروف ماہر غذائیات (نیوٹریشنسٹ) ہیں،آپ لاہور کے مختلف کلینکس سے وابستہ ہیں)

اپنی رائے کا اظہار کریں