جن کے دم قدم سے انٹرنیٹ چلتا ہے

وقار دفتر میں بیٹھا کام کر رہا ہے۔عائشہ گھر میں بیٹھی فلم دیکھنے میں محو ہے۔رخسانہ بازار میں خریداری کرتے ہوئے بذریعہ وٹس اپ اپنی سہلیلوں سے مصروف گفتگو ہے۔

علی نیاگرا آبشار دیکھتے ہوئے اپنے موبائل پہ اس تفریحی مقام کی تاریخ پڑھ رہا ہے۔ذرا بتائیے کہ ان چاروں میں کیا بات قدر مشترک ہے؟

جی ہاں، یہ سبھی انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے کام انجام دے رہے ہیں،دور جدید کی محیر العقول اور حیرت انگیز ایجاد۔اس کے ذریعے انسان کئی ایسے کام بہ آسانی کرنے لگے ہیں جنھیں کرتے ہوئے پہلے دقت ہوتی تھی۔

مثال کے طور اب چند سیکنڈ میں دنیا کے کسی بھی گوشے میں موجود اپنے پیاروں سے رابطہ کر لیجیے۔کوئی مسئلہ ہو تو میاں گوگل کی مدد سے حل کیجیے۔فلم یا ڈرامہ دیکھنا ہے تو نیٹ حاضر۔غرض یہ ایجاد موجودہ دور کا جن ہے،چٹکی بجاتے ہی بہت سے کام کر دینے والا!

جدید دور کی محسن

عام طور پہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی سیاروں یعنی سیٹلائٹس نے انٹرنیٹ کو پوری دنیا میں رواں دواں رکھا ہوا ہے۔یہ تاثر غلط ہے۔انٹرنیٹ کا دماغ اگر پوری دنیا کے ممالک میں پھیلے سرور ہیں تو اس کا جسم وہ پونے چار سو سے زائد ہیوی ڈیوٹی تاریں ہیں جو سمندروں کے نیچے بچھائی گئی ہیں۔

انٹرنیٹ سمیت بنی نوع انسان کی ’’95فیصد‘‘کمیونکیشن یا عرف عام میں رابطہ انہی زیرسمندر بچھی تاروں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔گویا انہی تاروں نے رابطے،خبر رسانی اور مواصلات کا پورا عالمی نظام اپنے کاندھوں پہ اٹھا رکھا ہے۔یہ ایک طرح سے انسانیت خاص طور پہ جدید دور کی محسن ہیں۔یہ نہ ہوں تو دنیا میں رابطے کا بین الاقوامی نظام دھڑام سے گر پڑے۔

نیا مسئلہ

سمندر میں تاریں بچھانے کا خیال سب سے پہلے امریکی موجد، سیموئیل مورس کو آیا۔وہ دیگر مغربی موجدوں کے ساتھ ٹیلی گراف(تار)ایجاد کرنے کی کوششیں کر رہا تھا۔یہ بجلی کی تاروں کے ذریعے پیغام رسانی کا پہلا جدید طریق کار تھا۔

1939ء میں آخر برطانیہ کے موجدوں،ولیم کوکی اور چارلس وہیٹ سٹون نے تجارتی مقاصد پورے کرنے والی دنیا کی پہلی ٹیلی گراف مشین ایجاد کر لی۔جلد ہی ایک نیا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ زمین پہ تو کھمبوں کی مدد سے ہر جگہ تاریں پہنچ گئیں،مگر درمیان میں کوئی دریا یا سمندر آتا تو سارا کام ٹھپ ہو جاتا۔اب کیا کیا جائے؟

اس دوران ہی سیمویل مورس نے یہ خیال پیش کیا کہ تاریں سمندر کی تہہ میں بچھا دی جائیں۔اس کے لیے ضروری تھا کہ تار پہ کوئی ایسا عمدہ مواد لپیٹ دیا جائے جو نہ صرف اسے پانی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھے بلکہ بجلی کو بھی پانی میں دوڑنے نہ دے۔

یہ مقصد پورا کرنے کی خاطر مورس نے تجربات کرتے ہوئے مختلف میٹریل آزمائے۔مثلاً 1842ء میں ایک تار کو پٹ سن اور ہندوستانی ربڑ(india rubber)میں لپیٹا اور پانی میں ڈبو دیا۔یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا کیونکہ پانی نے جلد دونوں کو گلا دیا۔

ملایا کی گوند

1842ء میں دریافت ہوا کہ ملایا میں ملنے والے ایک درخت سے حاصل شدہ گوند ’’گٹا پرچا‘‘ (Gutta-percha) کافی سخت اور اچھا حاجز (insulator)ہے یعنی اس میں بجلی کا کرنٹ نہیں دوڑ سکتا۔چناں یہ گوند تار پہ اچھی طرح لپیٹ کر اسے زیرسمندر ڈال دیا گیا۔

وہ طویل عرصے تک خراب نہیں ہوئی۔اس طرح ماہرین کو ایسا میٹریل مل گیا جو کئی سال تک تار کو پانی میں محفوظ رکھ سکے اور آبی اثرات اسے نقصان نہ پہنچا سکیں۔

جرمنی میں مشہور شہر،کولوجن کے نزدیک ایک قصبہ،ڈیوٹز واقع ہے۔ان کے درمیان دریائے رائن بہتا ہے۔1847 ء میں ان دونوں بستیوں کو ٹیلی گراف کے ذریعے ملانے کی خاطر رائن دریا میں تار بچھائی گئی۔یہ دنیا میں پہلی زیرآب تار تھی۔ تار کو ’’گٹا پرچا‘‘ سے محفوظ بنایا گیا تھا۔

اس کو ایک جرمن میکینکل انجینئر، کارل ولہلم سیمنز کی زیرنگرانی بچھایا گیا۔یہ تجربہ کامیاب رہا۔یوں اب ٹیلی گراف کی تاریں بچھانے کے لیے پانی رکاوٹ نہیں رہا۔انسان کی ذہانت اور اپچ نے یہ مسئلہ بھی حل کر لیا۔

 ممالک کو ملانے والی پہلی تار

اس اثنا میں دو برطانوی انجیئنر بھائیوں، جان اور جیکب وٹکنز نے فیصلہ کیا کہ فرانس اور برطانیہ کے درمیان واقع انگلش چینل میں ٹیلی گراف تار بچھائی جائے۔انھوں نے دونوں حکومتوں سے اجازت نامہ لے لیا۔اگست 1850ء ،میں یہ تار بچھائی گئی مگر اس پہ صرف گٹا پرچاکا لیپ ہوا تھا۔اس پہ کسی سخت میٹریل کو لپیٹنا بھی ضروری تھا تاکہ وہ چٹانوں کی رگڑ اور کشتیوں و جہازوں کے آلات سے محفوظ رہے۔یہی وجہ ہے، ایک کشتی کے جال میں پھنسنے سے تار ٹوٹ گئی۔یوں سمندر میں تار بچھانے کا پہلا تجربہ ناکام رہا۔

دونوں انجیئنر بھائیوں نے مگر ہمت نہیں ہاری۔انھوں نے پیسے جمع کر کے ایک نیا ادارہ،سب میرین ٹیلی گراف کمپنی قائم کر لیا۔اب انھوں نے ایسی تار تیار کرائی جس کے گرد فولادی میٹریل چڑھایا گیا۔یہ تار نہ صرف مضبوط بلکہ بھاری بھی تھی۔ اس لیے تہہ سمندر بیٹھ گئی۔یہ 29 میل (کلومیٹر) لمبی تھی جو ستمبر 1851ء میں انگلش چینل میں اتاری گئی۔19نومبر سے اسے عوام الناس استعمال کرنے لگے۔یہ دو ممالک کو ملانے والی دنیا کی پہلی تار تھی۔

یہ تار کامیاب ثابت ہوئی۔برطانیہ اور فرانس کے مابین ٹیلی گراف بھیجے جانے لگے۔ پیغام رسانی ماضی کی نسبت کافی تیزرفتار ہو گئی۔اس سے دونوں ممالک کی حکومتوں ،تاجروں اور کاروباریوں کو بہت فائدہ پہنچا۔فوائد دیکھ کر دیگر ممالک بھی اپنے مابین تار بچھانے کی کوششیں کرنے لگے۔ساتھ ہی تار کو زیادہ سے زیادہ محفوظ اور مستحکم بنانے کے لیے تحقیق و تجربات بھی ہونے لگے۔

1853ء میں برطانیہ کو بذریعہ زیرسمندرتار آئرلینڈ،بیلجئم،ہالینڈ اور ڈنمارک سے ملا دیا گیا۔اس زمانے میں امریکا اور برطانیہ مغربی تہذیب وتمدن کے دو سب سے بڑے مراکز تھے۔

لہذا سمندر میں تار بچھا کر انھیں منسلک کرنے کی باتیں ہونے لگیں۔ اسی دوران زیرسمندر تار کی تاریخ میں ایک نیا کردار سامنے آتا ہے۔سائرس ویسٹ فیلڈ امریکی کاروباری تھا۔اسے بحیرہ اوقیانوس میں تار بچھانے کا منصوبہ منافع بخش نظر آیا۔ گو یہ خطرات بھی پوشیدہ تھے کہ رقم ڈوب جائے گی۔پھر بھی وہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر سرگرم ہو گیا۔

بحراوقیاس میں تار

پہلے تو اس نے زیر سمندر تار بچھانے سے متعلق مختلف سائنس دانوں، انجیئنروں اور ماہرین سے ملاقاتیں کیں اور اس نئی ٹکنالوجی کو سمجھ لیا۔وہ پھر سرمایہ کاروں سے ملنے لگا تاکہ ان سے سرمایہ لے کر منصوبے کو عملی صورت میں ڈھال سکے۔

اس مقصد کے لیے سائرس ویسٹ نے اکتوبر1856ء میں ایک کمپنی،دی اٹلانٹک ٹیلی گراف کمپنی قائم کر دی۔مطلوبہ سرمایہ حاصل کرنے کے بعد سائرس نے برطانیہ اور امریکا کی حکومتوں سے رابطہ کر لیا۔وہ بھی منصوبے کی حمایتی بن گئیں۔یہی نہیں، انھوں نے سائرس کو سرمایہ فراہم کیا اور وہ جہاز بھی جنھوں نے بحراوقیاس میں تار بچھانی تھی۔

یہ کام مگر آسان نہیں تھا۔جہازوں نے سمندر میں 2500کلومیٹر لمبی تار بچھانی تھی۔یہ تاریخ انسانی میں اپنی نوعیت کا پہلا کام تھا۔یہ تار دو کارخانوں میں تیار ہوئی۔تار کو مختلف مضبوط اور سخت مادوں سے لپیٹا گیا۔مدعا یہی تھا کہ وہ نہ صرف سمندرکی تہہ میں بیٹھ جائے بلکہ نمکین اور کیمیائی پانی کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رہے۔ یہی وجہ ہے،ہر ناٹیکل میل(1852 میٹر)پر جو تار بچھائی گئی، اس کا وزن آدھے ٹن(550کلو)کے برابر تھا۔

ایک جہاز نے امریکا اور دوسرے نے برطانیہ سے سفر کر کے تاریں بچھانے کا کام شروع کیا۔ دونوں جہازوں کے عملے کو اپنا کام انجام دیتے ہوئے مختلف مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

کبھی سمندری طوفان کام روک دیتا۔کبھی زیر سمندر چٹانیں مزاحم بن کر تار نہ بچھانے دیتیں۔اس زمانے میں ٹکنالوجی بھی خام تھی۔ اس باعث بھی رکاوٹیں پیش آئیں۔چند بار تو تار ہی ٹوٹ گئی۔ان مسائل کی وجہ سے ایک وقت تو ایسا آیا کہ کمپنی کے ڈائرکٹر منصوبہ ہی ترک کرنے کا سوچنے لگے۔تاہم سائرس ویسٹ نے انھیں حوصلہ دیا، ہمت بڑھائی اور یوں کام جاری رہا۔

آخر 29 جولائی 1858 ء وہ تاریخی دن ہے جب امریکا اور برطانیہ سے چلے اور تار بچھاتے آتے بحری جہاز بحر اوقیانوس کے وسط میں آن ملے۔انھوں نے پھر تار کے دونوں سروں کو جوڑ دیا۔

اس طرح پہلی بار یورپ اور شمالی امریکا کے براعظم تار سے باہم منسلک ہو گئے۔یہ ایک تاریخ ساز موقع تھا۔دو ہفتے بعد ٹیلی گراف تار کامیابی سے بچھائے جانے پر برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ نے امریکی صدر ،جیمز بکانن کو ایک تہنیتی تار روانہ کیا۔اس میں ملکہ نے امید ظاہر کی کہ تار کے ذریعے دونوں ممالک آپس میں معاشی اور معاشرتی روابط بڑھا سکیں گے۔

تار پہنچنے میں سترہ گھنٹے

دلچسپ بات یہ کہ ملکہ وکٹوریہ کے تار کو امریکی صدر تک پہنچنے میں ’’سترہ گھنٹے‘‘ لگ گئے۔وجہ یہ ہے کہ تار مورس کوڈ کی مدد سے بھجوایا گیا۔وہ ایک لفظ بھجوانے میں ’’دو منٹ پانچ سیکنڈ ‘‘صرف کرتا تھا۔دور جدید میں یہ سن کر ہنسی آتی ہے۔مگر اس زمانے کے حساب سے یہ پیغام ’’بہت جلد‘‘ پہنچ جانے والا سمجھا گیا۔ظاہر ہے، اس وقت ایک بحری جہاز برطانیہ سے امریکا پہنچتے ہوئے کئی دن لگا دیتا تھا۔

یہ تار نجی سرمایہ کاروں نے پیسا خرچ کر کے بچھائی تھی۔لہذا اب وہ منافع پانے کے خواہشمند تھے۔ اگلے سات آٹھ سال کے عرصے میں وہ تکنیکی خرابیاں خاصی حد تک دور کر دی گئیں جن کے باعث تار دیر سے پہنچتا تھا۔ایسے آلات بھی ایجاد ہو گئے جو زیر سمندر تار میں وقفے وقفے سے لگائے جاتے تو تار کی رفتار بڑھا دیتے۔چناں چہ1866 ء تک تار کا ایک لفظ چھ سات منٹ میں بھجوایا جانے لگا اور پیغام رسانی کی رفتار بڑھ گئی۔جب دونوں براعظموں کے درمیان رابطہ تیز ہوا تو کمپنی نے تار کی قیمت بھی مقرر کر دی۔

1866 ء میں بیس الفاظ پہ مشتمل تار برطانیہ سے امریکا بھجوانے پر ’’بیس ڈالر‘‘ خرچ ہوتے تھے۔یہ اس زمانے کے لحاظ سے خاصی بڑی رقم تھی۔اس بات کا اندازہ یوں لگائیے کہ تب برطانوی اور امریکی شہریوں کی عام تنخواہ پچاس ڈالر تھی۔یہی وجہ ہے۔

اس وقت صرف امیر تاجر،کاروباری ،سرمایہ کار اور حکومتیں ہی تار کا خرچ برداشت کر سکتی تھیں۔آج یہ بڑی انوکھی بات لگتی ہے کیونکہ اب انٹرنیٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں باہمی رابطہ تقریباً مفت ہو چکا۔بلکہ پاکستان سے امریکا بذریعہ وٹس اپ چند روپے میں وڈیو کال ہو جاتی ہے۔

 جنگ عظیم جیتنے میں مدد

بہرحال جیسے جیسے ٹیلی گراف اور تار بنانے کی ٹکنالوجی بہتر ہوئی،وقت اور پیسے کی بچت ہونے لگی۔انیسویں صدی کے اختتام تک فی منٹ چالیس الفاظ بھجوانا ممکن ہو گیا۔ جب کہ تار بھیجنے کی فیس بھی خاصی کم ہو گئی۔یہ بھی واضح رہے کہ 1866 ء سے پہلی جنگ عظیم تک سمندروں میں تاریں بچھانے کا سارا کام برطانوی کمپنیوں نے انجام دیا۔

یہی وجہ ہے،پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کا ٹیلی گراف نظام برقرار رہا۔ جبکہ اس کے حریف جرمنی کا نظام تباہ و برباد کر دیا گیا۔تار سسٹم کام کرتے رہنے کی وجہ سے بھی برطانیہ و امریکا کو جنگ عظیم جیتنے میں مدد ملی۔

1866ء کے بعد برطانوی کمپنیاں بحرالکاہل،بحر ہند اور بحیرہ روم میں بھی زیرسمندر تاریں بچھانے لگیں۔1870ء میں بمبئی(ہندوستان) اور لندن کے درمیان بھی تار بچھ گئی۔1872ء میں سنگاپور اور چین کے راستے آسٹریلیا کا بھی ہندوستان سے بذریعہ تار رابطہ ہو گیا۔1870ء میں نیوزی لینڈ بھی برطانوی ٹیلی گرافک نظام میں چلا آیا۔یوں انگریزوں نے اپنی پوری سلطنت میں زیرسمندر تاروں کا جال بچھا دیا۔اس تبدیلی سے انھیں سلطنت کا انتظام کرنے اور نظم ونسق سنبھالنے میں بہتر طور پہ مدد ملی۔

600ڈالر کی کال

اسی دوران باہمی رابطے کا ایک اور جدید طریقہ، ٹیلی فون ایجاد ہو گیا۔1927ء میں ریڈیائی لہروں کے ذریعے امریکا اور برطانیہ کے مابین ٹیلی فون سروس شروع ہو گئی۔ مگر اس سروس کی فیس بہت زیادہ تھی۔تین منٹ کی کال کرنے پر صارف کو ’’45 ڈالر ‘‘دینے پڑتے جو اچھی خاصی رقم تھی۔موجودہ شرح کی حساب سے یہ رقم ’’600 ڈالر‘‘ یعنی ایک لاکھ چودہ ہزار روپے بنتی ہے۔اسی لیے ماہرین کوششیں کرنے لگے کہ زیرسمندر ٹیلی فون تار بچھائی جا سکے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سائنس وٹکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی ہوئی۔ رفتہ رفتہ ایسے جدید آلات اور میٹریل ایجاد ہو گئے جو زیرسمندر ٹیلی فون تاروں کو پانی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھ سکیں۔

چناں چہ تین مغربی کمپنیوں…جنرل پوسٹ آفس برطانیہ،امریکن ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف کمپنی اور کینیڈین اوورسیز ٹیلی کمیونکیشن کارپوریشن نے دسمبر1953ء میں بحراوقیانوس میں ٹیلی فون تار بچھانے کا معاہدہ کر لیا۔یہ منصوبہ 25دسمبر 1956ء کو مکمل ہوا۔دنیا کی پہلی زیرسمندر ٹیلی فون تار کو ’TAT-1‘‘کا نام دیا گیا۔اس کے ذریعے بیک وقت پینتیس کالیں کرنا ممکن تھا۔

ٹیلی کمیونکیشن کے شعبے میں سائنس وٹکنالوجی ترقی کرتی رہی۔اس سے دو فوائد حاصل ہوئے۔اول یہ کہ بذریعہ تار زیادہ ڈیٹا بھجوانا ممکن ہو گیا۔دوم یہ کہ خرچہ بھی کم آنے لگا۔1980ء کے عشرے میں ماہرین نے فائبر آپٹک تار ایجاد کر لی۔ان میں ڈیٹا تانبے نہیں گلاس سے بنی تاروں میں سفر کرتا ہے۔

یہ تاریں زیادہ ہلکی اور لچکدار ہوتی ہیں۔نیز ان کے ذریعے ڈیٹا زیادہ تیزرفتاری اور زیادہ مقدار میں بھجوانا ممکن ہے۔1988ء میں پہلی فائبر آپٹک تار امریکا اور برطانیہ کے مابین بچھائی گئی۔ یہ TAT-8کہلاتی ہے۔اس تار کی وساطت سے فی سیکنڈ 28ٹیرا بائٹ ڈیٹا بھجوانا ممکن ہو گیا۔

ریڑھ کی ہڈی

اس وقت دنیا میں ’380‘‘تاریں زیر سمندر بچھی ہوئی ہیں۔ان کے ذریعے روزانہ اربوں میگا بائٹ ڈیٹا اِدھر سے اُدھر سفر کرتا ہے۔انہی تاروں نے دور جدید کے عالمی کاروباری،تجارتی اور معاشرتی نظام کو نہ صرف رواں دواں رکھا ہوا ہے بلکہ بخوبی سنبھال بھی لیا۔درحقیقت ان تاروں کو عالمی معاشی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کہا جائے تو بجا ہو گا۔

ان پونے چار سو زیر سمندر تاروں میں سب سے زیادہ طویل تار ’’سدرن کراس کیبل‘‘ (Southern Cross Cable)کہلاتی ہے۔ یہ فائبر آپٹیکل تار آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو بذریعہ ہوائی امریکا سے منسلک کرتی ہے۔ 28900 کلو میٹر لمبی ہے۔ اس میں سے 1600کلومیٹر لمبی تار خشکی پہ بچھائی گئی ہے۔یہ 2000ء سے اپنا کام انجام دے رہی ہے۔اس کے ذریعے فی سیکنڈ 72ٹیرا بائٹ ڈیٹا بھجوانا ممکن ہے۔

اگر سب سے زیادہ ڈیٹا بھجوانے والی تار کی بات کی جائے تو اس شعبے میں ’’ماریا‘‘ (MAREA)کا اول نمبر ہے۔یہ 6600کلومیٹر طویل تار اسپین اور امریکا کے مابین بچھائی گئی۔اس کے ذریعے فی سیکنڈ 200ٹیرا بائٹ ڈیٹا بھجوایا جاتا ہے۔ یہ تار مائکروسوفٹ اور فیس بک کی ملکیت ہے۔

نئی زیرسمندر تاریں

دنیا میں ٹکنالوجی کی چار بڑی کمپنیاں…ایمیزن،گوگل،فیس بک اور مائکروسوفٹ زیرسمندر تاریں بچھانے کے سلسلے میں کافی سرگرم ہیں۔وجہ صاف ظاہر ہے۔ ان کی تمنا ہے کہ کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ ڈیٹا دنیا بھر میں گھوم پھر سکے۔

اسی لیے یہ کمپنیاں زرکثیر خرچ کر کے سمندروں میں نئی تاریں بچھا رہی ہیں۔مثال کے طور پہ ’’ٹو افریقا‘‘ (2 Africa) کیبل سسٹم نامی زیرسمندر تار کا منصوبہ فیس بک،چائنا موبائل انٹرنیشنل،ووڈا فون،ٹیلی کام مصر اور دیگر کمپنیوں نے مل کر بنایا ہے۔ یہ تار ’’26‘‘ممالک تک پھیلی ہو گی۔ یوں ٹو افریقا دنیا میں سب سے لمبی زیرسمندر تار بن سکتی ہے۔یہ یورپ،افریقا اور مشرق وسطی تک پھیلی ہو گی۔

اُدھر فیس بک اور گوگل مل کر ’’ایپریکوٹ‘‘ (Apricot) نامی زیرسمندر تار بچھانے میں مصروف ہیں۔یہ تار بحرالکاہل کے ایشیائی ممالک مثلاً جاپان، تائیوان، فلپائن، انڈونیشیا اور سنگاپور کو آپس میں ملائے گی۔یہ منصوبہ اسّی ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل ہو گا۔2023ء سے کام کرنے لگے گی۔

خیال ہے کہ تب سب سے زیادہ ڈیٹا بھجوانے والی تار بھی کہلائے گی۔اس کے ذریعے فی سیکنڈ ’’220‘‘ٹیراباٹ ڈیٹا بھجوانا ممکن ہو گا۔اس کی طوالت پندرہ ہزار کلومیٹر ہونے کا امکان ہے۔

ایک رپورٹ کی رو سے 2025ء تک دنیا کے سمندروں میں بچھی تمام تاروں کی لمبائی ’’آٹھ لاکھ میل‘‘تک پہنچ جائے گی۔یہی تاریں غیرمرئی انٹرنیٹ کی بنیاد ہیں مگر عام لوگ ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔البتہ جب کوئی تار کٹ یا خراب ہو جائے تو تاروں کے اس وسیع وپُراسرارنظام کی بابت عوام خبریں سنتے اور واقف ہوتے ہیں۔

جب تار ٹوٹ جائے

مثال کے طور پہ اگست 2017ء میں پاکستان کو انٹرنیٹ فراہم کرنے والی ایک زیر سمندر تار ’’آئی ۔ایم ای۔ڈبلیو ای جدہ،سعودی عرب کے نزدیک ٹوٹ گئی۔ نتیجے میں پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہت سست ہو گئی کیونکہ تار ٹوٹنے سے ڈیٹا کم موصول ہونے لگا۔جب تار جوڑی گئی، تبھی صورت حال بہتر ہوئی۔تاریں ٹوٹنے یا ان میں کوئی خرابی جنم لینے کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کی وجہ سے کمیونکیشن خصوصاً انٹرنیٹ میں تعطل پڑ جاتا ہے۔

پاکستان چھ زیرسمندر تاروں…ایس ایم ڈبلیو5-،ٹی ڈبلیو- 1، ایس ایم ڈبلیو 3-،ایس ایم ڈبلیو4-،آئی ۔ایم ای۔ڈبلیو ای اور اے اے ای1-کے ذریعے بیرون ممالک سے منسلک ہے۔ان میں دو ابتدائی تاروں کا نظام ایک نجی کمپنی،ٹرانز ورلڈ ایسوسی ایٹ نے سنبھال رکھا ہے جبکہ پاکستان کی حدود میں بقیہ تاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کا ذمے دار قومی ادارہ، پی ٹی اے ہے۔’’پیس‘‘کے فعال ہونے سے پاکستان سات زیرسمندر تاروں سے منسلک ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق تاریں ٹوٹنے یا خراب ہونے کے 75فیصد واقعات کی ذمے دار انسانی سرگرمیاں ہیں۔کبھی مچھلیاں پکڑنے والے جہازوں کے جال میں پھنس کر تاریں ٹوٹ جاتی ہیں۔کبھی جہاز کا لنگر تار سے ٹکرا کر اسے خراب کر دیتا ہے۔ اس کے بعد قدرتی آفات تاروں پہ اثرانداز ہوتی ہیں۔مثلاً سمندری طوفان، زیر سمندر آنے والے زلزلے اور لینڈ سلائیڈز وغیرہ۔2006ء میں تائیوان کے نزدیک سمندر میں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا۔اس نے علاقے میں پھیلی سات تاریں توڑ ڈالیں۔ چناں چہ تائیوان،ہانگ کانگ،چین،جاپان،کوریا اور فلپائن میں انٹرنیٹ کی رفتار بہت متاثر ہوئی۔

زیر سمندر تاریں اکثر خراب ہو جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے،تمام ممالک اپنی کمیونکیشن زیادہ سے زیادہ تاروں کے ذریعے بحال رکھتے ہیں۔اس روش کی حکمت یہ ہے کہ اگر ایک تار ناکارہ ہو جائے تو دیگر تاروں کی مدد سے کمیونکیشن برقرار رہے۔ ترقی یافتہ اور امیر ممالک تو سیکڑوں تاروں سے باہم منسلک ہیں۔اسی لیے وہاں کوئی زیرسمندر تار خراب ہو جائے تو عام لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔دیگر تاروں کے ذریعے رابطہ بحال رہتا ہے۔

تاریں کیسے بچھتی ہیں؟

زیرسمندر تاریں بچھانا ایک طویل اور مہنگا عمل ہے۔اس پہ اربوں روپے خرچ ہوتے اور کئی ماہ لگتے ہیں۔سب سے پہلے ماہرین سمندر میں ایسا راستہ تلاش کرتے ہیں جہاں چٹانیں کم سے کم اور میدانی علاقہ زیادہ سے زیادہ ہو۔وجہ یہ کہ میدانی علاقے میں تار تہہ میں بیٹھ جاتی ہے۔چٹانیں آس پاس ہوں تو ان کی رگڑ سے تار کو نقصان پہنچتا ہے۔مذید براں ماہرین گہرائی والے علاقوں کی تلاش میں ہوتے ہیں کیونکہ وہاں بھی تار محفوظ رہتی ہے۔

ساحل سمندر پہ لینڈنگ اسٹیشن واقع ہوتا ہے۔ وہیں سے زیر سمندر تار کا آغاز ہوتا ہے۔اندرون ملک سے آنے والی خشکی کی تاریں لینڈنگ اسٹیشن پر زیرسمندر تار سے جڑتی ہیں۔زیرسمندر تار کو محفوظ کرنے کے لیے خاص اقدامات کیے جاتے ہیں۔مثلاً لینڈنگ اسٹیشن الگ تھلگ واقع ہوتا ہے۔نیز اس کے نزدیک خندقیں کھودی جاتی ہیں تاکہ تار زیادہ گہرائی میں پہنچ کر محفوظ ہو سکے۔

دور جدید کی زیرسمندر تار کو محفوظ بنانے کے لیے گلاس سے بنی آپٹک فائبر تار پہ سات مختلف مادوں کی تہہ چڑھائی جاتی ہے۔تار پر سب سے پہلے پٹرولیم جیلی کی تہہ لگتی ہے۔پھر تانبے یا المونیم سے بنی تہہ چڑھتی ہے۔اس کے بعد پولی کاربونیٹ،المونیم،اسٹیل،مائلر ٹیپ اور پولی تھلین سے بنی تہیں چڑھائی جاتی ہیں۔ان تمام مادوں کی وجہ سے تار کے اندر سمندری پانی داخل نہیں ہو پاتا۔نیز تار کئی عشروں تک قابل استعمال رہتی ہے۔جن علاقوں میں پانی اتھلا ہو،تو وہاں تار کو محفوظ کرنے کی خاطر خصوصی انظامات کیے جاتے ہیں۔

جب راستہ متعین ہو جائے تو پھر پہلے بچھائی جانے والی تار بحری جہاز پہ چڑھائی جاتی ہے۔ایسے بحری جہاز میں تار بچھانے کے خاص آلات نصب ہوتے ہیں۔عام طور پہ جہاز پر تار چڑھاتے ہوئے ایک ماہ ڈیرھ ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔وجہ یہ کہ تار بہت وزنی ہوتی ہے۔مثلاً ماریا تار جو 6600کلومیٹر طویل ہے،اس کا وزن ’’چھیالیس لاکھ کلو‘‘ہے۔ دنیا میں سب سے وزنی حیوان نیلی وہیل ہے۔اگر چونتیس نیلی وہیل ہوں تو یہ وزن بنتا ہے۔

پاکستان کا ڈیٹا محفوظ ہو گیا

پاک فوج کی کمیونیکیشنز برانچ ’’ایس سی او‘‘(اسپیشل کمیونکیشن آرگنائزیشن) کہلاتی ہے۔2017ء میں ایس سی او کے سربراہ،میجر جنرل امیر عظیم نے قومی اسمبلی کے ایک خصوصی اجلاس میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں بذریعہ انٹرنیٹ آنے والا ڈیٹا ان زیرسمندر تاروں کی وساطت سے آتا ہے جو بھارت سے گزر کر آتی ہیں۔

اس لیے یہ خطرہ موجود تھا کہ بھارتی کمپیوٹر ماہرین اسرائیلی یا امریکی ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستانی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لیں۔گویا وہ اہم قومی راز پا سکتے تھے۔ لہذا پاک افواج کی خواہش تھی کہ کم ازکم عسکری نوعیت کا ڈیٹا بھارت سے گذر کر پاکستان نہ آئے۔

غور وفکر کے بعد طے ہوا کہ عسکری و حساس نوعیت کا سارا ڈیٹا چین کے راستے پاکستان منگوایا جائے۔اس ضمن میں چینی حکومت سے رابطہ کیا گیا تو حسب سابق اس نے بھرپور تعاون کیا۔حکومت چین کی کوششوں سے مختلف چینی کمپنیوں نے متعلقہ عسکری و غیر عسکری پاکستانی اداروں کو ٹکنالوجی،آلات،خدمات(سروسیز)اور قرضے فراہم کر دئیے تاکہ چین اور پاکستان کے مابین کمیونکیشکن نیٹ ورک قائم ہو سکے۔

یوں 2018ء کے اواخر میں چین کی ریاست،سنکیانگ سے راولپنڈی تک فائبر آپٹک تار بچھا دی گئی۔اس طرح وطن عزیز کا عسکری و حساس ڈیٹا اپنے سب سے بڑے دشمن کی زد میں آنے سے محفوظ ہو گیا۔

سنکیانگ اور راولپنڈی تک بچھی فائبر آپٹک تار کو اب کراچی تک پہنچنے والی ایک زیر سمندر تار’’پیس(PEACE)‘‘یعنی ’’پاکستان، ایسٹ افریقا کونیکٹنگ یورپ‘‘ کیبل سے منسلک کیا جا رہا ہے۔تین براعظموں میں پھیلی یہ زیرسمندر تار چین کی کمپنیوں کی ملکیت ہے۔اس کی لمبائی پندرہ ہزار کلومیٹر ہے۔اس کا شمار اہم زیرسمندر تاروں میں ہوتا ہے۔یہ حکومت چین کے عالمی  منصوبے’’ڈیجٹل سلک روڈ‘‘انشیٹیو کا حصہ ہے۔

کرہ ارض کے تینوں بڑے براعظموں کے سمندروں میں ’’پیس‘‘تار اس لیے بچھائی گئی تاکہ چین کے عظیم الشان ’’بیلٹ اینڈ روڈ انشیٹیو‘‘میں شامل ممالک کے مابین رابطہ یا کمیونکیشن محفوظ،تیزرفتار اور سستی ہو سکے۔

پاکستان میں راولپنڈی سے کراچی تک فائبر آپٹک تار پاکستانی کمپنی،سائبر نیٹ چین کی کمپنی،ہواوے کے تعاون سے بچھا رہی ہے۔سائبر نیٹ لیکسن گروپ آف کمپنیز کا حصہ ہے۔یہ عرصہ دراز سے وطن عزیز کی تعمیر وترقی میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔

جب پاکستان میں ’’پیس‘‘کا پورا نیٹ ورک مکمل ہو جائے گا تو ہم وطنوں کو زیادہ تیز رفتار انٹرنیٹ میّسر آئے گا۔نیز حکومت پاکستان اور ہماری افواج کا ڈیٹا بھی محفوظ رہے گا۔کمیونکیشن کا یہ جدید ترین نظام پاکستان میں ترقی و خوشحالی کے نئے سفر کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

یاد رہے، مغربی میڈیا کا دعوی ہے کہ چین کی ٹیلی کمیونکیشن کمپنیاں اپنے آلات میں جاسوسی کرنے والے پُرزے اور سافٹ وئیر بھی فٹ کرتی ہیں۔اسی لیے امریکا،برطانیہ،آسٹریلیا،کینیڈا وغیرہ نے چینی ٹیلی کمیونکیشن کمپنیوں سے روابط ختم کر دئیے ہیں۔مگر پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے جاسوسی کے آلات کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

Akhtar Sardar

اپنی رائے کا اظہار کریں