”آنکھوں کے شہر میں “ تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی

www.akhtarsardar.com

دھڑکن کے ساتھ رہتے ہیں سانسوں کے شہر میں
ہم نے تو گھر بسا لیا آنکھوں کے شہر میں

اس خوبصورت شعر کے خالق سلیم ناز ہیں ۔یہ شعر ”آنکھوں کے شہر میں “سلیم ناز کے پہلا شعر ی مجموعہ جس کا عنوان اس میں شامل پہلی غزل کے مطلع سے ماخوذ ہے ، لیا گیا ہے ۔سلیم ناز کو آپ بھی میری طرح بطور صحافی جانتے پہنچانتے ہوں گے کیونکہ سلیم ناز نے تقریباًاپنی زیست کی نصف صدی صحافتی خدمات میں گزار دی ہے ۔
آپ کی طرح میں بھی سلیم ناز کو صحافتی میدان کا شہوار سمجھتا رہا ہوں ۔سلیم ناز سے کئی ملاقاتیں رہیں ،کئی تقریبات میں سنا ،دیکھا اور جاننے کی کوشش بھی کی لیکن یہ در وا نہ ہو سکا کہ سلیم ناز بہترین صحافی کے ساتھ ساتھ باکمال شاعر بھی ہیں ۔سلیم ناز تو صحافتی زندگی سے بھی بہت پہلے ”آنکھوں کے شہر میں “بسیرا کر چکے تھے ۔

چرچا مرے جنوں کا ہوا ہے نگر نگر
اس تیری بے رُخی نے فسانے بنا دیے
بھلا ہو سلیم ناز کی شریک حیات کا جنہوں نے آپ کی شاعری کو اپنی دائری میں محفوظ رکھا اور آج ”آنکھوں کے شہر میں “کی صورت ہمارے سامنے ہے ۔یہاں میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں ۔ان میاں بیوی میں کتنا کمال کا عشق ہے ۔یہ عشق کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے ؟شوہر تخیل کی پرواز میں رہا اور جوکچھ ودیعت ہوا اسے صفحہ قرطاس پر پھیلا کر بھول گیا اور بیگم نے اسے سنبھالے رکھا ۔ہمیں بھابھی جان کا پورے دل سے شکر گزار ہونا چاہیے کہ اگر وہ یہ کارنامہ سر انجام نہ دیتیں تو سلیم ناز ایک شاعر کی صورت کبھی دریافت نہ ہوتے۔

میں اس کو اپنی ساری وفائیں ہی سونپ دوں
کوئی تو مجھ کو پیار کا رشتہ دِکھائی دے
سلیم ناز کو فخر کرنا چاہیے کہ انہیں پیار کا رشتہ نہ صرف دکھائی دے گیا ہے بلکہ زیست کے شب وروز کا ساتھی بن کر قدم قدم پر ساتھ دے رہا ہے ۔ویسے بھی ملتان کی مٹی بڑی زرخیز ہے ۔اس قدیمی شہر میں جو بھی آیا ہے اس کی محبت میں گرفتار ہو کر یہی کا ہو کر رہ گیا ہے ۔جنتا یہ قدیمی شہر ہے اس کی ادبی تاریخ بھی اتنی ہی قدیمی ہے ۔اس خطہ سر زمین نے بڑے بڑے نامور ادیب ،شاعر،صحافی ،آرٹسٹ،گلوکار ،فنکار عطا کیے ہیں ۔
اس خطہ کا خاصا ہے باہر سے آنے والوں کو خوش آمدید کرتا ہے لیکن جو اس خطہ میں پیدا ہوا ،پلا بڑھا ہو اس نے کتنی محبتیں سمیٹی ہوں گی ۔صرف تصور کیا جاسکتا ہے ۔اس پاک سرزمین کے خطہ کو کبھی زوال نہیں آسکتا ۔ہاں اگر کبھی زوال آیا بھی تو اس کے ذمہ دار بھی اس کی کوکھ سے جنم لینے والے اس کے اپنے ہی ہوں گے ۔چاہے وہ ادبی دُنیا ہو یا سیاسی دُنیا ،معاشی دُنیا ہو یاپھر تہذیبی دُنیا ۔

مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ مفاد پرستی سب سے زیادہ ادبی دُنیا میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔جو اچھا کام کر رہا ہو ا س کی کبھی خوش دلی سے حوصلہ افزائی نہیں کرتے بلکہ ٹانگیں کھینچنے کی کوشش میں سر توڑکوششوں میں لگے رہتے ہیں ۔
سلیم ناز اس دھرتی کا محنتی سپوت ہیں۔آپ نے ملتان کی صحافتی زندگی کو اپنی زندگی کے قیمتی بہاریں دی ہیں ۔سلیم ناز ایک درس گاہ ہیں ۔اس درس گاہ سے ہزاروں کی تعداد میں طالب علم فیض یاب ہو کر گئے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ اس درس گاہ کے بعض طالب علم خود کو خدا سمجھنے لگ گئے ہیں شاید انہی کے بارے میں سلیم ناز ”آنکھوں کے شہر میں “کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں :

”میگزین سیکشن میں تقرری کے ایک ماہ بعدہی مجھے بچوں کا ایڈیشن ”پھول اور کلیاں “مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی الحمد للہ رفتہ رفتہ یہ ایڈیشن جنوبی پنجاب کے قلم کاروں کے لیے اکیڈیمی کا درجہ اختیار کر گیا ۔پھول اور کلیاں کے پلیٹ فارم سے اپنی قلمی زندگی کا آغاز کرنے والے لکھاری آج ملک کے مختلف شہروں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہے ہیں ،انہیں ترقی کی منازل طے کرتا دیکھ کر ناقابل بیان خوشی حاصل ہوتی ہے اور افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ان میں سے بعض قلم کار پھول اور کلیاں کی اکیڈیمی کا حوالہ دینا اپنی توہین محسوس کرتے ہیں حالانکہ میں نے ۵۳ سال نوائے وقت میں بطور میگزین ایڈیٹر پھول اور کلیاں کے علاوہ روہی رنگ ،ادبی ایڈیشن کے ذریعہ سینکڑوں لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی نہ صرف ان کی تحریروں بلکہ ان کی شخصیت کو بھی پرموٹ کیا۔جو آج دانشور بھی کہلاتے ہیں اور بڑے قلم کار ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں لیکن میں خود آج تک نہ دانشور بن سکا نہ ہی کنگ ،نہ ہی کنگ میکر،بس نوائے وقت کی منڈیر پر رکھا ہوا ایک ”دیا“ہوں جس کی روشنی میں منزلوں کو چھونے والے بعض قلم کار اس امر کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ پیدائشی لکھاری اور مفکر ہیں ۔تصدیق کے لیے وہ اس دائی کا بھی حوالے دیتے ہیں جس نے اس دنیا میں آنے کے بعد فوراًاپنا ننھا سا ہاتھ علامہ اقبال ؒ کی طرح اپنی ٹھوڑی پر رکھا ہوا تھا ۔پیدائشی مفکر یا دانشور ہونے کی اس سے بڑی دلیل کیا ہو سکتی ہے ۔“

پھولوں کی طرح زیست ہماری بکھر گئی
سوکھے ہوئے جو پات تھے در پر سجا دئیے
”آنکھوں کے شہر میں “سلیم ناز کا پہلا شعر ی مجموعہ ہے ۔اگر آپ کی ۵۳سالہ صحافتی خدمات کا مواد اکٹھا کیا جائے تو کئی کتب منظر شہود پر آسکتی ہیں ۔پبلیشرزاور حکومت وقت کو اس طرف توجہ ضرور کرنی چاہیے کہ ایک شاعر ،ادیب اور صحافی کے، جس کی زیست چار دہائیوں کی ادب پروری میں بیت گئیں ہیں ۔کیا ہم اِسے یونہی فراموش کر دیں گے ؟ملتان کے نامور صحافی و ادیب جناب شاکر حسین شاکر کو اس طرح ضرور توجہ کرنی چاہیے ۔

میں کس سے پوچھوں نازیہ کون بتائے گا مجھ کو
کیوں دشمن وہی بنتے ہیں جو دوست بھی گہرے ہوتے ہیں
”آنکھوں کے شہر میں “جولائی ۱۲۰۲میں غلام طاہر رانا پبلی کیشنز سے اشاعت پذیر ہو کر منظر عام پر آئی ہے ۔سرورق مامون طاہر رانا کے تخیل کا امین ہے ۔انتساب مرحوم والدین ،شریک حیات،بیٹوں ،بہوﺅں اور بیٹی کے نام کیا گیا ہے ۔اس میں پندرہ نظمیں ،۳۲غزلیں،ایک قطعہ ،ایک شعر اور حمدو نعت شامل ہے ۔بیک فلاپ پر ڈاکٹر رفیق الااسلام کے اظہار خیال دیا گیا ہے ۔

خون دل سے جو لکھے دل کے فسانے ہم نے
لفظ در لفظ بھرے غم کے خزانے ہم نے
باکمال شاعر سلیم ناز ملتان کی دھرتی میں پیدا ہوئے ۔ایل ایل بی کرنے کے بعد جب انہوں نے محسوس کر لیا کہ جھوٹ نہیں بول سکتے تو وکالت کو چھوڑ کر ،قلم پکڑ کر قرطاس پر اپنے احساسات ،جذبات ،مشاہدات،حقائق پھیلانے لگے ۔یعنی حق وسچ کی آواز بن گئے اور ایسے ایسے مسائل کی طرف توجہ دلائی جس سے سبھی بے خبر رہے ۔
میں لفظ ہوں ،خوشبو ہوں کتابوں میں رہوں گا
مفہوم ہوں لہجوں کا حوالوں میں رہوں گا

”آنکھوں کے شہر میں “گیارہ نامور ادیبوں نے سلیم ناز کے فن و شخصیت پر بات کرتے ہوئے بطور شاعر ان کی شخصیت کو نمایاں کیا ہے ۔پاکستان میں ہائیکو متعارف کروانے والے ڈاکٹر محمد امین جو سلیم ناز کے استاد محترم بھی ہیں اور سلیم ناز استادوں سے محبت کرنے والی شخصیت کے مالک ہیں تبھی تو ”آنکھوں کے شہر میں “کا پہلا نسخہ استادمحترم کو پیش کیا ہے ۔ڈاکٹر محمد امین اپنا اظہار رائے کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

”مجموعی طور پر سلیم ناز کی شاعری قاری کے لیے دل چسپی رکھتی ہے اسے صحافت کا اثر بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک صحافی حالات و واقعات کا مشاہدہ قریب سے کرتا ہے لیکن یہ صرف صحافت تک ہی محدود نہیں ہے ۔ہر شاعر مشاہدے میں زیرک ہوتا ہے ۔سلیم ناز کو صحافت کا یہ فائدہ ہوا کہ روز مرہ زندگی کے مشاہدے کا بالواسطہ موقع ملا لیکن نثر ان کے مزاج پر غالب آگئی اور انہیں شاعری کی طرف توجہ دینے کا کم موقع ملا ۔میری یہ خواہش رہی ہے کہ وہ اس صلاحیت پر بھی زیادہ توجہ دیں ۔یہ مختصر مجموعہ سلیم ناز کی شاعری سے وابستگی کی دلیل ہے ۔ان کی شاعری ،لوازمات ِشاعری پر پورا اترتی ہے ۔“

سکون دل ،خیال ،سوچ نیند کی حسیں گھڑی
یہی تو اپنی زندگی کا مال تھا نہیں رہا
”آنکھوں کے شہر میں “جبار مفتی لکھتے ہیں :
”ہم انہیں اہل قلم ماننا چاہتے تھے مگر ان میں ادیبوں جیسا تکبر نام کو نہیں تھا ۔تقریبات کی میزبانی کرتے ہوئے وہ اشعار کا تڑکا لگاتے مگر یہ نہ بتاتے کہ کلام شاعر ،میزبان شاعر ہے ۔وہ اگر اندر سے شاعر تھے تو ان میں شاعروں جیسی خود نمائی سر ے سے نہیں تھی ۔“
ہم نے تو اپنا یوں بھی مقدر بنا لیا
جس جا ملی امان وہیں گھر بنا لیا

سلیم ناز کی آزاد نظموں میں عصری مسائل کی تلخی اور کرب ذات کا اظہار ایک نمایاں اور مضبوط عنصر کے طور پر موجود ہے جو ان کی بھر پور قوت مشاہدہ ہی کا نتیجہ ہے ۔”ابھی فہر ست نامکمل ہے “کو ہی پڑھ لیجئے۔:
ماں نے بُندے بھی اپنے بیچ دیے
باپ نے خود کو رکھ دیا گروی
روگ بنتی ہی جا رہی ہے وہ
اپنی نازک سی خواہشات کے ساتھ
اپنے ہی جسم میں ہوئی درگور
گھر کے برتن بھی بیچ ڈالے ہیں
ظالموں کا جہیز پورا نہیں
ابھی فہرست نامکمل ہے
”آنکھوں کے شہر میں “مختار پارس لکھتے ہیں :

”سلیم ناز نے جس شہر میں آنکھ کھولی ہے ۔وہ آئینہ بھی ہے اور عکس بھی ۔اس میں دہکتی آگ بھی سلگ رہی ہے اور اندھیرے بھی مچل رہے ہیں ۔وہ آگ اندر سے یا باہر ۔اس کی حدت نے منظر کو دھندلادیا ہے ۔سلیم ناز نے ”آنکھوں کے شہر میں “دو طرح کی مشعلیں روشن ہیں ۔ایک مشعل امکان کے چراغ دان میں پڑی نظر آتی ہے اور دوسری یادوں کے آتش کدے میں دیوار کا سہارا لے کر کھڑی ہے ۔
سائے کے واسطے جو لگایاتھا صحن میں
وہ پیڑاب اذیتیں دیتا ہے دھوپ میں
سلیم ناز کی نظمیں نرم اور گرم لمحوں کی کہانیاں لگتی ہیں ۔وہاں مناظر فطرت نظرآتے ہیں اور دُنیا کے سارے رنگ ان آنکھوں میں جھلکتے ہیں جو سورج اور دریا سے رشتہ جوڑے ایک دوسرے سے دور جاتا دیکھتے ہیں مگر رنج میں محبت کم ہوتی دِکھائی نہیں دیتی ۔

”آنکھوں کے شہر میں “کی نظمیں ہوں یا غزلیں رنج والم ،محبت و عشق ،معاشی و تہذیبی اور سماجی حقیقت سے پردہ اٹھاتی نظر آتی ہیں ۔یہ مختصر مجموعہ ایک اعلی نمونہ ہے اُمید ہے بطور شاعر سلیم ناز کی یہ کتاب حوالہ ضرور بن جائے گی ۔میری دلی دعا ہے اللہ تعالیٰ سلیم ناز کا سائے شفقت تادیر ہمارے سروں پر سلامت رکھے آمین ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں