نظام تعلیم تباہی سے بچایا جائے! تحریر: شاہد ندیم احمد

www.akhtarsardar.com

 

ایک ذہین طالب علم تعلیمی میدان میں دن رات محنت کرکے جو نمایاں پوزیشن حاصل کرتا ہے،وہ اس کا مستحق اور ملک و قوم کے لئے فخر و انبساط کا باعث ہے،تاہم اس سال ملک بھر کے امتحانی بورڈز کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کے نتائج میں سیکڑوں طالب علموں کو 1100میں سے 1100نمبر دیکر ورطہ ئ حیرت میں ڈال دیا ہے،ماہرین تعلیم الگ انگشت بدنداں ہیں کہ پل ہی پل میں کیا ہو گیاکہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا، ایسے امتحانی نتائج پرخوش ہونے کی بجائے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے،یہ ٹھیک ہے کہ کورونا کے باعث ہمارا امتحانی نظام بے حد متاثر ہوا ہے،لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں ہے کہ رعایت کی آڑ میں نمبروں کی لوٹ سیل لگا دی جائے،اس طرح ہم نے بظاہر خود کو ایک بحران سے نکال لیا ہے، لیکن آنے والے برسوں میں نظام تعلیم اور غریب اور محنتی طلبہ کے مستقبل کے لئے ایک ایسا تعلیمی خلا پیدا کر دیا ہے کہ جو مدتوں ہمارے فیصلوں پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔

ہمارے نظام تعلیم پر پہلے ہی بہت سے سوالات اُٹھائے جاتے ہیں، اس باررہی سہی کسر سالانہ امتحانات کے نتائج نے پوری کردی ہے، کورونا وبا کے باعث وزارت تعلیم نے امتحانات میں رعایت دینے کی بات کی تھی،لیکن رعایت دینے کا مطلب ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا کہ تمام طلباء کو نہ صرف کامیاب قرار دے دیا جائے، بلکہ انہیں پورے پورے نمبر بھی دے دیے جائیں،اس طرح کے اقدامات سے ایک ایسے غلط کار نظام کی بنیاد رکھی جا رہی ہے جو آنے والے برسوں میں نہ صرف معاشرے میں قحط الرجال، تعلیمی تفریق اورمحنتی طلبہ میں احساس کمتری کا باعث بنے گا، بلکہ اگلے سال محنت سے امتحان پاس کرنے والے طلباء جب میرٹ پر پرکھے جائیں گے تو ان کی حق تلفی کا بھی خدشہ ہو گا،ہم نے رعایت کی آڑ میں اپنے نظام تعلیم کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

حکومت ایک طرف نظام تعلیم کو بہتر بنانے کی دعویدار ہے تو دوسری جانب نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے اقدامات کے جو نتائج سامنے آرہے ہیں،وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں،اس بار لاہور سیکنڈری و ثانوی تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام حالیہ تعلیمی نتائج (2021)میں کامیابی حاصل کرنے والے سوا دو لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات محض اس لئے فرسٹ ائیر میں داخلے سے محروم رہ جائیں گے،کیو نکہ غیرمعمولی طور پر اعلیٰ نتائج سے کالجوں کے میرٹ میں اضافہ ہوگا، یہ صورتحال گزشتہ ماہ خیبرپختونخوا کے مردان اور دوسرے بورڈوں سے شروع ہوکر سندھ کے بعد اب پنجاب میں سامنے آئی ہے،اس کے مطابق فیصل آباد بورڈ میں کامیابی کا تناسب 99.4فیصد، گوجرانوالہ 99.29، ساہیوال 99.23، راولپنڈی 99.1رہا اور سیکڑوں امیدواروں نے سو فیصد نمبر حاصل کیے ہیں، اس صورت حال میں تمام کامیاب امیدواروں کے اگلی جماعت میں داخلے ہوتے دکھائی نہیں دیے رہے ہیں۔

اس کی وزارت تعلیم کو کوئی فکر لاحق نہیں کہ کامیاب طلباء کو اگلی کلاسوں میں داخلہ کیسے ملے گا؟انہوں نے سب امتحانات دینے والوں کو پورے پورے نمبر دیے کر اپنا فرض اداکردیا ہے، دراصل اس کی سب سے بڑی وجہ اہلیت کا فقدان ہے،ہمارے ہاں وزارت تعلیم سے لے کرمحکمہ تعلیم، امتحانی بورڈ تک بدانتظامیوں اور بدعنوانیوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے، ہر سطح پر خرابیوں کا اجتماع ہے کہ جس کا تدارک نہیں کیا جاسکا ہے، اعلیٰ افسران کی تقرریوں، ترقیوں اور تبادلوں سے لے کر امتحانات تک مسلسل بدنظمی، بدانتظامی، بدعنوانیوں اور نااہلیت کے مظاہرے میڈیا کے ذریعے سامنے آتے رہتے ہیں،لیکن حکومت کی جانب سے زبانی کلامی وقتی و نمائشی نوعیت کے اقدامات کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا جاتا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے پاس کوئی واضح نصب العین ہے نہ ہی امتحانات کے سلسلے میں کوئی جامع پالیسی ہے،اس لیے بار بار پرانی ہی غلطیاں دہرائی جارہی ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ موجودہ حکومت نظام تعلیم کو بہتر کرنے کی خواہاں ہے،اس حوالے سے یکساں نصاب تعلیم سے لے کر تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات حوصلہ افزا ہیں،تاہم اس ملک کے بگڑے تعلیمی نظام کو بدلنے کیلئے جب تک وزارت تعلیم سے لے کر محکمہ تعلیم تک سے نا اہلوں اورکالی بھیڑوں کا صفایا کر کے تقرریوں، تعیناتیوں، ترقیوں، تبادلوں اور داخلوں میں اہلیت کو معیار نہیں بنایا جائے گا، نظام تعلیم تباہی سے بچانے کا خواب ادھورا ہی رہے گااور اہلیت کے حامل ماہر تعلیم کے ساتھ اہل طلبا کا بھی اجتماعی استحصال ہوتا رہے گا، کاش! ہمارے ارباب اختیار و اقتدار اپنی ذمے داریوں کو محسوس کرتے ہوئے، اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس کریں اور تعلیمی اداروں اور محکموں میں میرٹ کو یقینی بنائیں،اداروں میں میرٹ لائے بغیر نظام تعلیم میں تبدیلی کے د عوئے خود کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں،اس پر خوشی کا اظہار کرنے کی بجائے مزید غور فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں