عمران خان کے بکھرتے خواب : گوئندی کے تلخ و شیریں تجزیے تبصرہ نگار : ندیم رحمان ملک

عمران خان کے بکھرتے خواب : گوئندی کے تلخ و شیریں تجزیے تبصرہ نگار : ندیم رحمان ملک

Imran Khan’s shattered dreams: Goindi’s bittersweet analysis
Commentator: Nadeem Rehman Malik

پاکستان کی قومی اور عالمی سیاست پر مبنی تجزیے، تحریر و تقریر میں فرخ سہیل گوئندی کا نام بہت مستند اور احترام سے لیا جاتا ہے۔

 

وہ کسی سیاسی پارٹی اور اس کے منشور کی وکالت نہیں کرتے بلکہ جو زمینی حقائق ہوں انہی کو احاطہ تحریر میں لانے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ اور تعلق داری کے خامہ فرسائی میں ہمیشہ پیش رہے ہیں۔

 

پاکستان کی سیاست پر انہوں نے جو پہلی کتاب لکھی تب ان کی عمر 19 سال کے لگ بھگ تھی، وہ اب تک دس مقبول عام کتابوں کے خالق ہیں، وہ گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان کے قومی اخبارات میں تواتر سے کالم اور سیاسی و سماجی تجزئیات لکھتے چلے آ رہے ہیں۔

 

ان کے موضوعات میں پاکستان، مشرق وسطیٰ، وسطیٰ ایشیا، عالمی سیاسیات اور ترکی شامل ہیں۔ یوں ان کی تحریریں کتابیں ملکی اور عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل کرتی رہتی ہیں۔ چونکہ وہ خود کسی دور میں عملی سیاست میں حصہ لیتے رہے تھے

 

اور ساتھ ساتھ عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں اور گفتگو اور دنیا بھر کی سیاحت اور جہاں گردی نے آپ کے قلم کو ایک نئی جہت نئے زاویے اور تازہ عالمی بیانیہ عطا کیا ہے جسے وہ اپنی کتابوں کا موضوع بناتے ہیں۔

 

 

فرخ سہیل گوئندی کی تازہ ترین کتاب ”عمران خان کے بکھرتے خواب“ پاکستانی سیاست کا وہ بیانیہ ہے کہ ایک لیڈر کی مقبولیت اور پھر ناکامی کا قبل از وقت تجزیہ پاکستان کی سیاست، سیاست کاروں، سیاست کی پس منظر قوتوں اور طاقت کے مراکز کے وژن کو اس دلچسپ کتاب میں احاطہ تحریر کیا گیا ہے۔

 

اس کتاب میں نہایت تلخ و شیریں انداز سے بنیادی طور پر وہ عمران خان سے مخاطب ہوئے ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی کہتے ہیں کہ عمران حکومت کو قائم ہوئے دو سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔

 

انہوں نے اپنے ووٹرز کی امیدوں پر پانی پھیرنے کے علاویہ کوئی کامیابی حاصل نہیں کی۔ وہ ایک مضبوط پارٹی اور اہل لوگوں کی ٹیم اس عرصے میں بنا سکتے تھے۔ وہ سمجھے بیٹھے تھے

 

کہ اقتدار ملا تو ہی وہ اپنی جادوئی شخصیت سے قوم کی قسمت بدل دیں گے۔ وہ ایک رویتی وزیر اعظم ثابت ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے ووٹرز اور حامی عوام کے خواب بکھیر کے رکھ دیے ہیں۔

 

تجزیہ نگار فرخ سہیل گوئندی عمران خان کے پرانے دوستوں میں شمار ہوتے ہیں، اکٹھے بیرون ملک سفر بھی کیے ہیں، ایک دوسرے کے گھروں میں دعوتیں بھی کرتے رہے ہیں،

 

موضوع گفتگو سیاست اور سماج پر ایک دوسرے کا احترام بھی کرتے ہیں، اور اختلاف رائے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں، اس کتاب میں جہاں گوئندی صاحب ان کے سخت نقاد محسوس ہوتے ہیں وہیں وہ پرانی دوستی کا احترام محبت اور خلوص کو مد نظر رکھتے انہیں گائیڈ لائن دیتے بھی نظر آتے ہیں۔

 

یہ کتاب فرخ سہیل گوئندی کے ان کالمز آرٹیکلز پر مشتمل ہیں جو وہ پچھلے آٹھ دس سال سے عمران بطور کیس اسٹڈی کے لکھتے رہے ہیں اور وہ تجزیے قومی اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں،

 

تمام تر تجزیے محض کسی ایک پہلو پر نہیں ہیں بلکہ متنوع موضوعات پر مشتمل ہیں عمران کے خواب، جدوجہد، اس کا سیاسی فلسفہ، پنجاب کی مرکنٹائل کلاس اور جاگیر دار قیادت، نئی مڈل کلاس کے سیاسی رجحانات، عمران خان کے سیاسی تضادات،

 

کلونیل ریاست کا ز وال اور نیا پاکستان، دمکتا تاج اور دہکتا تخت، عمران خان ایک کامیاب رہبر مگر کیسے، عمران حکومت دعوؤں کے جنجال میں، انتخابات کا طبقاتی تجزیے، سیاسی ماحول، جلسے جلوس و دھرنے، پانچ انتخابات،

 

 

اس کی خارجہ پالیسی، اس کی حکمت عملی، اقتدار، حکومت اور ان سب مندرجہ بالا موضوعات کا نچوڑ عمران خان کے بکھرتے خواب ہیں جو کہ حاصل کتاب موضوع ہے، جس میں محترم گوئندی کا قلم کی پرواز اور انشاء پردازی کی اٹھان عروج پر نظر آتی ہے۔

 

صاف ظاہر ہے جو شخص کسی ایک موضوع کو آٹھ دس سال سے بغور مشاہدہ کرے اور پھر زمینی حقائق کو سامنے رکھتے اپنا تجزیہ لکھے تو اس کی بات میں وزن اور ا سکے دلائل روشن نظر آتے ہیں، وہ اس موضوع کتاب شخصیت کو ڈی گریڈ نہیں کرتا، نہ کسی کا تمسخر اڑاتا ہے،

 

وہ کسی کی بشری کمزوریوں کو بھی موضوع کا حصہ نہیں بناتا بلکہ نصف صدی کا سیاسی تجزیہ نگاری اور تحریر و تقریر کا تجربہ اور مطالعہ کتاب میں چھلکتا نظر آتا ہے

 

دانشور، ایک مدبر، جہاں دیدہ اور اپنے وطن اور اس کی عوام کا خیر خواہ بن کے عوام کا مقدمہ لڑتا نظر آتا ہے، اور جہا ں حکومت کسی پہلو سے کمزور نظر آئے بطور ناصح اصلاح کرنے میں بھی وہ فرنٹ لائن میں موجود ہوتا ہے۔

 

 

گوئندی لکھتے ہیں کہ ”رہبر ہوتا ہی وہی ہے جو طوفانوں کا مقابلہ کر کے قوم کی ناؤ پار لگا دے، خوش قسمت وزیر اعظم عمران خان کو جہاں لوگوں کے ووٹوں کی حمایت حاصل ہے وہیں طاقت کے تمام اندرونی مراکز ان کی پشت پر کھڑے نظر آ رہے ہیں

 

اس لحاظ سے وہ سویلین لیڈر کے طور پر اقتدار حاصل کرنے والے حکمران صدر ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں خوش نصیب ہیں جن کے پاس حقیقت میں صرف سول طاقت تھی۔

 

ملٹری بیورو کریسی ان کے ساتھ کس قدر کھڑی تھی اس کے ثبوت میں جنرل گل حسن کے ساتھ ان کے اختلاف کی کہانی کافی ہے، اور فوجی حکمران کے طور پر جنرل پرویز مشرف کو صرف فوجی طاقت حاصل تھی،

 

 

تقریباً تمام اہم سول قوتیں چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کی روز اول سے مخالف تھیں، جبکہ خوش نصیب وزیر اعظم عمران خان اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے پھوٹنے والی طاقت کے سر چشمے سے بھی فیض یاب ہوئے ہیں

 

اور فوجی قیادت بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اب یہ دانش قابلیت حکمت عملی اور اقدامات اس سول حکومت نے کرنے ہیں جس کے سربراہ عمران خان ہیں،

 

ان کے پاس ناکامی کے اب کوئی جواز نہیں ہونے چائیں اگر وہ ناکام ہوئے تو اس کی ذمہ داری اپوزیشن پر قطعی نہیں ڈالی جا سکتی۔ یہ ناکامی سرا سر ان کے سر سجے گی۔ اور اگر اسی طرح وہ کامیاب (اللہ کرے ) ہوتے ہیں تو اس کا سہرا بھی ان ہی کے سر سجے گا۔

 

اپنے خوابوں کی مہا تیر محمد کی قیادت میں تعبیر ڈھونڈنے سے شاید وہ ان کی لیڈر شپ کا بغور مطالعہ کرتے۔ راقم (صاحب کتاب) نے 1998 ء میں جب مہا تیر محمد ابھی پاکستان میں ایک مقبول لیڈر کے طور پر متعارف نہیں ہوئے تھے یا یوں کہیے

 

کہ ابھی ان کی کامیابی کی خبر ہمارے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں نہیں پہنچی تھی۔ اس وقت ان سے رابطہ کر کے ان کی ایک کتاب (A New Deal For Asia) کے اردو ترجمہ کے حقوق حاصل کیے

 

 

تاکہ ایک کامیاب لیڈر کے اقدمات کو پاکستان کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں متعارف کروایا جا سکے، مہا تیر محمد نے اپنے قیمتی وقت میں میرے رابطوں کا جواب دے کر اس شاندار کتاب کے اردو ترجمے کے حقوق مجھے تفویض کیے۔

 

جسے ہم نے ”ایشیا کا مقدمہ“ کے عنوان سے شائع کیا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تب عمران خان نے ابھی مہا تیر محمد بحیثیت ایک کامیاب لیڈر کا خواب نہیں دیکھا تھا۔ وہ چا ہیں تو راقم یہ کتاب انہیں تحفہ میں پیش کر دے تاکہ انہیں ایک کامیاب لیڈر کے طرز عمل سے آگاہی ہو سکے۔ ”

 

ایک اور مضمو ن عمران حکومت، امیدوں کا پہاڑ اور ابھرتی عوامی تحریک میں لکھتے ہیں کہ ” بیرونی دنیا کے بینکوں سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی یہ بھی ایک یو ٹوپیائی تصور ہے۔

 

عالمی سرمایہ داری نظام میں ان بینکوں میں جمع تیسری دنیا کے آمروں لٹیروں اور صنعت کاروں کی لوٹی ہوئی دولت کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس لیے ان کی واپسی کا فلسفہ اور دعویٰ ایک تخیل ہے، حقیقت نہیں

 

 

اس لیے میرے نزدیک اس دولت کی واپسی کے مقابلے میں اہم اور بنیادی مسئلہ استحصال کا ہے۔ جو پاکستان کے پیداواری طبقات کا کیا جاتا ہے۔

 

پاکستان کا غیر پیداواری طبقہ صنعت کار جاگیر دار پراپرٹی ڈیلر اور مختلف مافیاز نے لوگوں کی محنت سے پیدا وار کے نتیجہ میں جنم لینے والی دولت کو لوٹنے اور ان کے استحصال کا جو خوفناک نظام بن لیا ہے۔

 

اس کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ ہمارے منتخب اور غیر منتخب حکمران طبقات کی تقریباً تمام کلاس ان استحصال کرنے والوں پر مشتمل ہے۔ ”

 

مزید ایک جگہ وہ گڈ گورننس کے دل فریب نعرہ کی حقیقت یو ں کھول کے رکھتے ہیں کہ گڈ گورننس جیسی اصطلاحیں در حقیقت ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں کے ہاں بڑی معتبر مانی جاتی ہیں۔

 

ان کے نزدیک گڈ گورننس والے ممالک وہ ہیں جہاں ان کے قرضوں پر چلنے والی معیشتوں پر ایسی قیادت براجمان ہو جو ان کے قرضوں پر چلے اور شاندار منافعوں کے ساتھ واپسی کرے، یعنی عالمی مالیاتی اداروں کی رقوم کا تحفظ کر نے والی گورننس۔

 

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسی فیڈریشن اور خصوصاً اٹھارہویں ترمیم کے بعد گورننس کی عملی اور کامیاب شکل یہ ہونی چاہیے کہ (Self Governance) ہو یعنی عام لوگوں کی ہر سطح پر حکمرانی صوبوں ضلعوں اور دیہات تک عام لوگوں کی حقیقی حکومتیں ہوں۔

 

یوں تو اس دلچسپ کتاب میں بہت سے ”سبق آموز“ تجزیے شامل ہیں اور ہر مضمون اپنے اندر سیاسی شعور اور بالغ نظری کا ایک جہاں وا کیے ہوئے ہے۔” ملک معراج خالد کی عمران خان کو نصیحت“ میں قاری کو یہ جاننے کا مو قعہ ملتا ہے

 

کہ شروعات کی جد و جہد میں عمران خان ایک اچھے سیاسی طالب علم کی حیثیت میں ملک کے سینئر ترین سیاست دانوں سے ملتے رہتے تھے

 

لیکن ان سے ملنے والی حکمت سبق اور فیض کو وہ اسی وقت کپڑے جھاڑتے کھڑے ہو جاتے اور باہر نکل کے مسکراتے ہوئے مزید فکری اثاثے کی تلاش میں کسی نئے آستانہ سیاست کا رخ کر لیتے تھے۔ ملک معراج خالد نے انہیں کہا۔

 

 

 

” میں نے عمران سے کہا کہ دیکھو عمران! تمھارے پاس وہ سب کچھ ہے جو میرے پاس نصف صدی کے بعد بھی نہیں اور اگر تم میرے پاس اس مشورے کے لیے آئے ہو کہ میں ملک بدلنا چاہتا ہوں تو پھر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ تبدیلی کا روٹ کیا ہے۔

 

وہ یہ کہ تم سیاسی جماعت نہ بناؤ اور ملک میں تعلیمی انقلاب کے لیے ایک تحریک کی بنیاد رکھو۔ تم میں وہ عناصر موجود ہیں جو اس انقلاب کو ممکن بنا سکتے ہیں اور اگر تم تعلیمی انقلاب کی تحریک چلاؤ گے تو اگلے دس برس میں سیاست اور اقتدار تمھارے قدم چومے گا

 

اور ملک جہالت سے تعلیم یافتہ سماج میں بدل چکا ہوگا لیکن اس کے بر عکس اگر تم نے اپنے سیاسی جنون اور ارد گرد کے“ سیاسی تجربہ بازوں ”کے ذریعے سیاست میں قدم رکھا تو وقت کے ضیاع کے علاویہ کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔“ اور پھر عمران خان ملک معراج خالد کی وہ نصیحت سنتے مسکراتے ہوئے واپس چل دیے۔

 

بہر حال یہ طے ہے کہ ان ( Prophetic ) تجزیوں پر مبنی اس کتاب کو پڑھ کر یہ جاننے کا موقعہ ملتا ہے کہ وہ (Political Trauma) کا شاید شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر عمران خان کی حکومت نے لوگوں کے خواب بکھیرے تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟ اور اگر ایک عملی تبدیلی لانی ہے

 

تو اس کا راستہ کیا ہے؟ کیسے کم سے کم وقت میں پاکستانی سماج قوم اور ملک کو ترقی اور خوابوں کی تعبیر کے قریب کیا جا سکتا ہے۔ وہ راستہ اور ماڈل اس کتاب میں پڑھنے کو ملتا ہے۔

 

بہت دنوں بعد سیاست پر ایک اچھی کتاب لکھی گئی ہے۔ ایک ایسی کتاب جو اہل فکر و دانش، سیاسی اداروں، صحافیوں، نوجوان سیاسی لیڈروں اور سیاسی شعور کا ذوق رکھنے والوں کو ضرور پڑھنی چاہیے۔

 

کتاب کا خوبصورت سرورق مصباح سرفراز نے بنایا ہے۔ 216 صفحات اور قیمت 650 روپے ہے۔ اور اسے جمہوری پبلیکیشنز لاہور نے شائع کی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں