اہم فیصلوں کا وقت قریب ، سب کی نظریں عمران خان پر۔۔!!! وزیر اعظم اگلے ’’ آرمی چیف‘‘ کے لیے کس کا انتخابت کریں گے؟

لاہور(نیوز ڈیسک) نومبر 2022 میں وزیراعظم عمران خان کچھ اہم فیصلے لیتے ہوئے پاکستان کے اگلے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا انتخاب کریں گے۔اگر موجودہ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی تو نئے سی او اے ایس (Chief of Army Staff) اور سی جے سی ایس

سی(Chairman Joint Chiefs of Staff Committee) کا انتخاب پاک فوج کے درج ذیل سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز میں سے کیا جائے گا۔نومبر 2022 میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل ندیم کی ریٹائرمنٹ کے بعد راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا سب سے سینئر پوزیشن پر آ جائیں گے اور پاک فوج کے دونوں اہم عہدوں آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کیلئے دوڑ میں شامل ہو جائیں گے۔سینیارٹی کے لحاظ سے دیگر جن پانچ آرمی افسروں کا نام ٹاپ پوزیشن پر لیا جا سکتا ہے ان میں لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود راجہ، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر، لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر اور لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر بلوچ شامل ہیں۔پاک فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم شیخ اس فہرست میں ساتویں نمبر پر ہوں گے۔پاکستان آرمی میں اس وقت سینئر ترین جنرل لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کور کمانڈر راولپنڈی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ پاکستانی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں چیف آف جنرل اسٹاف تھے۔ ٹو سٹار جنرل کے طور پر انہوں نے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل، جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ کے ساتھ ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان میں 40 انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کی۔ یہ ڈویژن اب اوکاڑہ منتقل ہو گیا ہے۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع چکوال کے علاقے ملہل مغلاں سے ہے۔لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اس وقت چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اپنی موجودہ پوسٹنگ سے قبل انہوں نے راولپنڈی کور کی کمانڈ کی اور ڈی جی جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹر

تھے۔ وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے پرسنل سیکرٹری بھی رہے۔ وہ مری میں 12 انفنٹری ڈویژن کے کمانڈنگ جنرل آفیسر کے طور پر مزید خدمات انجام دے چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے آخری پانچ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اس سے قبل جنرل اسٹاف کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود راجہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر ہیں۔ اس سے قبل وہ کور کمانڈر پشاور اور انسپکٹر جنرل کمیونیکیشن اینڈ آئی ٹی کے عہدوں پر فائز رہے۔ بطور میجر جنرل وہ آئی ایس آئی میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بطور ڈی جی analysis اور میران شاہ میں انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ لیفٹیننٹ جنرل راجہ کا تعلق راولپنڈی کے علاقے ادھوال سے ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود راجہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید تینوں کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔کور کمانڈر پشاور کی حیثیت سے اس وقت اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے پاکستان آرمی کے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی اور ایڈجوٹینٹ جنرل کے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ میجر جنرل کے طور پر، جنرل حمید نے پنو عاقل انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کی اور ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس/ انٹرنل سیکیورٹی آئی ایس آئی رہے۔ جب وہ بریگیڈیئر تھے تو انہوں نے اس وقت کے لیفٹیننٹ جنرل اور اب سی او ایس جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ راولپنڈی کور کے چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا

تعلق ضلع چکوال سے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پشاور کے صرف تین کور کمانڈرز کو بعد میں ماضی میں فور سٹار جرنیلوں کے عہدے پر فائز کیا گیا، یعنی جنرل سوار خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل احسان الحق۔کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کا تعلق آرٹلری سے ہے۔ اس سے قبل وہ ایڈجوٹینٹ جنرل کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ میجر جنرل کے عہدے پر وہ 10 انفنٹری ڈویژن لاہور کے جی او سی اور COAS سیکرٹریٹ میں ڈائریکٹر جنرل سٹاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر بلوچ ایک پنجابی بلوچ ہیں اور ان کا تعلق ساہیوال، ضلع سرگودھا سے ہے۔ اس سے قبل وہ جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹر کے ڈی جی، ڈی جی ملٹری ٹریننگ اور جی او سی انفنٹری ڈویژن جہلم کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔حاضر سروس ڈی جی آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم شیخ اس سے قبل کور کمانڈر کراچی، کمانڈنٹ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ، انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان اور بریگیڈ کمانڈر وزیرستان اور کرم ایجنسی رہ چکے ہیں۔روایت کے تحت پاک فوج اعلیٰ ترین امیدواروں کو سبکدوش ہونے والے چیف آف آرمی اسٹاف کے ذریعے نامزد اور ترقی دی جاتی ہے، جن میں سے، وزیر اعظم پھر اگلے COAS اور CJCSC کا انتخاب کرتے ہیں۔اس طرح لیفٹیننٹ جنرل مرزا، لیفٹیننٹ جنرل عباس، لیفٹیننٹ جنرل راجہ اور لیفٹیننٹ جنرل حمید کو اپریل 2019 میں تھری سٹار رینک پر ترقی دی گئی تھی۔ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عامر، لیفٹیننٹ جنرل بلوچ اور لیفٹیننٹ جنرل شیخ کو ستمبر 2019 میں اس عہدے پر ترقی دی گئی۔اس کے علاوہ، یہ بھی نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اب آرمی چیف جنرل باجوہ کی طرف سے جن میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی دی جا رہی ہے، وہ نومبر 2025 میں اعلیٰ عہدوں کے لیے دوڑ میں شامل ہوں گے۔ لیکن وزیراعظم کسے منتخب کریں گے؟ کیا یہ مکمل طور پر ان کی صوابدید ہوگی؟سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان سابق صدر آصف زرداری کے راستے پر چلتے ہوئے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دیں گے یا سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سینئر ترین افسران کو نظر انداز کریں گے؟

Akhtar Sardar

اپنی رائے کا اظہار کریں