سندھ میں لاک ڈاؤن اور تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کا اہم اعلان

سندھ میں لاک ڈاؤن اور تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے اہم اعلان کر دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں سرکاری شعبے میں پہلی سیمولیشن لیبارٹری کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ این سی او سی کے مشورے سے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اومیکرون کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے فی الحال لاک ڈاؤن یا پابندیاں نہیں لگا رہے جبکہ تعلیمی اداروں پر پابندی کے لیے این سی او سی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں گزشتہ روز مثبت کیسز اب تک کی بلند ترین شرح پر پہنچ گئے ہیں، مگر حالات ابھی قابو میں ہیں، اسپتالوں پر دباؤ میں اضافہ نہیں ہوا ، گزشتہ روز اعداد و شمار چیک کرنے پر دیکھا گیا ہے کہ کراچی کے کیسز لاہور اور پشاور سے کم تھے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں نظام صحت اموات کا باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں، اموات کی شرح اور اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ نہیں ہورہا، وینٹی لیٹرز پر مریضوں کی تعداد بھی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، موجودہ صورتحال کے حوالے سے محکمہ صحت روزانہ اجلاس کر رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے خود فیصلہ کریں تو لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے، کیسز صرف سندھ میں نہیں پورے پاکستان میں بڑھ رہے ہیں، این سی او سی کے پلیٹ فارم پر بھی یہ معاملہ زیر غور ہے، فیصلہ این سی او سی کے ساتھ مل کر ہی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بھی لاک ڈاؤن کا مقصد لوگوں پر پابندی لگانا نہیں بلکہ صحت کی سہولیات میں بہتری لانا تھا تاکہ نظام صحت پر دباؤ نہ بڑھے، شکر ہے کہ ہم اس مقصد میں کامیاب رہے تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز نے کورونا کے دوران قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں اور اس کورونا کے خلاف جنگ میں بہت سے ڈاکٹرز نے اپنی جانوں کا بھی نذرانہ دیا، ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں