میرے بچے بھوک سے مر رہے ہیں کھانا چھوڑ دیں ہمارے پاس پینے کے لیے پانی بھی نہیں ہے!!!

یہ ایک غریب مزدور بلی کی کہانی ہے جو اپنے پورے خاندان کے ساتھ شہر میں کام ڈھونڈنے اور پیسے کمانے آیا تھا اس کا پورا خاندان اپنے دن محنت اور مشقت سے گزارتا تھا وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہیں پیسہ کمانے کے لیے روزانہ کام کرنا پڑتا تھا۔ کھانا حاصل کرنے کا انتظام نہیں کر سکا جب تک کہ وہ سڑکوں پر کام کرنے کے لیے نہ نکلے انہیں روزانہ بہت زیادہ جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس دن کی سخت محنت کے بعد وہ ایک دن اپنے فٹ پاتھ پر بنے دسویں گھر پر سوتا تھا جب وہ اپنے کام کے لیے باہر جا رہا تھا اس نے دیکھا کہ سڑک ویران تھی وہاں سڑک پر کوئی گاڑیاں نہیں تھیں اور تھوڑا آگے بلی گھڑیاں چلنے کے بعد کوئی آدمی دور تک نہیں دیکھا جا سکتا تھا اور اچانک اسے لاٹھی لگنے سے وہ گھبرا گیا اور گھوم گیا ارد گرد جلدی سے اور اس نے دیکھا ۔

کہ ایک پولیس والا اسے لاٹھی سے پیٹ رہا ہے اوہ سر براہ مہربانی انتظار کریں آپ مجھے کیوں مار رہے ہیں آپ پاگل ہیں آپ کہاں گھوم رہے ہیں یہاں سے گم ہو گئے کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم پورے لاک ڈاؤن میں ہیں اگر میں تمہیں دیکھوں تو قوم کرفیو میں ہے۔ پھر آپ کو بری طرح پیٹا جائے گا لیکن جناب یہ لاک ڈاؤن کیا ہے اور سب کچھ کیوں بند ہے اوئے پاگل آدمی تم کس دنیا میں رہ رہے ہو وہاں کورونا نامی ایک بڑی وبائی بیماری پھیل رہی ہے اگر تم اپنے گھر سے باہر جاؤ تو یہ بیماری ہو سکتی ہے اور مر جاؤ گے بھاگو اور یہاں سے گم ہو جاؤ خدا جانتا ہے کہ ایسے پاگل لوگ کہاں سے آتے ہیں یہ کہتے ہوئے اس نے پھر اپنی چھڑی پر بلی مارا غریب اور گھبرا کر بلی بھاگ کر گھر پہنچا تو اس کے گھر والوں نے پوچھا کہ اس نے بتایا کہ کچھ وبائی بیماری پھیل رہی ہے جو قوم بند ہے اور ہم سڑکوں پر نہیں جا سکتے تب بلی کے بیٹے نے کہا لیکن والد اگر ہم باہر جاکر کچھ نہیں بیچیں گے۔

تو ہمیں کھانا کیسے ملے گا بیٹا لیکن گلیوں میں کوئی نہیں ہے جسے ہم وہاں بیچ سکتے ہیں کیا گلیوں میں لوگ ہتھیار دینے کے لیے بھی نہیں ہیں اگر یہ جاری رہا تو ہم بھوکے مر جائیں گے بلی بھوک سے مرنے لگی ہے کہ وہ کیا کرے اب دو دن گزر چکے ہیں اور اس کا خاندان بھوک سے بری طرح تکلیف میں مبتلا ہے اس کے بچے بھوک سے بلکنے لگے دکھ برداشت کرو اپنے خاندان کے لیکن وہ اتنا بے بس تھا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا اس کے پاس گھر کے لیے دو دن کا راشن خریدنے کے پیسے بھی نہیں تھے اور جب وہ باہر گیا تو وہ ایک بھی آدمی کو نہیں دیکھ سکتا تھا جو اسے کوئی کام کرنے سے قاصر ہو اپنے غمزدہ خاندان کو دیکھنے کے لیے وہ پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد بھی باہر جانے کی ہمت کرتا ہے انہیں روسی زبان دی جا رہی ہے کہ غریب بلی جس کے پاس گھر بھی نہیں ہے ۔
آپ مجھے مار دیں جناب میرا خاندان پچھلے دو تین دنوں سے بھوک سے مر رہا ہے

میرے بچے بھوک سے مر رہے ہیں کھانا چھوڑ دیں ہمارے پاس پینے کے لیے پانی بھی نہیں ہے جناب یہ وبا ہمیں مارے گی یا نہیں مجھے نہیں معلوم جناب لیکن یہ بھوک ہمیں ضرور مارے گی میں اپنے خاندان کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی اس لیے بہتر ہے کہ آپ مجھے مار دیں جناب بلی یہ کہنے کے بعد زور زور سے رونے لگتا ہے کہ پولیس والے کو اس پر ترس آتا ہے اور وہ اسے اپنا کھانا اور کچھ دوسری چیزیں بھیجتا ہے اسے اپنے خاندان کو دوست غربت ہمارے ملک میں ایک مسئلہ ہے اور یہ کورونا وبائی مرض ہمارے ملک میں آیا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں