پوری دنیا حیرت میں مبتلا

نئی دہلی (ویب ڈیسک) اکیس سال کی عمر میں انڈین ایڈ منسٹریٹیو سروس ( آئی اے ایس ) کا امتحان پاس کرنے والی پوجا سنگھل اپنے کیریئر کے بائیسویں سال میں انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔ انھیں ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر افسر کے طور پر پہچانا جاتا ہے لیکن اِس وقت انھیں بدعنوانی کے الزام کا

سامنا ہے۔انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے گھر سے سترہ کروڑ روپے نقد برآمد ہونے کے بعد پوجا کے گھر، ان کے سسرال اور ان کے شوہر کے ہسپتال پر ریڈ کیا ہے۔اکاؤنٹنٹ سمن سنگھ کا تعلق پوجا کے شوہر ابھیشیک جھا سے بتایا جاتا ہے۔ اس معاملے نے سیاسی تنازع کا رخ اختیار کر لیا ہے۔ جھارکھنڈ میں اپوزیشن کی حکومت ہے۔انفورسمنٹ کے تفتیش کاروں کو شک ہے کہ سمن سنگھ کے گھر سے جو نقدی بر آمد ہوئی ہے وہ پوجا سنگھ کی ہو سکتی ہے۔ تفتیش کاروں نے ابھی تک پوجا کے شوہر اور اور سمن سنگھ سے کئی گھنٹے تک پو چھ گچھ کی ہے۔پوجا سے بھی پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی ہے۔اکاؤنٹنٹ سمن سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ نقدی ان کی اپنی ہے اور وہ اس سال کے انکم ٹیکس رٹرن میں اس کی تفصیل جمع کرنے والے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ان پر ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، پوجا سنگھل اور بعض دیگر آئی اے ایس افسروں کا نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ان دعوں کے باوجود انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری 2008-10 میں کھونٹی ضلع میں بدعنوانی کے ایک دوسرے معاملے میں کی گئی ہے۔ اُس وقت پوجا سنگھل وہاں کی کمشنر تھیں۔ بدعنوانی کا الزام ان پر بھی لگا تھا لیکن محکمہ جاتی تفتیش کے بعد انھیں کلین چٹ دے دی گئی تھی۔اکثر فلورل پرنٹ والی

گہری رنگوں کی ساڑی پہننے والی پوجا اس وقت کان کنی کے محکمے کی سیکرٹری ہیں۔اس سے پہلے وہ کئی ضلعوں میں ڈپٹی کمشنر رہ چکی ہیں۔ وہ کئی اہم عہدوں پر کام کر چکی ہیں۔ اس دوران ان کے سبھی وزرائے اعلیٰ سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔وہ سکول کے دنوں سے ہی تعلیم میں ہمیشہ اوّل رہی ہیں۔ 2000 کے سول سروسز امتحانات میں ان کی پورے ملک میں 26 ویں پوزیشن تھی۔ان کے پہلے شوہر بھی ایک آئی اے آفیسر تھے لیکن ان کے تعلقات بہت دنوں تک اچھے نہیں رہے اور بالآخر طلاق ہوگئی۔ انھوں نے دوسری شادی عمر میں خود سے چھوٹے ابھیشیک جھا سے کی۔ابھیشیک جھا ریاستی دارالحکومت رانچی میں ایک بڑے ہسپتال کےمینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے اس ہسپتال پر بھی ریڈ کیا ہے اور وہاں سے بعض دستاویزات ضبط کی ہیں۔تفتیش کاروں کو شک ہے کہ شاید اس ہسپتال کی تعمیر میں پوجا نے بھی پیسہ لگایا ہے۔ پوجا کے سُسر سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

Akhtar Sardar

اپنی رائے کا اظہار کریں