معاشی بحران میں اچھی خبر!!! عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں بڑی کمی

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ایندھن پر عائد ٹیکس میں تین ماہ کیلئے استثنیٰ دینے کی خبر سامنے آتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگئی۔ بدھ کو عالمی منڈی میں برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 6.5 فیصد یعنی 7.49 ڈالر فی بیرل کم ہوکر 107.16 ڈالر ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ایندھن پر عائد ٹیکس میں تین ماہ کیلئے استثنیٰ دینے کی خبر سامنے آتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگئی۔ بدھ کو عالمی منڈی میں برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 6.5 فیصد یعنی 7.49 ڈالر فی بیرل کم ہوکر 107.16 ڈالر ہوگئی۔ اس کے علاوہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 7.1 فیصد یعنی 7.74 ڈالر کم ہوکر 101.78 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہے۔خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن جلد کانگریس کے سامنے یہ تجویز رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ امریکی شہریوں کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت کے تناظر میں ریلیف دینے کیلئے فیڈرل ٹیکس میں تین ماہ کیلئے چھوٹ دی جائے۔امریکا میں پیٹرول پر اس وقت 18.4 سینٹس فی گیلن فیڈرل ٹیکس لیا جارہا ہے جبکہ ڈیزل پر 24.4 سینٹ فی گیلن ٹیکس لاگو ہے جسے ختم کرنے کیلئے امریکی کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔ دوسری جانب برطانیہ میں مہنگائی میں 9.1 فیصد اضافے کے ساتھ 40 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کو مہنگائی کے عفریت کا سامنا ہے اور بینک آف انگلینڈ نے بھی خبردار کیا کہ اس سے بھی بدتر صورتحال ابھی آنا باقی ہے کیونکہ تمام G7 ممالک میں برطانیہ میں افراط زر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔بینک آف انگلینڈ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اکتوبر میں جب بجلی کی قیمتیں بڑھنے والی ہیں، افراط زر میں اضافہ 11 فیصد تک جا سکتا ہے جب کہ آنے والے مہینوں میں افراط زر 9 فیصد سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔ برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات کے تاریخی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مئی کی افراط زر مارچ 1982 کے بعد سب سے زیادہ تھی اور اس میں مزید تنزلی آئے گی۔ حالات بد سے بدتر ہوں گے۔ اس وقت پاؤنڈ اسٹرلنگ جو اس سال امریکی ڈالر کے مقابلے میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں سے ایک ہے۔ 0.6 فیصد کم ہوکر $1.22 سے نیچے آگئی۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار برطانیہ میں مسلسل بلند افراط زر اور کساد بازاری کے خطرے کا اندیشہ ظاہر کرتے آئے ہیں۔ برطانیہ اس وقت بریگزٹ کی مسلسل مشکلات کا بھی سامنا کر رہا ہے جو یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

Akhtar Sardar

اپنی رائے کا اظہار کریں