مطمئن زندگی کا راز تحریر : بینش جمیل

akhtarsardar.com

کسی وادی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جو ہمیشہ بہت خوش، پرسکون اور مطمئن رہتا تھا۔ وہ جس سے بھی ملتا خوش دلی اور محبت سے ملتا۔ سب کے ساتھ ہمدردی کرنا اس کی فطرت میں شامل تھا۔ وہ ہر وقت مسکراتا اور ہمیشہ اچھے اور حوصلہ بڑھانے والے جملوں کا تبادلہ کرتا۔ جو کوئی بھی اس سے ملتا وہ خود کو بہت بہتر محسوس کرتا۔ اس سے ملنے والا شخص اپنے اندر ایک جذبہ،جوش اور خوشی محسوس کرتا۔ لوگ اس کو بہت پسند کرتے تھے اور اس کا دوست ہونے پر فخر محسوس کرتے تھے۔

اسی گاؤں کے رہنے والے عنان نامی ایک دوسرے شخص کو ہمیشہ تجسس رہتا کہ آخر اس کا راز کیا ہے؟ کس طرح یہ شخص ہمہ وقت ہمدرد اور مددگار رہ سکتا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس بندے کو کسی سے حسد، جلن نہ ہو؟ کیسے یہ شخص ہر وقت خوش اور مطمئن رہتا ہے؟

ایک بار اتفاق سے عنان کو وہ شخص کہیں راستے میں اکیلا مل گیا تو عنان نے اس شخص سے پوچھا: آج کل کے دور میں لوگوں کی اکثریت خود غرض، منافق اور بے چین ہے اور وہ اس طرح خوش اور مطمئن نظر نہیں آتے جس طرح آپ ہیں،اور آج کل کوئی کسی کا اتنا ہمدرد اور مدد گار نہیں جتنا آپ ہیں۔آخر اس فرق کو آپ کس طرح بیان کریں گے؟ میں اس فرق کی وجہ جاننا چاہتا ہوں؟

اس نرم دل اور خوشحال انسان نے مُسکرا کر پیار سے عنان کی طرف دیکھا اور کہا ”جب آپ کی اپنی ذات میں سکون ہوتا ہے تو آپ باہر کی دنیا میں بھی سکون پھیلاتے ہیں۔ آپ دنیا کو وہی دیتے ہیں جو آپ کے اندر ہوتا ہے۔ جب آپ اپنی روح اور اپنے نفس کو پہچان لیتے ہیں تو آپ ہر کسی کے نفس اور روح کو پہچان سکتے ہیں۔ تب آپ کو پتا چلتا ہے کہ سب کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آنا دراصل قدرتی عمل ہے‘‘۔

”اگر تمہارے خیالات تمہارے تابع اور تمہارے اپنے کنٹرول میں ہیں تو تم ایک مضبوط اور مستحکم اور پائیدار شخصیت کے مالک بن جاتے ہو۔ انسان کی ظاہری شخصیت بالکل ایک روبوٹ کی طرح ہوتی ہے، جو اس کی پروگرامنگ کردو وہ بالکل اسی طرح کرتا رہتا ہے۔ ان ہی لگے بندھے مخصوص کاموں میں لگا رہتا ہے۔ ہم لوگ جو کچھ اپنے بچپن سے سنتے اور دیکھتے چلے آتے ہیں آہستہ آہستہ وہی ہماری شخصیت بن جاتی ہے اور پھر ہم اس کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ درحقیقت تمہارے خیالات اور عادات تمہاری پرگرامنگ ہیں۔

اپنے آپ کو اس بوسیدہ اور پرانی پروگرامنگ سے باہر نکالو اور پھر دیکھو کہ تمہارے اندر موجود اچھا انسان کیسے ظاہر ہوتا ہے‘‘۔
” لیکن زندگی میں کام بھی تو ضروری ہے۔ اچھی عادات تو باقاعدہ پیدا کرنی پڑتی ہیں، سیکھنی پڑتی ہیں۔ عادات پر مکمل دھیان دینا، اپنے خیالات پر نظر رکھنا ان کو سدھارنا اور طاقت دینا، اس سب کے لئے بہت طاقت او ر ہمت چاہیے۔یہ تو ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے جسے عبور کرنا پڑے گا اور یہ سب آسان نہیں‘‘۔ عنان نے دردبھرے لہجے میں کہا۔

”پریشانیوں اور مشکلات کا مت سوچو ورنہ تمہیں صرف وہی نظر آئیں گی اور تم انہی کا سامنا کرو گے۔ اپنے احساسات کو خاموش کردو اور سکون میں رہنے کی کوشش کرو۔ تمہاری تمام صلاحیتیں اور طاقتیں خودبخود جاگنے لگیں گی۔ تمہیں ان سب پر براہ راست کام نہیں کرنا پڑے گا بلکہ یہ سب تمہارے پرسکون ذہن سے از خود پیدا ہوں گی۔ صرف پر سکون رہنے کی کوشش کرو۔ اپنی ذات کو اپنے خیالات کے دھارے ہر کبھی مت چھوڑو‘‘۔
”بس صرف اتنا کرنا ہوگا ‘‘؟ عنان نے سوال کیا

اپنے خیالات پر نظر رکھو،دیکھو اور ان کا بغور مشاہدہ کرو۔خاموشی سے صرف دیکھتے جاؤ۔ ہو سکتا ہے شروع میں یہ سکون کم وقت کے لئے ہو لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دائرے میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہی وہ سکون اور طاقت ہے، ہمدردی اور پیار ہے۔ جب تم اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لوگے کہ تم وہ ایک ہو جس کے پاس ایک عالمگیر اور آفاقی طاقت ہے تو تم اپنی جھوٹی انا اور خود غرضی کی بجائے زندگی کو ایک مختلف زاویے سے سمجھنے کے قابل ہو جاؤ گے‘‘۔ اس نے جواب دیا۔

”میں آپ کے ان الفاظ کو ہمیشہ یاد رکھنے کی کوشش کرو ں گا‘‘ عنان نے کہا اور اپنی بات کو جاری رکھا: ” ایک بات اور ہے جو میں نے آپ کی شخصیت میں محسوس کی او ر جس کے بارے میں مجھے بہت تحسس ہے۔ آپ کبھی ماحول سے متاثرہ ہوتے دکھائی نہیں دیتے،آپ ہمیشہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی،پیار محبت سے پیش آتے ہیں،ہر کسی کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں جبکہ لوگ آپ کی اچھائیوں اور نیکیوں نے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ آپ سے اچھی طرح پیش آتے ہیں۔ کیا آپ لو گوں کا یہ رویہ اور منافقت بری نہیں لگتی ؟‘‘

” ضروری نہیں کہ نیکی اور کسی سے اچھا برتاؤ کرنا آپ کی کمزوری ہو۔ کسی سے اچھائی کرنا دکھاوے کے لئے نہیں ہوتا۔ یہ آپ کی اپنی شخصیت کیلئے مفید ہے۔ جب آپ اچھے ہوتے ہیں تو آپ مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ لوگوں کی کسی بھی بات کو اپنی ذات پر حاوی مت ہونے دیں۔ آپ کی نیکی دراصل آپ کی بہت بڑی طاقت ہوتی ہے نہ کہ آپ کی کمزوری‘‘۔

”آپ کی نصیحت کا بہت بہت شکریہ‘‘ عنان نے مسکرا کر اس شخصیت کا شکریہ ادا کیا اور خوشی خوشی ایک مطمئن زندگی کی جانب چل پڑا۔

(بینش جمیل پشاور کے ایک تعلیمی ادارے میں معلمہ ہیں اور کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں،مندرجہ بالا مضمون ان کی ایک کتاب سے لیا گیا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں