چین کے ارضیاتی سائنس سیٹلائٹ نے تصاویر زمین پر بھیج دیں

 

چین کی جانب سے حال ہی میں روانہ کئے جا نے والے ارضیاتی سائنس سیٹلائٹ نے اپنی پہلی ریموٹ سینسنگ تصاویر واپس بھیجی ہیں ۔اس کے ڈویلپر چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس )کے مطابق تھرمل انفراریڈ، کم سطح کی روشنی اور ملٹی اسپیکٹرل امیجرز کا استعمال کرتے ہوئےسیٹلائٹ نے بیجنگ، شنگھائی، دریائے یانگسی ڈیلٹا، تبت میں جھیل نمتسو، سنکیانگ میں اکسو پریفیکچر اور فرانس میں پیرس سمیت متعدد شہروں اور خطوں کی تصاویر حاصل کی ہیں ۔

یہ سیٹلا ئٹ ایس ڈی جی ایس اےٹی -1دنیا کا پہلا خلائی سائنس سیٹلائٹ ہے جو اقوام متحدہ کے 2030 ایجنڈا برائے پائیدار ترقی کے لیے خدمات کی فراہمی بارے وقف ہے۔چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق یہ انسانوں کے مابین ر بطوں ، فطرت اور پائیدار ترقی کی نگرانی، تشخیص اور مطالعہ کے لیے خلائی مشاہداتی اعدادوشمار کی فراہمی بارے ڈیزائن کیا گیا ہے۔اس کی کم سطح کی روشنی کاشبیہ ساز رات کی روشنیوں کی شدت اور تقسیم کا پتہ لگا کر کسی علاقے میں سماجی اور اقتصادی ترقی کی سطح اور انسانی بستیوں کےشکل کی عکاسی کر سکتا ہے۔

ملٹی اسپیکٹرل شبیہ ساز پانی کے رنگ کے انڈیکس اور مختلف گدلے آبی ذخائر کی شفافیت کی نگرانی کر سکتا ہے اور ملٹی اسپیکٹرل ڈیٹا کو گلیشیئرز، پگھلنے والی برف اور پودوں کی وسعت میں ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حرارت سے متعلق انفراریڈ شبیہ ساز زمین کی سطح اور پانی کے درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ شہری گرمی کی توانائی کی تقسیم میں تبدیلیوں کا سروے کر سکتا ہے اور فصل کی کاشت، کیڑوں پر قابو پانے اور بیماریوں کے کنٹرول کے لیے بنیادی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔اس سیٹلائٹ کو 5 نومبر کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔

Akhtar Sardar

اپنی رائے کا اظہار کریں