کیا آپ کا بچہ بہت ذیادہ روتا ہے ؟ تحریر : جگن کاظم

کیا آپ کا بچہ بہت ذیادہ روتا ہے ؟ تحریر : جگن کاظم

سچ بتائوں ایک رونے والا بچہ سخت ذہنی اذیت ہے۔جب میں کسی بچے کو روتا ہوا دیکھتی ہوں تو میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔

 

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان کے پاس اپنے احساسات کو اپنے والدین تک پہنچانے کا اس کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ آپ جانتے ہی ہوں گے کہ جب لوگ کسی بچے کے بارے میں کہتے ہیں ’’یہ تو ایک رونے والا بچہ ہے‘‘ یا یہ کہ ’’یہ بچہ تو بڑا ٹیڑھا ہے بھئی‘‘۔ میرے خیال میں یہ جھوٹ ہے اور بچوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

 

بطور والدین آپ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک بچہ اس طرح سے اپنی ضروریات کا اظہار نہیں کر سکتا جس طرح آپ کا بالغ دماغ سمجھ سکتا ہے۔ وہ آپ کی توجہ حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ روہی سکتا ہے ۔

 

 

سب سے پہلے تو بنیادی نکتہ ذہن میں رکھئے کہ اگر آپ کا بچہ رو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے کچھ چاہئے۔ بعض ایسی عمومی وجوہات ہیں جن کے باعث بچے روتے ہیں۔جب وہ بھوکے ہوں، جب ان کا ڈائپر خراب ہو چکا ہو، جب وہ سونا چاہتے ہوں ، جب وہ بہت زیادہ تھکے ہوئے ہوں۔

 

اس لئے جب بھی بچہ رونا شروع کرے تو فوراً یہ چیک کریں کہ کیا اس کا ڈائپر تبدیل ہونے والا ہے، اسے بھوک تو نہیں لگی، اس کا پیٹ چیک کریں کہ کہیں گیس تو نہیں ہے، یہ چیک کریں کہ درجہ حرارت بہت تیز یا کم تو نہیں ہے۔ اسے بیماری کی کوئی علامت تو نہیں ہے۔

 

 

اردگرد کے ماحول کا شور کم کرنے کا علاج یہ ہے کہ سکون آور میوزک لگا دیا جائے تاکہ وہ سو سکے، یا اسے باہر کا چکر لگوا لائیں، یا محض کچھ دیر کے لئے خاموشی کے ساتھ سینے سے لگا لیں۔ اگر مندرجہ بالا کیفیات کے علاوہ آپ کا بچہ رو رہا ہے تو اسے ہینڈل کرنے کے کچھ طریقے ہیں۔

 

بچے کے اشارے سمجھئے

 

اپنے بچے کی عمر کا پہلا برس اسے جاننے میں گزاریے، یہ نوٹ کیجئے کہ کیا چیز اسے خوش کرتی ہے اور کس کام سے وہ اداس ہو جاتا ہے۔

 

بعض بچے جب رو رہے ہوں تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں گود میں اٹھایا جائے جبکہ بعض یہ بالکل پسند نہیں کرتے۔ بعض بچے اسی وقت رونا بند کر دیتے ہیں جب آپ ان کے پاس جاتے ہیں۔ جب کہ بعض بچے نا صرف شدت سے رونا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہر بچہ مزاج کا مختلف ہوتا ہے، اسی لئے آپ کو یہ جاننا ہے کہ آپ کا بچہ کس طرح چپ ہو گا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ اس پر توجہ دیں گی۔

 

 

 

وہ آپ سے سیکھ رہا ہے

 

ہو سکتا ہے یہ امر آپ کے لئے تشویش ناک ہو کہ آپ کا بچہ آپ سے مستقل طور پر سیکھ رہا ہوتا ہے۔ آپ کیسے بولتی ہیں، کس طرح بی ہیو کرتی ہیں، کیسے رسپانس دیتی ہیں۔ جب آپ اپ سیٹ ہوتی ہیں تو کیا کرتی ہیں ۔ جب آپ خوش، پرسکون اور مسرور ہوتی ہیں تب آپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔

 

آپ اور آپ کا شریک حیات بیرونی دنیا سے بچے کا پہلا رابطہ ہوتے ہیں۔اگرچہ بچوں کی اپنی بھی مخصوص شخصیت ہوتی ہے لیکن ان کی اکثر عادات اور رویے اپنے والدین ہی کا عکس ہوتے ہیں۔ اس لئے بچوں کیلئے اچھی مثال قائم کرنے کی کوشش کریں۔

 

 

 

(کتاب’’ماں کے معاملے‘‘ سے اقتباس)

اپنی رائے کا اظہار کریں