مہنگائی کے طوفان سے گھبرائے عوام! تحریر: شاہد ندیم احمد

www.akhtarsardar.com

 

حکومت نے بجلی،،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرکے عوام کے معاشی وجود کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اس وقت بجلی،گیس، پٹرول کے نرخ سابق ریکارڈ توڑتے ہوئے ملکی تاریخ میں بلند ترین مقام پر پہنچ چکے ہیں، لیکن وزیراعظم اب بھی بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ غریب عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جائے، غریب عوام کو ریلیف پہنچایا جائے، ہمیں اپنی ذمے داری کا مکمل احساس ہے،جب کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کا مہنگائی میں کمی نہ ہونے سے خبردار کرتے ہوئے کہناہے کہ محض پاکستان میں ہی مہنگائی نہیں ہوئی، بلکہ دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے،حقیقت یہ ہے کہ پا کستان آئی ایم ایف کی غلامی میں جاکر اُن کی شرائط پر عمل کر تے ہوئے سیاسی و اقتصادی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔

تحریک انصاف حکومت میں غریب اور متوسط طبقے کی زندگی روزانہ کی بنیاد پر بدترین اور مشکل ہوتی جارہی ہے،جبکہ سرمایہ دار اوراشرافیہ پھل پھول رہے ہیں،پی ٹی آئی قیادت کا کہناتھا کہ خودکشی کرلیں گے،مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، لیکن اس وقت ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ د آئی ایم ایف کی غلامی کی جارہی ہے،آئی ایم ایف کی منشاء کے مطابق عوام کا گلا دبایا جارہا ہے، عوام کی کھال اتارنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرکے آئی ایم ایف سے داد لی جاہی ہے،اس سے قبل سخت شرائط پر قرضہ لیا گیا اور اب مزید سخت شرائط پرقرض لیا جارہا ہے،اس کی وجہ سے آئندہ آنے والے دنوں میں قوم کو مزید مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہرحکومت کا کام عوام کو آنے والے معاشی بحرانوں سے بچانا ہے،مگر موجودہ حکومت تین سال سے کنارے پر کھڑے ہو کرعوام کو بڑھتی مہنگائی میں ڈوبنے کا تماشا دیکھ رہی ہے،وزیراعظم نے تین سال میں ملکی معیشت بہتر کر نے کیلئے تین وزیر خزانہ ضرور تبدیل کیے،مگر یہ سب ہی آئی ایم ایف کے گن گانے والے اور اُس کے ہی وفادار نظر آئے، ان میں سے کوئی ایک بھی ملک و قوم کے لیے سوچنے والا نہیں تھا، موجودہ وزیر خزانہ شوکت ترین بھی منصب سنبھالنے سے پہلے دعویٰ کرتے رہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط مانے اور مہنگائی بڑھائے بغیر بھی مالی تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے،اگر انہیں موقع ملا تو ایسا ہی کریں گے، لیکن وزیر خزانہ بنے کے بعد ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا،بلکہ اُلٹا عوام سے کہا جارا ہے کہ مہنگائی نیچے نہیں آئے گی۔

یہ گمبھیر صورت حال بتاتی ہے کہ ملک میں بڑھتی مہنگائی کا سبب محض عالمی حالات نہیں، بلکہ اس میں ہماری معاشی مجبوریوں اور حکومتی ناقص پالیسیوں کا بھی نمایاں حصہ ہے،حکومت اپنی معاشی پا لیسی پر نظر ثانی کرنے کی بجائے عوام پر ہی دباؤ بڑھائے جارہی ہے، ملک میں مہنگائی کے جن پر قابو پانے کا طریقہ درست نہیں ہے کہ سارا بوجھ عام آدمی پر منتقل کیا جاتا رہے کہ جس کی کمر اس عفریت نے پہلے ہی توڑ رکھی ہے،حکومت اپنا سارا بوجھ انتہائی بلند محصولات کے ساتھ عوام پر نہیں لاد سکتی،ایسا ہونا خوفناک نتائج کا محرک بن سکتا ہے، حکومت کی وزارتوں اور اہم ذمہ داریوں کے حامل عالی دماغوں اور سرکاری ماہرین کو عوامی نقطہ نظر،مسائل اور قوت برداشت کے تناظر میں صورتحال کا جائزہ لینا ہو گا،ورنہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

اس وقت جب عوام بجلی،پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے سکتے کے عالم میں ہیں، حکومتی مشیروں کی جانب سے خطے کے بعض ممالک میں بجلی، تیل کی قیمتوں کے ساتھ پاکستانی قیمتوں کا تقابل غیر دانشمندانہ ہے،حکومتی وزراء اور مشیران کو سمجھنا چاہیے کہ وہ آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھ کر زیادہ دنوں تک لوگوں کو بے وقوف نہیں بناسکتے، کیونکہ حالات چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ صورت حال بڑے انتشار، خانہ جنگی یا فساد کی طرف بڑھ رہی ہے جو کسی کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے،اس وقت ملک میں جس قسم کی بدحالی ہے، اُس میں ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی شامل ہے، اپوزیشن کو بھی مقتدر قوتوں کی طرف سے ان مظالم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غم و غصے کو کنٹرول کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے، اس لیے اپوزیشن عوامی ایشوز پر بھی ظاہری شور شرابے، جلسے جلوس سے زیادہ کچھ نہیں کررہی ہے۔

یہ حیرانگی کی بات ہے کہ ملک میں اتنی زیادہ مہنگائی اور بے روزگاری ہوگئی ہے، لیکن کوئی مزاحمتی عوامی تحریک کہیں بھی نظر نہیں آتی ہے،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بجلی، گیس، پٹرول کی قیمت میں بتد ریج اضافے کے بعد لوگ سڑکوں پر آجاتے، لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے، لوگ باہر نہیں نکل رہے ہیں،کیو نکہ انہیں سیاسی قیادت پر اعتبار نہیں رہا ہے،عوام اچھی طرح جان چکے ہیں کہ سیاسی قیادت کی ترجیح عوام نہیں ذاتی مفادات ہیں، لیکن یہ صورت حال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رکھی جا سکتی،عوام کا غم و غصہ انتہاؤں کو پہنچ رہا ہے، مہنگائی کے طوفان سے گھبرائے عوام کچھ بھی کرسکتے ہیں،اگر حکومت نے عوام کے مسائل کے پیشِ نظر اپنے فیصلوں پر نظر ثانی نہ کی تو پھرعوام بھی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہو جائیں گے اور ان کے پاس سیاسی قیادت ٹھکرانے کے علاوہ کوئی رستہ نہیں رہے گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں