ڈاکٹر اجمل نیازی کا سفر آخرت تحریر: علامہ عبدالستار عاصم

www.akhtarsardar.com

ابھی چند ہفتے ہوئے ہیں کہ نظریات سرحدوں کے محافظ جناب ڈاکٹر صفدر محمود، محسن پاکستان عبدالقدیر خان اللہ کو پیارے ہوئے تھے کہ محسن ادب جناب ڈاکٹر اجمل نیازی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ سچی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر اجمل نیازی ہمارے خاندان کے سرپرست تھے۔ ہمیشہ سرپرستی کی، اچھے مشورے دیے اور ہمارے ادارے کو بھرپور سپورٹ بھی کیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سابق چیف آف آرمی سٹاف جناب راحیل شریف کو ڈاکٹر صاحب نے خط لکھا اور فون بھی کیا کہ علامہ عبدالستار عاصم نے بانی پاکستان پہ ایک بڑا خوبصورت اور تحقیقی کام کیا ہے ”انسائیکلو پیڈیا آف جہانِ قائد“ جو کہ پانچ جلدوں پر مشتمل ہے اور یہ کتاب آرمی کی تمام لائبریریوں میں موجود ہونی چاہیے۔ تو جنرل راحیل شریف ڈاکٹر اجمل نیازی سے بے حد پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اسی وقت ایک آرڈر جاری کر دیا جس سے الحمدللہ ”انسائیکلو آف جہانِ قائد“ اب آرمی کی تمام لائبریریوں میں موجود ہے۔

اس کے ساتھ نبی کریمؐ کے تمام مکتوبات پر مشتمل کتاب ”انسائیکلو پیڈیا مکتوبات“ بھی آرمی کی لائبریریوں میں اساتذہ اور نوجوانوں کی ریسرچ کے لیے موجود ہے۔ اسی طرح اس زمانے کے سیکرٹری لائبرریز اوریا مقبول جان کو بھی فون کیا کہ انسائیکلو پیڈیا جہانِ قائد بڑی اہم کتاب ہے آپ دیکھیں۔ اوریا مقبول جان نے بھی ڈاکٹر صاحب کی بڑی عزت کی اور احترام کیا۔ پنجاب کی بڑی لائبریریوں کے لیے یہ کتاب خرید کر تقسیم کی۔ اسی طرح بیگم صاحبہ کو انھوں نے بہن بنایا ہوا تھا اور فیملی میں اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ ان کی یادداشتیں اتنی بڑی ہیں کہ ان کے لیے ایک الگ کتاب انشاء اللہ بہت جلد مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ ڈاکٹر محمد اجمل خاں نیازی نے پچھلے چار عشروں میں اس قدر کام کیا ہے کہ وہ اب ایک حوالہ بن گئے ہیں۔ اپنی ذات میں انجمن والی صورتِ حال ہو گئی ہے۔ وہ اپنی ذات میں لکھنے پڑھنے کا ایک ادارہ بن گئے ہیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی بحیثیت کالم نگار اپنے شعبہ میں اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔ شاعری میں ان کی غزل گوئی کمال کی ہے۔ میانوالی کی مٹی اپنی زرخیزیت کی وجہ سے بہت شہرت رکھتی ہے۔ اس مٹی سے بہت سارے پھول کھلے نہ صرف دنیائے ادب بلکہ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی بہت سی مشہور شخصیات کا تعلق بھی میانوالی سے ہے۔

ان شخصیات میں تلوک چند محروم جگن ناتھ آزاد، رام لعل، سید نصیر شاہ، فاروق روکھڑی، کوثر نیازی، یحییٰ امجد، ابو المعاآنی عصری، گلزار بخاری، ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، میاں فیروز شاہ، خاور نقوی، حسنین بخاری، محمد منصور آفاق ان شعراء اور نثر نگاروں کے علاوہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا تعلق بھی میانوالی سے ہے اور ہمارے بہت ہی نامور گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی اور محمد ذیشان بھی میانوالی ہی سے ہیں۔ میانوالی کی ادبی سرگرمیوں کے متعلق ڈاکٹر وحید قریشی کا کہنا ہے: ”میانوالی کی ادبی سرگرمیاں ہر دور میں عروج پر رہی ہیں۔ تاریخ ادب کے کئی بڑے نام اس سے وابستہ ہیں۔ تلوک چند محروم، سورج نرائن میر، ملک منظور حسین منظور کے نام کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس عروس البلاد کی آبیاری میں پچھلی صدی کے ربع اوّل میں مفتی احمد سعید کا نام نامی بہت اہم تھا۔ انہوں نے یہاں کی ادبی سرپرستی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس طرح ربع دوم میں ان کے داماد منیر حسین شاہ نے اس روایت کو مزید مستحکم کیا۔ اب بھی یہ سرزمین علم و ادب سے خالی نہیں۔ جگن ناتھ آزاد، رام لعل، فیروز شاہ اور نثر نگاروں میں ابو المعانی عصری اور قاسم شاہ کے بغیر کوئی تاریخ ادب مکمل نہیں ہو سکتی۔“ ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ایک کثیر الجہات ادیب ہیں۔ ان کی علمی و ادبی کاوشوں کا دائرہ بہت وسیع ہیں۔ ان کی جہات ادب کے کینوس پر سات رنگوں کی طرح ہیں۔ وہ بیک وقت نقاد، شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، محقق پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی اہم شخصیت ہیں۔ اردو معاصر مناظرنامہ کے اُفق پر ایک روشن نام ہیں۔

اجمل نیازی کا تعلق میانوالی کے گاؤں موسیٰ خیل سے ہے جیسا کہ نیازی خاندان کے کریم داد خان نیازی اجمل نیازی کے والد محکمہ پولیس میں تھے۔ ایک دیانت دار اور شریف انسان چونکہ وہ پولیس میں تھے اس لیے ان کا تبادلہ تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد ہوتا رہتا تھا۔ اس طرح ان کے بچوں نے بہت سی جگہیں بچپن ہی میں دیکھ لی تھیں۔ کریم داد خان کو ہزاروں اشعار یاد تھے۔ اجمل نیاز اپنی تصانیف ”بازگشت“ میں لکھتے ہیں: ”جب وہ خان گڑھ میں تھانیدار تھے تو ایک دن نواب زادہ نصر اللہ خان (بابائے جمہوریت) نے ابا جی سے کہا ”آپ جیسے لوگ تو بھولے سے اس محکمے میں آ گئے ہیں۔“ وہ نہایت چپ رہتے تھے۔ ان کو عربی و فارسی، اُردو پنجابی شعر و ادب سے لگاؤ تھا۔ وہ اکثر کتابیں پڑھ کر اجمل نیازی کو اور ان کے بہن بھائیوں کو سناتے۔ اقبال کی نظمیں، حفیظ کا شاہنامہ، چوہدری افضل حق بھی پولیس میں تھے مگر استعفیٰ دے دیا تھا لیکن کریم داد خان مستعفی نہ ہوئے۔ اجمل نیازی کی والدہ سخت مزاج مگر بہت ہی خوبصورت خاتون ہیں۔ ماں کو اجمل نیازی بہت پسند ہیں۔ ماں کے بارے میں اجمل نیازی کا کہنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ تو اس نے یہ تخصیص تو نہیں کی کہ ماں بوڑھی ہو یا جوان یا یہ کہ ماں انگریز نہ ہو مسلمان ہو۔ ماں تو ماں ہوتی ہے۔“ ان کے بڑے بھائی اکبر نیازی ان کے ابا جی کی طرح شفیق اور شریف انسان ہیں۔ درد و گداز اور سوز و ساز میں بھی اپنے ابا کی تصویر ہیں۔ دوسروں سے بہت ہی اپنائیت سے ملنے والے انسان ہیں۔

ان کے بھائی اصغر نیازی دنیا میں آنے سے پہلے بھی ان کے ہم نشین تھے۔ کیونکہ شکم مادر میں دونوں اکٹھے تھے۔ اجمل نیازی ان کے متعلق کہتے ہیں: ”اس کے اندر ایک دریا ہے۔ مگر وہ تالاب کے کنارے بیٹھا پانی کو دیکھتا رہتا ہے۔ وہ قابل آدمی ہے مگر وہ اپنے آپ کو ”قابل“ آدمی سمجھتا ہے۔“ چھوٹا بھائی انور نیازی نشتر ہسپتال ملتان میں ڈاکٹر ہے۔ اجمل نیازی کی چھے بہنیں ہیں جو کہ بہت ہی اچھی ہیں۔ اجمل نیازی کے ماموں حاجی غلام سرور خان کامیاب ماہر تعلیم تھے۔ انہیں غالب اور حالی پورے کے پورے یاد تھے۔ کوثر نیازی ان کے خاندان کے پہلے باقاعدہ شاعر و ادیب ہیں۔ ان کی نانی نہایت شفیق اور رحم دل خاتون تھیں۔ وہ ان کے نانا کی خدمت کو عبادت سمجھتی تھیں لیکن نانا ان کی اتنی قدر نہیں کرتے تھے۔ ان کے دادا خان جہان خان امیر نہ ہوتے ہوئے بھی شہر کے سردار تھے بہت ہی دانا انسان تھے۔ ان کے چچا خان حقدار خان سادگی کا پہاڑ پولیس کے کپتان تھے۔ یہی چچا بعد میں ان کے سسر بھی بنے۔ ان کے چچا ان کے پاس رہتے تھے حالانکہ ان کا بیٹا بھی لاہور میں رہتا ہے مگر ان کو ان کے پاس رہنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ اجمل نیازی ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ”انہوں نے کبھی زندگی میں کوئی اور گوشت نہیں کھایا۔ ہمیشہ بکرے کا گوشت کھاتے تھے۔“ اجمل نیازی 16ستمبر 1947ء کو میانوالی میں پیدا ہوئے۔ 18 اکتوبر 2021ء کو وفات پا گئے۔ وہ میانوالی میں موسیٰ خیل کے مقام پر کریم داد خان نیازی کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کے ہم عمر ہیں۔ ان کے والد پولیس میں تھے لیکن وہ غریب تھے۔ ان کو بھی اردو ادب سے بہت گہری وابستگی تھی۔ کیونکہ یہ لوگ گاؤں میں رہتے تھے اس لیے گاؤں کی تہذیب اور کلچر ان کے رہنے سہنے سے عیاں ہوتا تھا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ”ایک فلسطینی شاعر ہے محمود درویش اس کی ایک نظم کی ایک لائن مجھے بہت یاد آتی ہے”وطن اپنی ماں کے ہاتھوں کی پکی ہوئی روٹی کھانے کا نام ہے۔“

 

ان کا بچپن بھی بالکل اسی طرح ایک عام دیہاتی بچے کی طرح گزرا۔ ان کی اماں جب چولہے کے پاس بیٹھ کر روٹی بناتی تو یہ سب بہن بھائی بھی ان کے گرد بیٹھ جاتے اور چولہے سے اُترتی تازہ روٹی کھاتے۔ بچپن سے ہی اپنے والد صاحب سے شعر و ادب کی چیزیں سنتے چلے آئے تھے۔ اجمل نیازی ادبی ذوق کی حامل شخصیت اردو، عربی، فارسی، پنجابی شاعری کا شروع سے ہی خاصا شوق تھا۔ کیونکہ ان کو علم و ادب کی دوستی وراثت میں ملی تھی۔ کیونکہ والد صاحب اقبال، حفیظ جالندھری اور افضل حق کی تحریریں پڑھ کر سناتے اور حضوؐر کی نعتیں پڑھتے وقت تو اشک بار ہو جاتے تھے۔ اجمل نیازی کی مادری زبان سرائیکی ہے اور وہ پٹھان ہیں۔ نہایت خوبصورت سرخ و سفید رنگت کے مالک۔ عام لباس پہنتے ہیں اور عام انسان کی طرح رہتے ہیں۔ اجمل نیازی نے ایف اے تک مختلف سکولوں کالجوں میں تعلیم حاصل کی۔ بی اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ ایم اے اردو بھی گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ یوں وہ راوین ہیں۔ 1969ء میں انہیں گورنمنٹ کالج کا سب سے بڑا اعزاز رول آف آنرز دیا گیا۔ ایک راوین کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔ اس زمانے میں گورنمنٹ کالج علمی و ادبی سرگرمیوں کا محور و مرکز تھا۔ ڈاکٹر نذیر، ڈاکٹر اجمل، پروفیسر محمد عثمان، قیوم نظر اور جیلانی کامران وہاں علم و دانش کے موتی لٹا رہے تھے۔ ایم اے اردو کی کلاسیں اورینٹل کالج میں ہوتی تھیں۔ کیونکہ تب گورنمنٹ کالج میں کلاسیں نہیں ہوتی تھیں۔ سہیل احمد خان، اجمل نیازی سے ایک سال آگے تھے۔ بعد میں اُستاد بن کر آئے کبھی کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ اُستاد آپ کا کلاس فیلو یا کالج فیلو بھی ہوتا ہے۔ ایم اے اردو کے بعد اجمل نیازی نے ایم اے پنجابی اور فارسی میں بھی داخلہ لیا۔ مگر امتحان نہیں دیا۔ اجمل نیازی لکھتے ہیں:

”میں نے بی اے، ایم اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ یہاں مجلس اقبال اور پنجابی مجلس کے لیے سیکرٹری کے فرائض انجام دیے۔ ”راوی“ کا ایڈیٹر مقرر ہوا۔“ وہ مجلس اقبال، پنجابی مجلس اور بزم نذیر کے سیکرٹری رہے۔ یادگار تقریبات اور اشاعتوں کا اہتمام کیا نیو ہوسٹل میں بزمِ نذیر بنائی۔ اس کے پہلے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر نذیر مرحوم نے کی کئی برسوں کے تعطل کے بعد ہوسٹل میگزین ”پطرس“ کا ایک خاص شمارہ ترتیب دیا اور ”پطرس“ کے بھی ایڈیٹر ہوئے۔ ۰۷۹۱ء میں کالج یونین کی صدارت کا انتخاب لڑا لیکن ہار گئے۔ وہ لکھتے ہیں:”۰۷۹۱ء میں ”محور“ کا چیف ایڈیٹر بنا“ طالب علمی کا دور بے روزگاری کا تھا۔ کئی کئی دن جیب خالی رہتی، کسی اخبار میں لکھتے ٹی وی یا ریڈیو پروگرام کرتے اس طرح کچھ پیسے ملتے۔ ڈاکٹر سہیل احمد خان، اجمل نیازی کی کتاب ”تشخص“ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں: ”جب میں اورینٹل کالج لاہور میں ایم اے سال اول کا طالب علم تھا تو اجمل نیازی گورنمنٹ کالج لاہور کے معروف طلبہ میں شامل تھا۔ ”مجلس اقبال“ مشاعرہ بیادِ بخاری، اور راوی تین ایسے دریچے تھے جن سے لاہور کے ادبی حلقے گورنمنٹ کالج لاہور کی ادبی سرگرمیوں کا نظارہ کرتے تھے۔ اجمل نیازی ان تینوں دریچوں کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔“ ۸۸۹۱ء میں ان کو ماہر کشمیریات محمد الدین فوق کی علمی و ادبی خدمات پر تحقیقی مقالہ کے لیے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی۔ گویا ڈاکٹر محمد اجمل نیازی گورنمنٹ کالج لاہور سے پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔ اجمل نیازی کی شادی ان کے چچا خان حقدار خان کی بیٹی سے ہوئی۔ ان کی بیگم صاحبہ کا نام رفعت ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب جو کہ مضامین پر مشتمل ہے۔ اس کا انتساب بھی اپنی بیگم صاحبہ کے نام کیا ہے۔ دراصل انہوں نے لکھا ہے کہ ”رفعت اور رفعتوں کے نام“ ان کا کہنا ہے کہ ”میں نے تو رفعتوں بلندیوں کے لیے لکھا تھا مگر میری بیگم اب تک ناراض ہیں کہ یہ رفعتیں کون ہیں۔

“ ان کی شادی ان کے ابا کی مرضی سے ہوئی۔ حالانکہ ان کا خیال ہے کہ (Non Practical) بے عمل آدمی ہیں۔ مگر پیار کرنے والوں کی بات ٹالی نہیں جا سکتی اس لیے انہوں نے اپنے والد کی رضا کے آگے سر تسلیم خم کر دیا۔ ۴۷۹۱ء میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوا۔ ان کی بیگم صاحبہ ایک بہت ہی اچھی خاتون ہیں۔ ان کے والد کے انتقال کے بعد ان کے بہن بھائیوں کو سنبھالا۔ ان کی والدہ ابھی بھی ان کے پاس رہتی ہیں اور یہ تب ہی ہوتا ہے اگر خاتون خانہ اچھی ہو تو۔ وہ اپنی بیگم کے متعلق اپنے بارے میں لکھی ہوئی اپنی ہی تحریر میں رقم طراز ہیں: ”میری بیوی بھی بدنصیب عورت ہے۔ اس کی آنکھوں میں چکاچوند روشنیاں بھری ہیں اور میرے دل میں مٹی کا دیا جل رہا ہے۔ ہم ہمسفر ہیں اور ہمراز نہیں بن سکے۔“ خیر ان کی بیگم بہت ہی اچھی خاتون ہیں۔ کھانا بہت اچھا پکاتی ہیں اور سارے گھر کو بہت سلیقے سے رکھتی ہیں اور ان کے ساتھ ایک کامیاب زندگی گزار رہی ہیں۔ اجمل نیازی کی ازدواجی زندگی ۴۷۹۱ء سے اب تک نہایت کامیابی اور پرسکون طریقے سے گزر رہی ہے۔ کیونکہ گھر میں سکون ہو تو ہی بندہ اتنا پرسکون نظر آتا ہے جتنے کہ اجمل نیازی صاحب۔ اجمل نیازی کے تین بچے ہیں۔ ایک بیٹی اور دو بیٹے۔ بیٹی تقدیس اور بیٹا حسان اور سلمان ان کی زندگی ان تینوں کے آنے سے مکمل ہو گئی اور یہ ایک بھرپور اور اچھا گھرانہ ہے۔ بیٹی کی شادی ہو گئی ہے اس کے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ ایک بیٹے کی شادی ہو گئی ہے۔ اس کی ایک بیٹی ہے۔ ”میری بیٹی تقدیس بیٹا حسان اور سلمان کسی نبی کے بارے میں لکھا ہے کہ اُسے بے موسم کے پھل بھی میسر آ جاتے ہیں یہ تینوں اپنی رت کے منتظر ہیں۔“ ان کے بچے بھی اپنی زندگیوں میں کامیاب ہیں اور خوش حال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ۲۷۹۱ء میں انہوں نے گورڈن کالج راولپنڈی میں شعبہ اُردو کے لیکچرار کے طور پر اپنے تدریسی سفر کا آغاز کیا۔ گورڈن کالج میں انہیں ہفت روزہ بلیٹن اور بزم ادب کا نگران مقرر کیا گیا۔ راولپنڈی کو ادبی مرکز بنانے میں گو رڈن کالج کا بہت اہم کردار ہے۔ ۵۷۹۱ء میں اجمل نیازی کو ان کے آبائی شہر میانوالی کے گورنمنٹ کالج میں بھیجا گیا۔

یہاں بھی انہیں ادبی
میگزین ”سہیل“ اور بزمِ ادب کا نگران بنایا گیا۔ انہوں نے کئی سالوں کے تعطل کے بعد ”سہیل“ کی ایک خاص اشاعت کا اہتمام کیا۔ جس میں میانوالی کی تاریخی، تہذیبی اور تخلیقی تصویر نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ ”سہیل“ کے ادارے میں اجمل نیازی نے گورنمنٹ کالج لاہور کی یاد سے اپنے دل و زمین کو آباد کیا میانوالی کالج کے پرنسپل راوین پروفیسر محمد نواز تھے۔ ۲۷۹۱ء میں کل پاکستان مشاعرہ بھی یہاں ہوا ”سہیل“کی تعارفی تقریب بھی ہوئی جس میں ملک کے نامور شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ اجمل نیازی نے میانوالی اکیڈمی کی بنیاد رکھی جو ابھی تک اہم تقاریب منعقد کر رہی ہے۔ کالج کی مجلس اردو کا نام بزمِ عالم کر دیا۔ اجمل نیازی نے شہر اور کالج کے رابطے بحال کیے۔ پروفیسر جگن ناتھ آزاد اور رام لعل میانوالی آئے تو مختلف جگہوں پر گئے۔ قومی سطح کی ادبی کانفرنسوں میں اجمل نیازی نے میانوالی کی نمائندگی کی۔ اجمل نیازی لکھتے ہیں: ”مجھے گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ ایک بڑی سرخوشی اور سلامتی سے بھری ہوئی یاد ہے۔ جس نے گزرے دنوں کی مسرت اور حیرت سے ہمیشہ مجھے شاد رکھا۔ اس ادارے کی تعلیمی اور تخلیقی روایات اور تہذیبی سلسلے بہت تابدار ہیں۔ کسی بھی ادارے کو ایسا ہی مردم خیز ہونا چاہیے۔ گورنمنٹ کالج میانوالی کے ادبی میگزین ”سہیل“ کا اداریہ لکھتے ہوئے گورنمنٹ کالج لاہور کا تذکرہ ایک مکمل ادارے کی آرزو کے سوا کچھ نہیں۔“ لاہور سے متعدد نامور شعراء، ادبا اور اساتذہ اجمل نیازی کی دعوت پر میانوالی تشریف لے گئے۔ اس طرح انہوں نے لاہور کو میانوالی سے مربوط کرنے کا کارنامہ کیا۔ ۱۸۹۱ء میں سمندری بھیج دی گئے۔ اسی برس وہاں سے گورنمنٹ اسلامیہ کالج لاہور کینٹ پہنچے۔ اس کالج کا حال دور افتادہ کالجوں سے اچھا نہ تھا۔ یہاں انہوں نے علمی و ادبی سرگرمی کا ارادہ دلوں میں بیدار کیا۔ ”سرچشمہ“ میں ملک کے معروف کالج میگزینز کے بارے میں تبصروں پر ایک خصوصی جائزہ شامل کیا گیا۔ ۲۸۹۱ء میں حلقہ اربابِ ذوق کے بلامقابلہ سیکرٹری منتخب ہوئے۔ ان تعلیمی اداروں میں ہوتے ہوئے اجمل نیازی کا فکری اور تحقیقی رابطہ گورنمنٹ کالج کے ساتھ ہمیشہ قائم رہا۔ ۳۸۹۱ء میں انہوں نے عطاء الحق قاسمی کے ساتھ بھارت کا سفر کیا۔

یہاں مختلف ادبی تقاریب دہلی، لکھنو، علی گڑھ، انبالہ اور امرتسر میں ہوئیں ان میں شرکت کی۔ ہر جگہ سے پھرتے پھراتے ۵۸۹۱ء میں اپنی محبوب درس گاہ گورنمنٹ کالج لاہور آ گئے۔ ع پہنچی وہاں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا ……جہاں مجلس اقبال کے انچارج بنے۔ عرصہ سیکرٹری سے انچارج تک کا سفر محشر سے کم نہیں۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور سے ریٹائر ہوئے۔ پروفیسر کے عہدے سے ان کو پرنسپل بننے کے لیے بھی بہت جگہوں پر مواقع ملے۔ مگر وہ اُستاد رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”میں گپیں بہت چھوڑتا ہوں۔ بات کچھ ہو میں کسی اور طرف چلا جاتا ہوں اس لیے طلباء دوسری کلاسوں سے بھی میری کلاس میں بھاگ آتے ہیں۔“ آج کل وہ پنجاب یونیورسٹی میں اعزازی پروفیسر کے طور پر حمید نظامی پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھنا تو طالب علمی کے دور سے ہی شروع کر دیا تھا لیکن اس کا آغاز ایک راز ہے اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے: ”کچھ پتہ نہیں ہوتا ازل کیا ہے ابد کیا ہے۔ ازل اس کے پیچھے ابد سامنے نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے۔“ ان کو لکھنے کا ابتدا ہی سے شوق تھا۔ پھر مواقع مل گئے۔ قسمت نے ساتھ دیا کیونکہ قسمت ساتھ نہ دے تو بہت مشکل ہے۔ بس آغاز کرنا پڑتا ہے جیسا کہ ایک ۰۰۱ میٹر دوڑ ہو جب تک شروع نہ کرو منزل نہیں ملتی۔ ان کے والد نے ان کو گورنمنٹ کالج میں داخل کرواتے وقت صرف ایک بات کہی تھی کہ جب میں کالج میں آؤں تو مجھے کسی سے پوچھنا نہ پڑے کہ اجمل نیازی کون ہے اور پھر ایسی عمدہ شاعری کرتے ہیں اور بہترین نثر لکھتے ہیں اس کے متعلق صلاح الدین محمود کا کہنا ہے: ”اجمل نیازی اپنی نسل کے ہونہار ترین نوجوانوں میں سے ہیں۔ بہت عمدہ غزل کہتے ہیں۔ مجھ کو تو ان کی غزلیں پڑھ کر اور سن کر ہمیشہ یوں لگا ہے کہ جیسے آسمان پر رنگ برنگے پرندوں کے جھنڈ آہستگی کے ساتھ اُڑتے ہوں اور پاس ہی کہیں ہمارے گمان کی منڈیر کے پرے ایک دریا بہتا ہو۔ شفاف اور ان پرندوں کا ہم رفتار۔ نثر بھی اجمل نیازی خوب لکھتے ہیں سادہ شائستہ بھرپور اور باوقار ان کے اکثر مضامین سنتے وقت مجھ کو خالص شاعری کا احساس ہوا۔“ ان کے مضامین نظم و نثر قومی اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی تخلیقی و تنقیدی نگارشات کی اشاعت کا سلسلہ یوں تو بہت وسیع ہے۔ بالخصوص جن بالخصوص جن اخبارات و رسائل کو ان کے مضامین اور کالموں نے زینت بخشی،

اس کے بارے میں سید ضمیر بخاری اپنی کتاب ”میانوالی میں اُردو نثر کا ارتقا“ میں لکھتے ہیں: ”ان میں فنون، صحیفہ، اقبالیات، قومی زبان، ماہ نو، المعارف، اوراق، نقوش، سیپ، افکار، ادبِ لطیف، تخلیق، شام و سحر، جدید ادب، سہیل کے ساتھ ساتھ روزنامہ نوائے وقت میں کالم تحریر کرتے ہیں۔“ وہ نہ صرف شاعری اور نثر لکھتے ہیں بلکہ ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن سے کئی ادبی اہمیت کے پروگرام بھی کیے ہیں۔ آج کل بھی کالم لکھ رہے ہیں جو ”نوائے وقت“ میں شائع ہوتے ہیں۔ انہوں نے بہت سے ممالک کے دورے کیے۔ خاص طور پر ۳۸۹۱ء میں انہوں نے بھارت کا سفر کیا۔ عطاء الحق قاسمی، انور مسعود ساتھ تھے جہاں وہ امرتسر، انبالہ، لکھنؤ اور علی گڑھ گئے۔ اس کے متعلق انہوں نے بہت ہی خوبصورت سفرنامہ ”مندر میں محراب“ تحریر کیا ہے۔ بھارت کے علاوہ بھی انہوں نے بہت سارے ممالک کے دورے کیے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، ایران، دبئی، قطر، سعودی عرب اور ناروے۔ ناروے میں ایک جزیرہ ہے جب وہاں گئے تو آنکھیں بند کر لیں۔ وہاں بھی ان کو اپنے کچے مکان جو کہ میانوالی میں ان کے ساتھ وہ نظر آئے۔ اس طرح انہوں نے دنیا بھر کے بہت سے ممالک کا سفر کیا مگر اپنے وطن اپنے گھر کی یاد ہمیشہ دل میں رکھی۔ تصانیف: (۱)جل تھل (شعری انتخاب (۲) مندر میں محراب (سفرنامہ) (۳) تشخص (مضامین) (۴) باز گشت (شعری تذکرے) (۵)تخلص (مضامین) (۶) پچھلے پہر کی سرگوشی (شعری مجموعہ) (۷) بے نیازیاں (کالموں کا مجموعہ) (۸) فوق الکشمیر (محمد الدین فوق کشمیری کی علمی و ادبی خدمات) (۹) راوی (طنز و مزاح مرتبہ) (۰۱) اقبال شناسی اور سویرا (مرتبہ) اعزازت: گورنمنٹ کالج لاہور سے ۹۶۹۱ء کو رول آف آنرز ملا۔

بہترین کالم نگاری پر صدر پاکستان جناب آصف زرداری نے ستارہئ امتیاز دیا۔ ڈاکٹر اجمل نیازی میں بے پناہ خوبیاں تھیں۔ اپنے دوستوں سے بے پناہ پیار، محبت کرتے تھے۔ ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ڈھائی سو سے زیادہ ایسے کالم میں جن میں میرا، میری کتابوں کا اور ادارے کا ذکر کیا ہے۔ ان کا حلقہ احباب پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے لیکن افسوس ہے کہ ڈاکٹر اجمل نیازی کے جنازے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان، صدر پاکستان عارف علوی، وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب، صوبائی وزراء کو توفیق نہ ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب کے نماز جنازہ میں شرکت کر تے۔ یہ حکمرانوں کی بدنصیبی ہے کہ ان کا عوام کے ساتھ یا اکابرین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نمازِ جنازہ ان کے گھر کے قریب ادا کر دی گئی۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ نمازِ جنازہ میں جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، قیصر شریف، چودھری عثمان کسانہ، عطاء الحق قاسمی، اعتبار ساجد، توفیق بٹ، مجیب الرحمن شامی، پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران، شاہد رشید اور غلام حیدر شیخ کے علاوہ بڑے تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ سچی بات یہی ہے کہ بڑے لوگ وفات نہیں پاتے بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے دوستوں میں، عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ نام رہے اللہ کا……

 

اپنی رائے کا اظہار کریں