بھارت میں طالبات کی نازیبا ویڈیوز بنانے کا معاملہ، طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا

 بھارت میں ساتھی طالبات کی نازیبا ویڈیوز بنا کر وائرل کرنے پر یونیورسٹی طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق  بھارت کے شہرچندی گڑھ میں یونیورسٹی کی طالبات کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہونے پر 8 لڑکیوں  نے مبینہ خودکشی کی کوشش کی۔

موہالی میں قائم نجی یونیورسٹی میں ایک طالبہ کی جانب سے 60 سے زائد طالبات کی نازیبا ویڈیوز بنا کر اپنے دوست کو بھیجنے کا دعویٰ سامنے آیا۔ جس نے بعدازاں ان ویڈیوز کو مبینہ طور پر فحش ویب سائٹس پر اپ لوڈ کردیا۔

ویڈیوز وائرل ہونے کی  اطلاعات سامنے آنے کے بعد 2 روز تک بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔

واقعے میں ملوث ملزمان رقم کے عوض یہ ویڈیوز فروخت کرتے تھے۔ ویڈیوز بنانے والی طالبہ کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جو موہالی کی رہنے والی ہے۔اس نے یہ ویڈیوز شملہ میں رہنے والے اپنے ایک دوست کو بھیجی تھیں۔

تاہم پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ طالبہ نے صرف اپنی ویڈیو اپنے دوست کو بھیجی تھی۔

10 Tips For Choosing The Best Car Accident Lawyer

اپنی رائے کا اظہار کریں