اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

5th International Writers’ Conference Written by Akhtar Sardar Chaudhry

”اخوت“ معاشرے کے محروم طبقات کی فلاح کیلئے کام کرتی رہے گی: ڈاکٹر امجد ثاقب

 

اکادمی ادبیات اطفال نے بچوں کے ادب کیلئے نمایاں خدمات انجام دی ہیں: امجد اسلام امجد

 

نئی نسل کی نفسیات کے مطابق تحریریں بہتر نتائج دے سکتی ہیں: ڈاکٹر عمران مرتضیٰ

 

ہماری کوششوں سے بچوں کے ادب پر کئی ایوارڈزجاری ہوئے: محمد شعیب مرزا

 

اہل قلم معاشرتی برائیوں کے خلاف اہم کردار ادا کر سکتے ہیں: پروفیسر مسرت کلانچوی

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس کا انعقاد
نئی نسل پر کرونا /لاک ڈاؤن اور منشیات کے بڑھتے استعمال کے تدارک میں اہل قلم کا کردار
بچوں کے ادیبوں کو تسنیم جعفری، اخوت، انعم فاطمہ، دلشاد کلانچوی اور معمار وطن اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز دیئے گئے۔

 

تحریر وتصاویر: اختر سردار چودھری

٭……٭……٭

پانچویں اہل قلم کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے بچوں کے ادیبوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تلاوت قرآن مجیدکی سعادت حفیظ چودھری نے حاصل کی جبکہ نعت رسول مقبول معروف نعت خواں سرور حسین نقشبندی نے پیش کی۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

کمپرئیرنگ کے فرائض فاطمہ خان اور شباہت قمر نے بخوبی احسن طریقے سے سر انجام دیئے۔مسلسل پانچ بار منعقد ہونے والی یہ انٹرنیشنل سطح کی ادب اطفال کے حوالے سے اپنی نوعیت کی اہم کانفرنس تھی جس کی دھوم پاکستان سمیت دنیا بھر کی علمی وادبی حلقوں میں ذود زباں عام رہی۔

 

ویسے تو یہ کانفرنس مارچ اپریل میں ہر سال منعقد ہوتی تھی لیکن اس بار کرونا وباء اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے چند ماہ لیٹ ہوگئی۔

 

اور دوسرا حکومتی احکامات یعنی ایس او پیز پر عمل درآمد کی پابندی تھی جس کی وجہ سے ملک کے طول و عرض سے بلائے جانے والے مہمانان گرامی کی آمد اور کانفرنس میں شرکت ضروری تھی۔

 

ہر سال ایک اہم موضوع پر کانفرنس منعقد ہوتی ہے،اس بارکانفرنس کا موضوع ”نئی نسل پر کرونا /لاک ڈاؤن اور منشیات کے بڑھتے استعمال کے تدارک میں اہل قلم کا کردار“تھا۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

ایک روزہ کانفرنس پانچ مختلف سیشنز پر مشتمل تھی جس میں ہر سیشنز کی الگ الگ صدارت، مہمانان خصوصی، مقالہ نگار اورمقررین تھے۔

 

جن میں اخوت کے بانی وچیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب،نامور شاعر و ادیب امجد اسلام امجد،معروف شاعرو معالج ڈاکٹر فرحت عباس، شجاعت علی راہی،ادیبہ و مصنفہ تسنیم جعفری،منہاج یونیورسٹی ڈاکٹر فضیلت بانو، معروف شاعر سعداللہ شاہ،ادیب سید اعجاز گیلانی (کینیڈا)،ماہر نفسیات و میڈیکل سپرٹنڈنٹ فاؤنڈیشن ہاؤس ڈاکٹر عمران مرتضی، سیکرٹری اکادمی ادبیات اطفال وسیم عالم،صدر پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی محمد شعیب مرزا، شوکت حسین (چین) ڈاکٹر فوزیہ سعید (ماہر نفسیات) بشری باجوہ،معروف رائٹرپروفیسر مسرت کلانچوی، الوینہ علی خان (ننھی مقررہ) شرمین قمر،شیخ فرید (کوئٹہ) عبداللہ نظامی (جنوبی پنجاب) پروفیسر ریاض احمد قادری،پروفیسر اسحق وردگ و دیگر شامل تھے۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

”اخوت“ معاشرے کے تمام کمزور اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی کے لئے کام کر رہی ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں افراد کو کاروبار کے لئے بغیر سود کے قرض دیے جا رہے ہیں۔

 

قرض لینے والے قرض واپس بھی کرتے ہیں اور اس طرح خیر اور بھلائی کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔

 

بچوں کے ادب کی اہمیت کے پیش نظر اس سال بہترین ادیب کو ”اخوت ایوارڈ“ اور 50 ہزار روپے نقد انعام دیا جا رہا ہے۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

ان خیالات کا اظہار بانی چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب نے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس ادب اطفال منعقدہ پی سی ہوٹل میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 

کانفرنس کا انعقاد اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فوم کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔

 

معروف شاعر و ادیب امجد اسلام امجد نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں غیر سرکاری سطح پر اکادمی ادبیات اطفال واحد ادارہ ہے جو گزشتہ کئی سال سے بچوں کے ادب کے فروغ اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کام کر رہا ہے۔

 

حکومت کو ایسے فعال اداروں کی بھرپور سرپرستی اور معاونت کرنی چاہئے۔

 

معروف رائٹر،پروفیسر مسرت کلانچوی نے کہا کہ اہل قلم معاشرتی برائیوں کے خلاف اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور کسی حد تک کر بھی رہے ہیں۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

نئی نسل کی تربیت اور کردار سازی ضروری ہے۔بچوں کے حوالے سے پروگرامز زیادہ سے زیادہ کروائیں جائیں۔ بچوں کی تعلیم کے حصول کو آسان بنایا جائے۔

 

معروف شاعر و معالج ڈاکٹر فرحت عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائداعظمؒ قلم کو تلوار سے زیادہ مؤثر سمجھتے تھے لہٰذا اگر ہم قلم کو مثبت انداز میں استعمال کریں تو اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ کسی ادیب کی ایک تحریر دوسروں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔

 

ڈاکٹر فرحت عباس نے بچوں کے شعری ادب و افادیت پر تفصیلی گفتگو کی اور اس کی ضرورت و اہمیت پر زور ڈالا۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی اچھی تربیت کے لئے ادیبوں کو بہتر سے بہتر لکھنااور بچوں کو پڑھنے کی طرف لانا ہو گا۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

ماہر نفسیات و میڈیکل سپرٹنڈنٹ فاؤنڈیشن ہاؤس ڈاکٹر عمران مرتضٰی نے کہا کہ اگر ادیب قارئین کی نفسیات کو پیش نظر رکھ کر ادب تخلیق کریں تو ان کی تحریریں بہتر نتائج دے سکتی ہیں۔

 

کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن اور منشیات کے بڑھتے استعمال نے نئی نسل کو شدید متاثر کیا ہے۔ ادیب اپنی تحریروں کے ذریعے ان کی ذہنی و نفسیاتی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

 

اکادمی ادبیات اطفال کے چیئرمین محمد شعیب مرزا نے کہا کہ ہم بچوں کے ادب اور بچوں کے ادیبوں کو ان کا حق اور مقام دلوانے میں مصروف عمل ہیں۔ جس میں ہم کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں لیکن ابھی منزل نہیں آئی۔ حکومت اور سرکاری کو بچوں کے ادب سے بیاعتنائی ختم کرنی چاہیے۔

 

ہمیں خوشی ہے کہ ہماری کاوشوں سے بچوں کے ادب پر کئی ایوارڈز جاری ہوئے ہیں جن میں ایک لاکھ روپے مالیت کے تسنیم جعفری ایوارڈ، پچاس ہزار مالیت کا”اخوت ایوارڈ“ پروفیسر دلشاد کلانچوی ایوارڈ، انعم فاطمہ ایوارڈ اور معمار وطن ایوارڈ شامل ہیں۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

ایڈیٹر ماہنامہ پھول و پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی کے صدر محمد شعیب مرزا نے کہا کہ بچوں کا ادب کم تر درجے کا کام نہیں ہے۔غیر سرکاری سطح پر ایوارڈز کا اجراء ”اکادمی“ کا اہم کارنامہ ہے۔

 

اکادمی ادبیات اطفال کے سیکرٹری وسیم عالم نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بچوں کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایسی تقریبات کی بھی سرپرستی کرے،بچوں کے

ادیبوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہ کرے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرے،

 

انہوں نے آخر میں حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ادیبوں کو بھی سول ایوارڈز دینے کا اعلان کرے۔

 

بچوں کے ادیب احسن طریقے سے اپنے قلم کے معاشرے کی اصلاح کر رہے ہیں۔غیر سرکاری سطح پر ایوارڈز کا اجراء اکادمی ادبیات اطفال کا اہم کارنامہ ہے۔بچوں کے ادب کے فروغ کیلئے اکادمی ادبیات اطفال فعال ہے۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

ڈاکٹر فضیلت بانو نے کہا کہ بہت سی ادبی محافل اور کانفرنسز ہو رہی ہیں جو بہت بہتر ہے۔ بچوں کے لئے یہ مخصوص کانفرنس ایک اہم قدم ہے جس میں بچوں کے ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اہتمام کیا جاتا ہے۔

 

ہر دور کے ادیب نے بچوں کے ادب کے لئے بہت کچھ لکھا مگر ادیب اپنے بارے میں بھی لکھیں اور ایک دوسرے کے بارے میں بھی۔ اس سے پہچان کا ایک اچھا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

 

معروف شاعر و کالم نگار سعداللہ شاہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تعلیم اور نگہداشت کی ذمہ داری ہم بڑوں کی ہی ہوتی ہے۔ہمیں اپنے پھولوں کی درست سمت راہنمائی کرنا ہے۔

 

پھول جیسے نرم و نازک بچوں کو محفوظ کرنا ہوگا۔بچے بہت پیارے ہوتے ہیں بس ان میں ایک ہی خامی ہوتی ہے کہ وہ جلد بڑے ہوجاتے ہیں۔اور غفلت ہمیشہ بڑوں سے ہی ہوتی ہے۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس میں اندرون و بیرون ملک سے آئے ادیبوں، دانشوروں نے نئی نسل پر کرونا /لاک ڈاؤن اور منشیات کے بڑھتے استعمال کے تدارک میں اہل قلم کا کردار کے حوالے سے شرکاء سے خطاب اور مقالے پیش کیے

 

جن میں تسنیم جعفری، پروفیسر مسرت کلانچوی، ڈاکٹر فضیلت بانو، سید اعجاز گیلانی(کینیڈا)، ڈاکٹر فوزیہ سعید، شجاعت علی راہی وغیرہ شامل تھے۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

کانفرنس میں نامور ادیبوں کے علاوہ کالم نویس، دانشور اور سماجی رہنما ؤں کی بھی کثیر تعداد شریک ہوئی۔

 

یوں تو بچوں کے ادب کے لئے بہت سا کام ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا مگر اکادمی ادبیات اطفال کی بچوں کے ادب کے فروغ کے لئے نمایاں خدمات ہیں جن کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

 

مورخہ 28اکتوبر بروز اتوارپانچویں اہل قلم عالمی کانفرنس ادبِ اطفال2020ء”کا انعقاد”دی پیلس ہال“ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں کیا گیا تھا۔

 

ایک روزہ اہل قلم عالمی کانفرنس میں دنیا بھر سے مختلف صوبوں اور آزاد کشمیر سے آنے والے تین سو سے زائد بچوں کے مختلف ادیبوں نے نمائندگی کی جن میں نامورلکھاری اور شاعر شیخ فرید نے(بلوچستان) کی۔

 

پروفیسر اسحاق وردگ نے(خیبرپخوتنخواہ) کی عبداللہنظامی نے(جنوبی پنجاب) کی اور پروفیسر ریاض احمد قادری نے(پنجاب) کی بھر پور نمائندگی کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقائی بچوں کے ادیبوں کے مسائل اور ان کی مشکلات سے آگاہ کیا۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

شیخ فرید نے بلوچستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وہاں کے بچوں کے حوالے سے درپیش مسائل پیش کیے اور انہوں حکومت سے ان کے مسائل حل کرنے کی درخواست کی۔

 

انہوں نے بچوں اور بچوں کے ادب کے بارے گفتگو کرتے کہا کہ محمدشعیب مرزا کی بچوں کے ادب کے ساتھ مخلص پن اور وفاداری اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آج پانچویں اہل قلم کانفرنس کو خوبصورتی سے منعقد کروائے ہوئے ہیں۔

 

پروفیسرریاض قادری نے پنجاب کی بھر پور نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ادب سے ہم نئی آنے والی قوم کو قابل فخر قوم بنائیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ آج کی کانفرنس کا انعقاد بچوں کے ادب میں ایک نایاب کام ہے جس کی میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی اسی طرح کانفرنسز منعقد ہوا کریں گی۔

 

اور ان کانفرنسز کا کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے وطن عزیز کے دوسرے صوبوں تک بھی لے جایا جائے تاکہ وہاں بچوں کے ادب اور ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیاجاسکے۔

 

صوبہ (خیبرپخوتنخواہ) پشاور کی نمائندگی کرنے کے لئے پروفیسر اسحاق وردگ سٹیج پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لئے آئے۔ بچوں کے ادیب عمدہ طریقے سے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا

 

کہ کانفرنس کے مسلسل انعقاد سے بچوں کے ادب کی اہمیت واضح طور پر سامنے آ رہی ہے۔ہم اس کے ذریعے بچوں کو کتاب کی طرف لا سکتے ہیں۔

 

جنوبی پنجاب کے ادیبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے عبداللہ نظامی سٹیج پر آئے۔انہوں نے کہاکہ یہ سالانہ کانفرنس اپنی جگہ خاص اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے ذریعے بچوں کے ادب کے فروغ میں بہت مدد مل رہی ہے۔ میری خواہش ہے

 

کہ ایسی کانفرنس ہر سال کشمیر سمیت دوسرے صوبوں میں بھی کروائی جائیں کیونکہ یہاں اس کانفرنس میں مخصوص لوگ آتے ہیں اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے۔ ہم میزبانی کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ کانفرنس کی سب خاص اور بڑی بات یہ ہے

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

کہ اس میں بچوں کے معیاری ادب تخلیق کرنے والے ادیبوں کو نقد انعامات کے علاوہ ” تسنیم جعفری ایوارڈ ”انعم فاطمہ ایوارڈ ” پروفیسر دلشاد کلانچوی ایوارڈ ” معماروطن ایوارڈز ” لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈبھی دئیے جا رہے ہیں۔

 

بچوں کا معیاری ادب تخلیق کرنے کے حوالے سے تسلسل کے ساتھ ہونے والی عالمی سطح کی ادب اطفال کانفرنسیں نہایت ہی موثر اور نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں۔

 

شعیب مرزا صاحب کی کاوشوں سے چند ایک سینئر لکھاریوں سمیت نوجوان لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد بچوں کا ادب تخلیق کرنے میں دلچسپی لے رہی ہے۔

 

”پروفیسر دلشاد کلانچوی ایوارڈ ”

 

ماہنامہ پھول میں سال 2019میں سب سے زیادہ اور معیاری تحریریں لکھنے پربچوں کے پسندیدہ ادیب نذیر انبالوی صاحب کوپروفیسر دلشاد کلانچوی ایوارڈ اول15ہزار روپے نقد +ایوارڈ۔دوم بینش توصیف صاحبہ اور عائشہ طارق صاحبہ کو مشترکہ طور پر پانچ،پانچ ہزار روپے+ ایوارڈ دیا گیا۔

 

 

”اخوت ادبی ایوارڈ ”

 

اخوت ادبی ایوارڈ 50ہزار روپے مالیت کا تھا جو کہ مشترکہ طور پر بچوں کے ادب میں نمایاں خدمات سر انجام دینے پربچوں کے معروف ادیب و مصنف محمد شعیب مرزا کو 25ہزار روپے +ایوارڈ۔معروف سائنس فکشن لکھاری و ادیبہ محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کو 25ہزار روپے +ایوارڈ دیا گیا۔

 

 

”لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ”

 

بچوں کے معروف ادیب عبدالعزیز چشتی صاحب جو اس وقت بھی بچوں کے ادب میں گراں قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔91سالہ بزرگ عبدالعزیز چشتی صاحب کو ان کی بچوں کے حوالے سے گراں قدر خدمت کے اعتراف پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔

 

 

”انعم فاطمہ ایوارڈ ”

 

انعم فاطمہ ایوارڈبچوں کی شائع ہونے والی 18سال سے کم عمر مصنفین کی کتابوں پر دیا گیا جن میں فلک زاہد صاحبہ کی کتاب پرسرار کہانیاں پر 10ہزار+ ایوارڈ جبکہ حوصلہ افزائی کے لیے محترمہ مریم محمود صاحبہ کو 2ہزار روپے+ ایوارڈ۔محمد حذیفہ صاحب کو 2ہزار روپے+ ایوارڈ دیا گیا۔

 

 

”معماروطن ایوارڈ ”

 

ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب۔ امجد اسلام امجدصاحب۔تسنیم جعفری صاحبہ۔شیخ فرید صاحب۔پروفیسر اسحق وردگ صاحب۔ریاض احمد قادری صاحب۔عبداللہ نظامی صاحب کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف پرمعماروطن ایوارڈ پیش کیاگیا۔

 

 

”تسنیم جعفری ایوارڈ ”

 

گزشتہ سال 2019میں شائع ہونے والی بہترین کتابوں پر تسنیم جعفری ایوارڈ جو ایک لاکھ روپے کا انعام تھا جو کہ اول انعام محمد نوید مرزا کی کتاب،لوح و قلم،کو25ہزار روپے +ایوارڈ۔شجاعت علی راہی کی کتاب،ماں، کو بھی 25ہزار روپے+ ایوارڈ مشترکہ طور پر دیا گیا جبکہ دوم انعام ضیااللہ محسن کی شاعری کی کتاب میٹھے بول کو 30ہزار روپے +ایوارڈ۔سوم انعام پروفیسر مسرت کلانچوی کی کتاب، پھولوں بھرا راستہ، 20ہزار روپے + ایوارڈ دیا گیا۔ ”

 

 

”مقابلہ کرونا کہانی و نظم ”

 

ماہنامہ پھول کے زیر اہتمام کروائے جانے والے مقابلہ” کرونا کہانی و نظم ”، اول انعام عائشہ طارق کو 3ہزار +ایوارڈ دوم انعام غلام زہراء کو 2ہزار + ایوارڈجبکہ نظم میں اول انعام محمد ممتاز راشد کو 3ہزار+ایوارڈ۔ دوم انعام ریاض احمد قادری 2ہزار روپے+ ایوارڈ دیا گیا۔شعیب مرزا صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں

 

 

کہ انہوں نے مسلسل پانچویں سال بچوں کے معیاری ادب کی تخلیق و فروغ کے لئے شاندار کانفرنس کا انعقاد بہت احسن طریقے سے ممکن بنایا۔ بلا شبہ بچوں کے ادب کیلئے آپ کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

 

کانفرنس میں شرکت کرنا یقینا سب کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ بہت خوبصورت انداز میں کانفرنس کے تمام سیشنز منعقد ہوئے۔

 

جن میں ملک بھر سے بچوں کا معیاری ادب تخلیق کرنے والے ادیبوں اور لکھاریوں سمیت نامور شخصیات نے اظہار خیال کرنے کے علاوہ اپنے مقالہ جات پیش کیے۔

 

اکادمی ادبیات اطفال، تعمیر پاکستان پبلی کیشنز اینڈ فورم کے زیر اہتمام بچوں کے ادب کے فروغ کے لئے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس ادب اطفال 2020 پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی کے صدر شعیب مرزا صاحب اور ان کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

کہ وہ بچوں کے معیاری ادب کی تخلیق و فروغ کے لئے تسلسل کے ساتھ عالمی سطح کی کانفرنس کا اہتمام کر رہے ہیں۔بہت خوبصورت اور پروقار تقریب تھی، علم وادب کی یکجائی سے سوچ وتخیل کے نئے در وا ہوتے ہیں۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی کانفرنسوں کے انعقاد سے ہی بچوں کے ادب کے فروغ کے لئے بہتری دیکھنے میں آئی ہے لیکن ابھی بھی بچوں کے معیاری ادب خاص طور پر سائنسی ادب کی تخلیق و فروغ کی اشد ضرورت ہے۔

 

یہ کٹھن کام کسی بھی طرح حکومت کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں،حکومت اگر بچوں کے ادب لکھنے والے ادیبوں اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے ادبی رسائل و جرائد کو اشتہارات فراہم کرے تو اس حوالے سے جلد بہتری دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

 

میری ایک درخواست یہ بھی ہے کہ بچوں کے ادیبوں کے لئے الگ سے صدارتی ایوارڈ ہونا چاہئے۔

تقریب کے آخر میں مہمانوں کو یاد گاری شیلڈز اور بچوں کے ادب میں نمایاں خدمات پر ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔جبکہ کانفرنس میں شرکت کرنے تمام معززمہمانوں کو خوبصورت تحائف،بیگ،کتب بچوں کے رسائل اور سرٹیفکیٹ دئیے گئے۔

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

کانفرنس میں شریک تمام شرکاء کے لیے صبح ناشتہ ہائی ٹی،دوپہر کو پرتکلف کھانے کا اہتمام کیاگیا تھا جبکہ شام5بجے بھی ہائی ٹی ودیگر لوازمات کا انتظام تھا۔

 

کانفرنس میں بچوں کے ادیبوں کے علاوہ سینئر ادیبوں، کالم نگاروں اور اہم شخصیات نے بھی شرکت کی

 

ان میں حفیظ چودھری،ناصر محمود بیگ،مدثر سبحانی،اعجاز احمد لودھی،محمد فہیم عالم،اسامہ قاسم، نعیم اختر ربانی،حافظ عثمان معاویہ،قاسم سرویا،نعمان صابری،ضیاء اللہ محسن،اقبال سحر، ممتاز راشد،، حامد ریاض ڈوگر، حاجی لطیف کھوکھر، ڈاکٹر طارق ریاض، اعجاز گیلانی، عقیل انجم اعوان، افتخار خان، ایم آر شاہد، حسیب اعجاز عاشر، مظہر چودھری،شہزاد اسلم راجہ،شہزاد عاطر،محمود احمد،ڈاکٹر تنویر سرور،وسیم عباس،محمد توصیف ملک،چوہدری محمد اویس سکندر،اسعد نقوی، پروفیسر اجمل،نادر کھوکھر،ایم ایم علی،عادل گلزار،مہر اشتیاق،علی رضا رحمانی،تبسم طاہر درانی، عمران سرور جبی،فرحان اشرف،رانا محمد شاہد، اعجاز احمد نواب،علی رضا، عابد قادری،کاشف حباب،غلام زہراء،تہذین طاہر، سدرہ امبرین یونس،مریم چودھری،حافظہ مبشرہزہرہ،ستارہ آمین کومل،عمارہ کنول،نمرہ ملک،دیا خان بلوچ،علینہ ارشد،فریحہ احمد،نایاب جیلانی،جیا راجپوت،سدرہ گل مہک،نوین روما،شباہت قمر،عطرت بتول،مریم محمود،فرح محمود،عائشہ جمشید،فلک زاہد،فاطمہ شیروانی، اوربندہ ناچیزراقم الحروف(اختر سردار چودھری) ودیگر شامل تھے۔

 

 

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

آخر میں آپ سب علم دوست،ادب دوستوں سے دعا کی درخواست ہے کہ محمد شعیب مرزا صاحب اور ان کے ساتھ اس کانفرنس کے حوالے سے دن رات ایک کر دینے والی ٹیم اور معاونین کے لیے دعا کریں

 

اکادمی ادبیات اطفال اور تعمیر پاکستان فورم کے اشتراک سے پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس تحریر: اختر سردار چودھری

کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح بچوں کے ادیبوں کی فلاح وبہبو، تعمیر و ترقی اور ترویج کے لیے ایسی ہی کانفرنسز منعقد کرتے رہیں۔اللہ ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔اللہ پاک آپ سب کو سلامت تا قیامت قائم رکھے۔ آمین

 

٭……٭……٭

اپنی رائے کا اظہار کریں