- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

آہ۔۔۔ ڈاکٹر راحت اندوری اختر سردار چودھری

جنازے پر مرے لکھ دینا یارو محبت کرنے والا جا رہا ہے!

13

جب سے سوشل میڈیا کا زمانہ آیا ہے۔تب سے بڑے بڑے نام وراور حقیقی ادیب دب کر ر ہ گئے ہیں۔اس پر ادب دوست احباب کو سوچنا چاہیے۔نئی ٹیکنالوجی نے ایک سحر طاری کر دیا ہے۔ 

 

سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب معیار و مقدار کی بھی قدر نہیں رہی۔بیشتر شعراء کی مقبولیت میں کمی آنے لگی ہے۔کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے اب مشاہروں کا زمانہ ختم ہو چکا ہے

 

وہ شاعر جو شاعری کی الف بے سے بھی واقف نہیں صاحب دیوان بن بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، آج کل دو ٹکے کے لوگ بھی خود کو بڑا شاعر بنا کے پیش کرتے ہیں۔اس دور میں بھی ہم نے دیکھا کہ راحت اندوری کی مقبولیت میں کمی آنے کی بجائے بڑھتی چلی گئی۔

 

- Advertisement -

اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ زمانے کے ساتھ چلے،انہوں نے جو اس دور میں غزلیں کہیں یہ ان کا ہی کام تھا۔ہم بر ملا کہ سکتے ہیں کہ راحت اندوری ہر زمانے کا شاعر ہے۔اس کے علاوہ ہم دوسری طرف دیکھتے ہیں۔ راحت اندوری پاک وہند میں یکساں مقبول تھے۔بہت سے احباب کو تو اس کا علم ہی نہیں تھا کہ وہ پاکستانی ہیں یا ہندوستانی ہیں۔کچھ لوگ تو انہیں نام کی وجہ ہندو اور کچھ مسلمان سمجھتے تھے۔

 

ان کی شاعری کا رنگ سب سے جدا لیکن سب میں بے حد مقبول تھا۔اصل میں ان کی شاعری سچ کی شاعری ہے۔سچ اپنا آپ منوا لیتا ہے۔ان کی شاعری آپ بیتی تو تھی ہی زیادہ جگ بیتی تھی،سب کے دلوں اور اردو کی توانا آواز تھی۔

 

 

یہ ہی وجہ ہے کہ سمندر پار تک اس کی دھوم تھی۔راحت اندوری پاکستان،امریکہ، آسٹریلیا، کویت،متحدہ عرب امارات، انگلینڈ و دیگر کئی ممالک میں بے پناہ مقبولیت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔محبت کرنے والے اس جہاں سے ایک ایک کر کے جا رہے ہیں۔نوول کرونا نے بھی اکثر ان کو ہی شکار کیا جو محبت کے لیے جیتے تھے اور محبت کا پیغام پھیلاتے تھے۔نفرت بانٹنے والے،پھیلانے والے اس موذی کرونا سے محفوظ ہیں۔

 

 

جنازے پر مرے لکھ دینا یارو
محبت کرنے والا جا رہا ہے

 

 

ملک میں ہونے والے لاک ڈاؤن سے وہ بہت پریشان تھے۔انہیں اپنی بیماری سے زیادہ مساجد کی بے رونقی کا صدمہ تھا۔ان کا آخری شعر اس کی عکاسی کرتا ہے۔

 

خاموشی اوڑھ کے سوئی ہیں مسجدیں ساری
کسی کی موت کا اعلان بھی نہیں ہوتا

 

اس کرونا نے دنیا کو بدل کر تو رکھ ہی دیا ہے بہت سے پیاروں کو بھی جدا کر لیا ہے۔ان کی وفات کی خبریں جب نشر ہونا شروع ہوئیں تو پوری دنیا میں اردو ادب سے محبت کرنے والے صدمے سے دوچار ہوئے۔

 

خبروں میں بتایا گیا کہ ”راحت اللہ قریشی عرف راحت اندوری بن رفعت اللہ قریشی 11اگست 2020ء بروز منگل بوقت پانج بجے شام موت سے ہار مان گئے، انہوں نے اربندو ہسپتال اندور مدھیہ پردیش میں آخری سانس لی، وہ قلب کے مریض تھے اور ذیابیطس (شوگر) نے ان کے قوی کو پہلے سے نڈھال کر رکھا تھا، کرو ناکا بہانہ ہو گیااور دو روز میں سب کچھ تمام ہوگیا۔

 

انہوں نے کروناپازیٹو ہونے کی اطلاع خود ہی اپنے ٹیوئٹر پر دی تھی، کرونا سے متاثر ہونے کی وجہ سے ان کا جنازہ ہسپتال سے ان کے گھر نہیں لے جایا جا سکا اور اسی دن رات کے ساڑھے نو بجے اندور میں اے بی روڈ واقع چھوٹی خزرانی قبرستان میں جنازہ پڑھنے والوں کی محدود تعداد کی موجودگی میں ان کی تدفین عمل میں آئی، پسماندگان میں انہوں نے اہلیہ سیما راحت، تین بیٹے فیصل راحت، ستلج راحت،سمیر راحت اور ایک بیٹی شبلی عرفان کو چھوڑا۔ وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔

 

- Advertisement -

دو گز ہی سہی یہ میری ملکیت تو ہے
اے موت تو نے مجھے زمیندار کر دیا

 

 

راحت اندوری کا اصل نام راحت اللہ قریشی تھا۔ قلمی نام راحت اندوری تھا۔ ان کے والد کا نام رفعت اللہ قریشی تھا۔ اندور میں یکم جنوری 1950ء بروز اتوار پیدا ہوئے۔

 

ان کے والد کپڑے کے ایک کارخانے میں کام کرتے تھے،ہائر سکنڈری تک کی تعلیم اندور کے نوتن اسکول سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اسلامیہ کریمیہ کالج سے 1973ء میں بی اے، برکت اللہ یونیورسٹی سے 1975ء میں ایم اے، اور مدھیہ پردیش کی بھوچ اوپن یونیورسٹی سے 1985ء میں ”اردو میں مشاعرہ” کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی،تدریسی زندگی کا آغازآئی کے کالج اندور سیئ کیا۔1968ء میں ڈاکٹر راحت اندوری نے شاعری شروع کی۔

 

 

ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح
ہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرح

 

 

1986ء کو ان کی شادی سیما نامی خاتون سے ہوئی،جو بعد میں سیما راحت سے مشہور ہوئیں۔1988ء میں انہوں نے مشہور شاعرہ انجم رہبر سے نکاح کرلیا ان کے بطن سے ایک لڑکا سمیر راحت پیدا ہوئے۔لیکن یہ ازدواجی زندگی ان کو راس نہیں آئی۔1993ء میں یہ رشتہ طلاق پر ختم ہوا۔بچوں کی جدائی کا صمہ انہیں عمر بھر رہا۔ان کی مشہور کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔دھوپ دھوپ، میرے بعد، پانچواں درویش، رت بدل گئی، ناراض، موجود، چاند پاگل ہے، دو قدم اور سہی۔

 

مرحوم راحت اندوری عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ان کی نعت کے یہ اشعار دیکھیں۔

 

 

اندھیرے پاؤں نہ پھیلا سکیں زمانے میں
درود پڑھیے کہ ہر سمت روشنی ہو جائے
گزرتا کیسے ہے ایک ایک پل مدینے میں
اگر سنانے پہ آؤں تو اِک صدی ہو جائے

 

 

بے شک اندوری صاحب نے بھی کروڑوں لوگوں کے دل جیتے ہیں۔ان کے درجنوں اشعار زبان زد عام ہیں۔ان کا ہر شعر کا رنگ الگ ہے اور اپنے اندر معنی کا ایک جہاں لیے ہوئے ہیں۔اُن کی شاعری کے زیادہ تر موضوعات سماجی،سیاسی اور عوامی مسائل پر محیط ہیں۔

 

سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا؟

کچھ پتہ کرو چناؤ ہے کیا؟

 

 

ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں
سب کی پگڑی کو ہواؤں میں اچھالا جائے
سوچتا ہوں کوئی اخبار نکالا جائے
آنکھوں میں پانی رکھو ہونٹوں پر چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبں بہت ساری رکھو

 

 

ڈاکٹر راحت اندوری بھارتی فلموں کے لئے گیت بھی لکھتے رہے، چالیس سے زائد فلموں میں اُن کے گانے مختلف اداکاروں پر فلمائے گئے اور مقبول ہوئے۔جن میں چند مشہور فلمیں درج ذیل ہیں۔منا بھائی ایم بی بی ایس،قریب، گھاتک،عشق آشیاں، مرڈر،غدار وغیرہ

 

 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.