نوجوان نسل کی بے راہ روی،پر دے کا غلط استعمال تحریر:فوزیہ سعید

akhtarsardar.com

لمحہ فکریہ! آج میں جس موضوع کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں۔وہ بہت ہی اہم ہے۔ہماری نوجوان نسل کن راہوں پہ چل رہی ہے۔ اس کی خبر والدین کے علاوہ استادوں اور ان کے دوستوں کو ہی نہیں۔ حکومت کو بھی ہونی چاہیے۔تاکہ اس کا سد باب کیا جا سکے۔کسی دن آپ کسی پارک میں سیر کرنے چلے جائیں۔ باغ جناح،ریس کورس پارک،علامہ اقبال پاک وغیرہ۔تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔کہ میری بات کہاں تک سچ ہے۔ ہماری یوتھ کن راہوں پہ چل رہی ہے۔

نوجوان لڑکیاں باقاعدہ نقاب اور برقع اوڑھ کر پارکوں میں جگہ جگہ نوجوان لڑکوں کے ساتھ نظر آئیں گی۔ میری اس نوجوان نسل خاص طور پر لڑکیوں سے گزارش ہے۔کسی اور کا نہ سہی۔اپنا تو خیال کریں۔اپنے والدین۔دوستوں۔استادوں۔سوسائٹی اور اپنے مذہب کا خیال کرنا چاہیے۔میرے خیال میں شرم و خیاء آنکھوں میں نہ ہو تو نقاب اور پردے کا کوئی فائدہ نہیں۔ نقاب اور پردہ تو آجکل فیشن بن گیا ہے۔ جو صرف اپنی سیفٹی اور سکیورٹی سمجھ کر پہن رہی ہیں۔ تاکہ ان کا باپ، بھائی۔ چچا،تایا،ماموں یا کوئی اور رشتہ دار ان کو پہچان نہ لے۔

یہ اسلامی پردے کی توہین ہے۔بلکہ ہماری رسم ورواج،روایات،کلچرکی بھی توہین ہے۔ہماری روایات میں بھی اس کی گنجائیش نہیں ہے۔
بطور ماہر نفسیات میری ان نوجوانوں سے گزارش ہے۔اگر کوئی اپنا رشتہ دار آپ کو نہ بھی دیکھے تو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔آپ کا ضمیر آپ کو ضرور ملامت کرے گا۔آپ ڈیپریشن کا شکار ہو جائیں گے۔کب تک اس طرح خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔ تناؤ اور دباؤ کا شکار رہیں گے۔ کیونکہ جو کام ہم اپنے مذہب کے خلاف،روایات کے خلاف کرتے ہیں۔ اطمینان اور سکون سے خالی ہوتا ہے۔ وہی ہم کو نفسیاتی مریض بناتا ہے۔

ہم اپنی طرف سے والدین۔اساتذہ کرام۔دوستوں کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ اصل میں خود کو دھوکہ دیتے ہیں۔ہم اپنے رشتہ داروں۔ والدین،دوستوں کو اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ ان سب سے بے ایمانی کرتے ہیں۔یہ بھی اخلاقی کرپشن کی ایک قسم ہے۔جس کی وجہ سے ایسے جھوٹے چہروں سے معصومیت اڑ جاتی ہے۔ وہ کم عمری میں بھی مکار اور چالاک لگتے ہیں۔بے سکونی کی وجہ سے مطمعین نہیں ہوتے۔آپ جانے انجانے میں کتنے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ جن میں جو لوگ شامل ہیں۔ مثلاً

والدین
دوست
رشتہ دار
اساتذہ
معاشرہ

خدارا کچھ تو خیال کریں۔جس عمر کے خصے میں ہیں۔ اگر آپ طالب علم ہیں تو تعلیم پہ توجہ دیں۔ علم حاصل کریں۔اپنی زندگی کا کوئی مقصد بنائیں۔ اس کو حاصل کرنے کے لئے تن من کی بازی لگا دیں۔فالتووقت درکار ہے۔ تو مثبت کاموں میں لگائیں۔

اپنے آپ کو خود ضائع نہ کریں۔غلط کام کا نتیجہ غلط ہی ہوتا ہے۔خود کو مثبت کاموں میں مصروف رکھیں۔ عبادت کریں۔ سکون بھی ملے گا۔ اور صحت مند بھی رہیں گے۔ اچھے اچھے شوق اپنائیں۔ مثال کے طور پہ۔ لکھنا۔ پڑھنا۔ تصویریں بنانا۔باغبانی کرنا۔ ڈریءؤنگ سیکھنا۔گھر کے کام کرنا۔تقریری مقابلوں میں حصہ لینا۔ نعت خوانی کرنا۔ ترانے پڑھنا۔کھیلنا۔تعلیمی اور فنی سرگرمیوں میں حصہ لینا۔اور کسی NGO کے ساتھ مل کر سوشل ورک کیا جا سکتا ہے۔ورنہ کوئی گیم کھیلنا شروع کر دیں۔ اپنا وقت اور انرجی ضائع نہ کریں۔

اپنی آپ کو ہمیشہ مثبت کاموں میں مصروف رکھیں۔ تاکہ نہ وقت بچے۔ نہ بیکار کاموں میں ضائع ہو۔نہ منفی رجحان بڑھے۔میں تو اپنا فرض پورا کر رہی ہوں یہ مضمون لکھ کر مگر والدین کو بھی اپنے بچوں پہ کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو بھی پارکوں میں پابندی لگانی ہوگی۔ جس میں جو جوڑے مشکوک نظر آیئں۔ ان کو واچ کرنا اور ان کو فائن کرنا چاہیے۔ تا کہ برائی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔میرا ایک سوال یی بھی ہے؟ نوجوان نسل کی بے راہ روی کا اصلی ذمہ دار کون کے؟

1۔والدین؟
2۔حکومت؟
3۔دوست؟
4۔ٹی وی چینل؟
5۔رسم ورواج؟
6۔معاشرہ؟
7۔اساتذہ؟
8۔یا خود نوجوان؟

حکومت بھی کسی نہ کسی حد تک ذمہ دار ضرور ہے۔ پارکوں میں اس طرح سر عام لڑکے او ر لڑکیاں یونیفارم کے ساتھ آتے ہیں۔ تو ہر ذی شعور کی معلوم ہو جاتا ہے۔ کہ نہ تو یہ بہن بھائی ہیں۔ نہ ہی یہ میاں بیوی۔ تو اس طرح بڑوں کے بغیر آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اگر کوئی فحش حرکات کرتے پکڑا جائے تو اس کو جرمانہ بھی ہونا چاہیے۔ پھر ہو سکتا ہے۔ اس چیز پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے۔ ان لڑکے لڑکیوں کو والدین، اساتذہ کے ساتھ آنے دیا جائے۔ حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنی ٹی وی چینلزکی بھرمار کو بھی کنٹرول کرے۔

ان پہ چلنے والے پروگراموں کے باقاعدہ سنسر کر کے پیش کیا جائے۔جب سارا دن ٹی وی والے الٹا یوتھ کی جنسی موٹیویشن کریں گے تو بچے تو اثر انداز ہوں گے۔ٹی وی چینلز پر انڈین اور یورپی پروگراموں کی بھرمار ہماری نئی نسل کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔

اس چیز کے ذمہ دار کسی حد تک والدین خود ہیں۔ والدین کی تربییت اگر ٹھیک ہو تو بچوں اور بچییوں کو معلوم ہوتا ہے۔ کس جگہ جانا ہے۔ کس جگہ نہیں جانا۔والدین کی توجہ اپنی اولاد پہ کم اور ان کے لئے پیسے کمانے پہ زیادہ ہوتی ہے۔ والدین کی زیادہ سختی یا زیادہ نرمی دونوں بچوں کو باغی بنا دیتی ہے۔

اساتذہ کا بھی کسی حد تک اس میں رول ہے۔ خاص طور پہ دینی مدارس میں اتنی گھٹن ہے کہ ہر زندہ انسان کو جینے کے لئے آکسیجن چاہیے۔ نوجوانوں کو گائیڈ کرنے میں استاد کا رول بہت اہم ہے۔ یہاں تو اکثر استاد اپنی احساس کمتری کا بدلہ اپنے شاگردوں سے لے رہے ہیں۔کسی زمانے میں کہا جاتا تھا۔ والدین آپ کو زمین پے لاتے ہیں۔ اور استاد پھر سے آسمان تک لے جاتے ہیں۔ کدھر ہیں و ہ استاد؟
نوجوان نسل بے راہ روی کی طرف چل پڑی ہے۔ مگر کسی استاد کو کوئی فکر نہیں ہے۔کیوں؟

اسی طرح کچھ حق دوستوں کا بھی ہے۔ وہ اپنے دوست کی راہنمائی کریں۔اچھے اور مثبت کاموں میں مصروف رہیں۔آجکل تو لڑکیاں فخر سے بتاتی ہیں۔ ہمارا فلاں بوائے فرینڈ ہے۔بلکہ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ ایک فیشن بن چکا ہے۔کسی زمانے میں کبھی کوئی یہ بات سرعام نہیں کرتا تھا۔ اس کامطلب ہے کسی حد تک ہمارا معاشرہ بھی ذمہ دار ہے۔ جب بری بات کو اچھی سمجھ لیا جائے۔ تو بگاڑ اس معاشرے کے رسم و رواج کا بھی ہے۔ہم یورپ کی نقالی میں اتنا آگے نقل رہے ہیں کی واپسی کی راہیں محدود ہو رہی ہیں۔اپنی روایات سے باغی قوم کبھی پر سکون نہیں ہو سکتی۔میرے خیال میں ہماری نوجوان نسل خود بھی اس کی ذمہ دار ہے۔خاص طور پہ لڑکیاں۔ کیونکہ آج کے موضوع میں لڑکیوں کو فوکس کیا گیا ہے۔ کسی بھی خرابی میں 80% ہاتھ لڑکی کا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پہ اگر لڑکا بلا رہا ہے کسی پارک میں الگ سے ملنے کو تو اکثر چل کے لڑکی ہی جاتی ہے۔ اور ادھر کچھ الٹا سیدھا ہو گیا تو پھر ذمہ مرد کا لگا دیا جاتا ہے۔ جب کہ لڑکی کو اتنا تو معلوم جانے سے پہلے بھی ہوتا ہے۔ کہ ادھر تنہائی میں۔ تنہائی میں بلا کر کوئی قرآن شریف تو پڑھائے گا نہیں۔ نہ کو ئی حدیث سنائے گا۔ظاہر ی بات ہے۔ لڑکا بلا رہا ہے۔ تو اپنی تسکین کے لئے۔تویہاں قصور جانے والی کا زیادہ ہے۔اس میں عقل ہونی چاہیئے۔کہ وہ نہ جائے۔لڑکا اس کو گھر سے اٹھانے تو آیا نہیں۔مگر افسوس ہم لڑکیوں کو اپنی اہمیت خود پتہ نہیں۔ اپنی عزت خود نہیں کی تو کوئی دوسرا کیوں کرے گا۔پھر جب سب سے زیادہ قیمتی چیز اپنی عزت کی خفاظت نہ کر سکی تو خاک کی چالاک اور ہوشیار ہوئی۔ مگر اس نئی نسل کو جتنا بھی سمجھا لو۔

کوئی اثر نہیں ہوتا۔ خدود سے آگے جا چکی ہے۔ اور جا رہی ہے۔ اور خد سے بڑھی ہوئی کوئی بھی چیز نہ تو مذہب میں جائز ہے۔ نہ ہی معاشرے میں۔اگر شادی سے پہلے ہی محبت کے نام پہ تعلقات قائم کر لئے ہیں۔ تو ایسا ہی ہے۔ جیسے افطاری سے پہلے ہی روزہ توڑ لیا ہو۔
اس طرح نہ تو روزہ کھولنے کا مزا آتا ہے اور نہ ہی ثواب ملے گا۔ الٹا نفسیاتی مریض بن جائے گی۔کیونکہ جب بھی کوئی چیز حدود سے تجاوز کر جائے گی۔ تو آپ کا ضمیر ملامت کرے گا۔آپ کے اپنے اند ر کی آواز ایک دن جگاتی ہے۔ضمیر آپ کو ملامت کرتا ہے۔ بتاتا ہے آپ کہاں غلطی پر تھے۔پھر وہ بہت پچھتا تا ہے۔لیکن اس وقت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

انسان خود کی عدالت میں مجرم بن کے کھڑا ہوتا ہے۔نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔وہ خود کو معاشرے کے لئے روگ سمجھتا ہے۔بوجھ سمجھتا ہے۔ جب کوئی بھی خود کو مجرم مان لے تو سزا بھی اپنے لئے خود ہی تجویز کر لیتا ہے۔ جو بعض اوقات خودکشی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ اس طرح ایک ہنسی مسکراتی زندگی تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔

akhtarsardar.com

akhtarsardar.com

حل:
مندرجہ زیل طریقوں میں اس کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

1۔حکومت کی ذمہ داری ہے۔زیادہ سے زیادہ کھیل کے میدان اور یوتھ کلب بنائے جائیں۔جہاں یوتھ کی ایکسٹرا انرجی کو استعمال کیا جائے۔

2۔ٹی وی چینلز پہ سارا سارا دن نہ تو Sex Motivationalپروگرام نشر کئے جائیں اور نہ ہی سارا سارا دن قرآن خوانی کی جائے۔ اچھے اور معلوماتی۔ Moral کو ہائی کرنے والے پروگرام نشر کئے جائیں۔ جو یوتھ کو سیدھی راہ کی طرف لے کے جایئں۔

3۔والدین کو چاہیے۔ اپنے بچوں پہ عقاب کی نظر رکھیں۔ ان کی مصروفیات کیا ہیں۔کس ٹایم کیا کرتے ہیں۔ کہاں جاتے ہیں۔اس کی خبر رکھیں۔

4۔استادوں کو بھی اپنے شاگردوں پہ کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کی تعلیمی سر گرمیوں کے علاوہ۔ اخلاقی درس دینا بھی ان کا کام ہے۔اگر ان کو کچھ غلط ہوتا نظر آئے تو ان کا فرض ہو والدین کو بر وقت مطلع کریں۔

5۔ دوستوں کو بھی اپنے دوستوں کا خیال رکھنا ہو گا۔ ان کی کسی غلط اور فضول دلچسپی میں کبھی مدد نہ کریں۔ بلکہ ان کو سمجھانے کی کوشش کریں۔

6۔خاص طور پہ عورتوں کو اپنا خیال خود رکھنا ہو گا۔

میری اپنی سب چھوٹی بہنوں سے گزارش ہے۔ کہ لڑکا اور لڑکی برابر ہیں۔ مگر لڑکی کی عزت لڑکے سے زیادہ نازک ہوتی ہے۔ اس لئے یاد رکھیں۔ لڑکے کی غلطی شاید چھپ سکتی ہے۔ اور معاشرہ اس کو معاف بھی کر دیتا ہے۔ مگر عورت کی معصومیت اگر چلی جائے تو اس کے پاس کچھ نہیں بچتا۔اس کو نہ گھر والے قبول کرتے ہیں۔ نہ ہی ہماری سوسائٹی۔اسکا گناہ سفید چادر پہ لگے داغ کی طرح نمایاں نظر آتا ہے۔ جو قابل معافی نہیں ہے۔ وہ الٹا خود ہی پریشانی کا سبب بنتی ہے۔

اپنی توجہ تعلیم پہ دیں۔ اور اپنے والدین کی عزت کو ان برقعوں میں لپیٹ کر پارکوں میں مت اچھالیں۔ ایک لمحے کے لئے سوچیں جو آپ کر رہی ہیں۔ اگر کل کو آپ کی بیٹی ایسا کرے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ ایسے ہی آپ کے والدین اور بھائی بہنوں کو برا لگتا ہے۔

کوئی ان کی عزت کے ساتھ کھیلے۔اور جس مرد کے لئے آپ والدین کے خلاف جا رہی ہیں۔ کیا گارنٹی ہے وہ کل کو آپ کی عزت بھی کرے گا۔ یا اپنا مطلب نکال کر رفوچکر ہو جائے گا۔ اگر وہ آپ کو اپنا بھی لے تو کل کو آپ کو بد کردار ہونے کا طعنہ بھی خود ہی دے گا۔ پھر تم کدھر جاؤ گی؟

نوجوان نسل ہمارا مستقبل ہیں۔ اور تم اس کل کے مستقبل کی ماں بننے والی ہو۔ بتاؤ اس قوم کا کل کیسا ہو گا۔ جس کی ماں بد کردار ہوگی۔ہمارا مذہب، ہمارا معاشرہ، ہماری روایات۔ کس کس کو جواب دو گی؟وہ اچھی قوم کہاں سے آئے گی؟ جس کی پیشن گوئی نپولین بونا پارٹ نے کی۔ جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا۔ جو ایک مسلم معاشرے کی بنیاد تھی۔پاکستان کا متقبل کیسا ہو گا؟ یہ سوچنا ضرور۔

نفسیاتی تجزیہ:

فکر کی بات یہ ہے کہ نوجوان نسل کو کیسے راہ راست پہ لایا جائے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ نوجوان نسل ایسا کیوں کر رہی ہے؟ تجزیہ کے مطابق بچیوں کو گھروں میں توجہ کم ملتی ہے۔ ان کی کامیابی کو سراہا کم جاتا ہے۔ اس لئے باہر جو ان کی تعریف کرتا ہے۔ وہ اس کے سحر میں آجاتی ہیں۔والدین۔ اساتذہ۔ دوست ایک ٹرائی اینگل ہے۔ان کو ایک دوسرے سے انٹر ریلیٹڈ ہونا پڑے گا۔ تاکہ برائی چھپی نہ رہے۔کھل کے سامنے آئے۔

اور اس طرح جوان نسل کو برائی اور نشے جیسی لعنت سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ان کو توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔میانہ روی کے ساتھ۔ نہ سختی نہ نرمی۔یہ ہی اسلام کا بھی اصول ہے۔ہم کو اپنا اپنے وطن کا مستقبل بچانا ہوگا۔ جوایک ماں کی شکل میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ ایک بات اور بھی اس مسئلے کا حل ہو سکتی ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی بر وقت شادی کرانا بھی ضروری ہے۔ جو جاب اور کیرئر کے انتظار میں لیٹ ہو رہی ہیں۔ ماں کو بچانا گویا پاکستان کا مستقبل بچانا ہے۔اللہ پاکستان کو ہر آفت سے محفوظ رکھے۔آمین۔

akhtarsardar.com

akhtarsardar.com

         رائٹر: فوزیہ سعید (ماہر نفسیات)
ہلال احمرپاکستان۔ پنجاب برانچ لاہور۔
[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں